ادائیں، نخرے اور لبھانے میں ایک جانور کو ملکہ حاصل ہے | سائنس اور ماحول | DW | 23.11.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ادائیں، نخرے اور لبھانے میں ایک جانور کو ملکہ حاصل ہے

زولوجی یا علم الحیوانیات کے ماہرین بندرکی ایک عام قسم کی مادہ میں لبھانے اور اداؤں کا جائزہ لے کر حیران رہ گئے ہیں۔ عشوے، غمزہ اور لبھانے والی بندریا کا تعلق سرمئی رنگت کے چھوٹے بندروں کی ایک نسل سے ہے۔

محققین کے نزدیک اس بندری کا لبھانے کا رویہ حیران کن ہے۔ سرمئی رنگت والی چھوٹے بندروں کی نسل کی مادائیں دوسرے بندروں کے ساتھ لڑائی کے دوران اپنے نر بندروں کو لبھانے کے ساتھ ساتھ اُن کا حوصلہ بھی بڑھاتی ہیں۔ وہ ایسے جنگی حالات میں اپنی جسمانی حرکتوں سے اپنے ساتھی نر بندروں کو جنسی لذت کی ترغیب بھی دیتی ہیں۔

محققین نے یہ بھی محسوس کیا کہ اِس نسل کی مادہ بندری اُن بندروں کو نظرانداز کر دیتی ہیں جنہوں نے لڑائی میں کوئی اہم کردار ادا نہیں کیا ہو اور پیچھے پیچھے رہے ہوں۔ ایسے بندر جب اُن کے قریب جانے کی کوشش کرتے ہیں تو اُن پر دانت سکیڑتے ہوئے غصے کا اظہار کرنے کے علاوہ کاٹنے کو بھی آگے بڑھتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جھڑپ میں کمزوری دکھانے والے نر بندروں کا سماجی میل ملاپ بھی خراب ہو کر رہ جاتا ہے۔

Japanmakak (Getty Images)

بندروں کی مادہ غیرمعمولی طور پر پھوتیلی خیال کی جاتی ہے

لڑائی کے بعد مادہ بندریاں اُن بندروں کی خاطر مدارت کرتی پھرتی ہیں، جنہوں نے لڑائی میں بھرپور کردار ادا کیا ہوتا ہے۔ وہ اُنہیں سہلانے کے ساتھ اُن کو ادائیں اور نخرے بھی دکھاتی ہیں۔ اس میں اُن کا آگے آگے بھاگنا اور مادہ بندر کے ساتھ چھیڑخانی کو بھی دیکھا گیا۔ بندری میں یہ رویہ بھی دیکھا گیا کہ وہ جنگ جیتنے کے بعد ہارنے والے بندروں کو تنگ کرتے ہوئے اپنے نر کے ساتھ جنسی ملاپ بھی کرتی ہے۔

جنوبی افریقہ اور سوئٹزرلینڈر کے ریسرچر کی مشترکہ ٹیم نے اس تحقیق  کو مکمل کیا ہے۔ یہ ٹیم دو برس تک جنوبی افریقہ کے ایک مخصوص علاقے میں ان سرمئی رنگت والے بندروں کے رویوں کا جائزہ لیتی رہی ہے۔ اس طویل مشاہداتی عمل پر مشتمل رپورٹ کا اجرا آج بدھ کے روز کیا گیا ہے۔ اس قسم کے بندروں میں نر کی جسامت مادہ سے بڑی ہوتی ہے۔ اسی طرح اُن کے کاٹنے والے دانت بھی بندری سے بڑے ہیں۔

 اِس رپورٹ کے مطابق بندروں کے گروپوں میں لڑائی کی بڑی وجوہات کم و بیش وہی ہیں جو انسان حیات کے ابتدائی دور میں تھیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ بندروں کی لڑائی نوجوان بندریوں کے علاوہ خوراک کے حصول پر ہوتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بندروں کے اِس گروہ میں بندریوں کی جانی رغبت اور جارحانہ رویہ اُن کا جبلتی کردار ہے۔