اب شمسی توانائی خلاء میں ہی پیدا کی جائے گی | سائنس اور ماحول | DW | 06.09.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

اب شمسی توانائی خلاء میں ہی پیدا کی جائے گی

جاپان نے بجلی کے کھمبوں اور تاروں سے نجات حاصل کرنے کا نیا طریقہ تلاش کیا ہے۔ اب شمسی توانائی خلاء میں ہی پیدا کی جا سکے گی اور اسے بغیر کسی تار کے زمین تک لایا جائے گا۔ انسانی تاریخ میں یہ ایک انقلابی طریقہ ہوگا۔

جاپان کے سائنس دانوں کے مطابق انہوں نے خلاء میں شمسی توانائی پیدا کرنے اور اسے زمین تک لانے کا نظام بنانے کے لیے اپنی کوششیں تیز تر کر دی ہیں۔ اس نظام کو کامیاب بنانے کے لیے ایک تاریخی تجربہ سائنس دانوں نے گزشتہ برس ہی کر لیا تھا۔ اس تجربے میں سائنس دانوں نے 1.8 كلوواٹ بجلی مائیکرو ویوز کے ذریعے 55 میٹر دور بھیجی تھی۔ یہ بجلی ایک الیکٹرک کیتلی چلانے کے لیے کافی ہے۔

جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی (جاکسا) کے ایک ترجمان کا اس منصوبے کے حوالے سے کہنا تھا، ’’ہم ٹیکنالوجی کے اس راستے پر ہیں، جس پر چلتے ہوئے شمسی توانائی تو خلاء میں پیدا کی جائے گی لیکن اسے استعمال زمین پر کیا جائے گا۔‘‘

اس ادارے کے مطابق سب سے مشکل کام توانائی کو ایک جگہ پر مرکوز کرتے ہوئے ٹرانسفر کرنا ہے اور یہ کامیابی انہیں حاصل ہو چکی ہے۔ جاپان کا یہ ادارہ گزشتہ ایک عشرے سے بھی زائد عرصے سے خلائی شمسی توانائی کا نظام وضح کرنے کی کوششوں میں ہیں۔

جاکسا کے مطابق زمین کے برعکس خلاء میں شمسی توانائی پیدا کرنے کے فوائد بھی زیادہ ہیں۔ اس نئے طریقے سے موسم اور وقت کے قید کے بغیر مستقل بنیادوں پر توانائی کے حصول کو ممکن بنایا جائے گا۔ جاپانی سائنس دانوں کے مطابق ایک بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی طرح خلاء میں بڑے شمسی پینلز چھوڑے جائیں گے، جو سورج کی توانائی کو جمع کرتے ہوئے اسے زمین کے ایک مخصوص حصے میں ٹرانسفر کر دیا کریں گے۔ جاکسا کا اس حوالے سے کہنا ہے، ’’شمسی توانائی جمع کرنے والے پینلز کے ساتھ اینٹینے ہوں گے اور یہ زمین سے 36 ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر رہیں گے۔‘‘

تاہم جاپانی سائنس دانوں کے مطابق ابھی یہ نظام مکمل طور پر تیار کرنے میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق سن دو ہزار چالیس تک خلاء سے وائرلیس توانائی زمین تک پہنچائی جائے گی۔

خلاء میں شمسی توانائی پیدا کرنے کا خیال سب سے پہلے ساٹھ کی دہائی میں امریکی سائنس دانوں نے پیش کیا تھا لیکن جاپان نے باقاعدہ طور پر اس منصوبے میں سرمایہ کاری سن دو ہزار نو میں شروع کی تھی۔