آپ کی فیس بک پر گفت گو کوئی ’سن‘ رہا تھا | معاشرہ | DW | 14.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

آپ کی فیس بک پر گفت گو کوئی ’سن‘ رہا تھا

امریکی میڈیا کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ فیس بک نے آڈیو کو تحریر میں بدلنے کے لیے جاری ایک ٹیسٹ کے لیے کنٹریکٹرز کو اپنے صارفین کی آڈیو گفت گو تک رسائی دے دی۔ فیس بک کے مطابق اس عمل میں ایک ہفتہ قبل ’وقفہ‘ کر دیا گیا ہے۔

امریکی میڈیا ادارے بلومبرگ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فیس بک کے لیے کام کرنے والے بعض کنٹریکٹرز نے بھی محسوس کیا کہ ان کا کام 'غیراخلاقی‘ تھا۔

فیس بک پر صوتی پیغامات کو تحریری شکل میں لانے کے لیے ایک ٹُول کی آزمائش کے لیے بیرونی کنٹریکٹرز کو صارفین کی آڈیو ریکارڈنگز تک رسائی دی گئی۔ بلومبرگ کے مطابق اس عمل میں فیس بک میسنجر کے صارفین کا ڈیٹا استعمال کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ فیس بک نے صارفین کے نام ظاہر کیے بغیر یہ صوتی پیغامات کیلی فورنیا میں قائم ایک کمپنی کے حوالے کیے، جہاں ملازمین نے انہیں سنا اور پھر ان پیغامات کو تحریری شکل دی۔

فیس بک کو پانچ ارب ڈالر کے جرمانے کا سامنا

فیس بک اور ٹوئٹر پر ہزاروں جعلی، ایران نواز اکاؤنٹس کا خاتمہ

اس حوالے سے فیس بک کا کہنا ہے کہ اس نے ایپل اور گوگل کی طرح صوتی پیغام کو تحریری شکل دینے کے عمل کو فی الحال روک دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صوتی پیغامات کو انسانوں کے ذریعے جانچے جانے کا یہ عمل ایک ہفتہ قبل 'روک‘ دیا گیا تھا۔

فیس بک ایک ادارے کے طور پر ایک طویل عرصے سے ان الزامات کو رد کرتا آیا ہے کہ وہ اپنے صارفین کے نجی پیغامات کو سنتا ہے تاکہ اسی گفت گو کو سامنے رکھتے ہوئے صارفین کی فیس بک اسکرین پر اشتہارات شائع کیے جائیں۔ گزشتہ برس امریکی کانگریس میں اپنی ایک پیشی کے دوران فیس بک کے سربراہ مارک زکربرگ نے ان الزامات کو رد کرتے ہوئے ایک 'سازشی نظریہ‘ قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا، ''آپ ایک سازشی نظریے کی بات کر رہے ہیں۔ یعنی آپ کے مائیکروفون میں جو کچھ کہا جا رہا ہے، ہم اشتہارات کے لیے وہ سنتے ہیں۔ نہیں، ہم ایسا نہیں کرتے۔‘‘

منگل کے روز فیس بک نے بلومبرگ کی اس رپورٹ کی تصدیق کی تاہم کہا کہ اس عمل سے صرف وہ صارفین متاثر ہوئے ہیں، جنہوں نے اپنے صوتی پیغامات کو تحریری شکل دینے کی اجازت دی تھی۔ دوسری جانب میڈیا کا الزام ہے کہ فیس بک نے یہ اجازت ہر گز نہیں لی تھی کہ وہ یہ آڈیو پیغامات کسی تیسرے فریق کو نظرثانی کے لیے دے دے گا۔ فیس بک کی پرائیویسی پالیسی میں کہا گیا ہے، ''نظام خودکار طریقے سے مواد اور کمیونیکیشن کا جائزہ لے گا، جو آپ اور دیگر لوگ مہیا کرتے ہیں۔‘‘ مگر اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ اس سے مراد صوتی پیغامات ہیں یا انسانوں کی کوئی ٹیم اسے تحریری شکل دے گی۔

ڈارکو یانکووِچ، ع ت، م م

DW.COM