آن لائن ہراساں کیے جانے کے بعد گلوکارہ نے خودکشی کر لی | معاشرہ | DW | 28.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

آن لائن ہراساں کیے جانے کے بعد گلوکارہ نے خودکشی کر لی

جنوبی کوریا کے ایک میوزک گروپ سے وابستہ ایک اور فنکارہ نے حال ہی میں خودکشی کر لی۔ تقتیش کاراس پہلو پر غور کر رہے ہیں کہ آیا اس گلوکارہ کی خودکشی سائبر ہراسگی کا نتیجہ تو نہیں۔

جنوبی کوریا میں سائبر ہراسگی کی شدت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ برس اس نوعیت کے ڈیڑھ لاکھ کے قریب واقعات پیش آئے تھے۔ پولیس کا خیال ہے کہ یہ تعداد سائبر ہراسگی کے واقعات کی اصل تعداد کا محض ایک قلیل حصہ ہے۔ اس ضمن میں عام لوگوں کے ساتھ ساتھ عوامی مقبولیت کے حامل افراد کی تربیت بھی بہت ضروری ہو گئی ہے تا کہ وہ اپنے آپ کو آن لائن حملوں سے بچا سکیں۔

حال ہی میں جنوبی کوریا میں پاپ میوزک انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی ایک اور فنکارہ نے خودکشی کر لی۔ ایک مہینے کے دوران یہ اس ملک میں کسی فنکار کی خودکشی کا دوسرا واقعہ ہے۔ پہلی خودکشی بھی ایک خاتون نے ہی کی تھی۔ پولیس کے مطابق ان نوجوان خواتین آرٹسٹوں کی خودکشی کی وجوہات میں آن لائن کردار کشی اور سائبر ہراسگی سب سے اہم ہیں۔ جنوبی کوریائی پولیس پرتشدد آن لائن رویوں (سائبر وائلنس) کو سنگین جرائم میں شمار کرتی ہے۔

جنوبی کوریائی دارالحکومت سیئول کی میٹروپولیٹن پولیس کے سائبر کرائمز ونگ سے وابستہ ایک تفتیش کار کا خیال ہے کہ براہ راست جسمانی تشدد کے نتیجے میں علاج معالجے سے مجروح شخص تو صحت یاب ہو جاتا ہے اور جارح کو قانون کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن سائبر وائلنس کی صورت میں متاثرہ افراد کی مدد انتہائی مشکل ہوتی ہے۔

Südkorea Sängerin Sulli

خودکشی کرنے والی سُولی جنوبی کوریا میں سائبر ہراسگی کے خلاف آواز بلند کرنے والوں میں شمار کی جاتی تھیں

کورین پاپ گلوکارہ گُو ہارا چوبیس نومبر بروز اتوار اپنے فلیٹ پر مردہ حالت میں ملی تھیں۔ ان کی نعش کے پاس سے ایک تحریر بھی ملی تھی، جس میں انہوں نے اپنی جان لینے کا ذکر کیا تھا۔ ہاتھ سے لکھی ہوئی اس تحریر میں اس فنکارہ نے واضح کیا تھا کہ اُسے ایک ساتھی فنکار کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں انتہائی زیادہ ہراساں کیا جا چکا تھا اور اس کی برداشت ختم ہو گئی تھی۔

خودکشی کرنے والی فنکارہ گُو ہارا کی دوستی رواں برس اکتوبر میں خودکشی کرنے والی ایک اور فنکارہ سُولی کے ساتھ تھی۔ سُولی جنوبی کوریا میں سائبر ہراسگی کے خلاف آواز بلند کرنے والوں میں شمار کی جاتی تھیں۔ اس مہم کے دوران انہیں اس حد تک ہراساں کیا گیا کہ وہ سنبھل نہ سکیں اور اپنی جان پر کھیل گئیں۔ سولی اور گُو ہارا کی 2019 کے وسط میں دوستی ختم ہونے کے بعد ہی ان کی سائبر ہراسگی کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

کورین پاپ میوزک بینڈ مشرق بعید میں بہت مقبول ہیں۔ سائبر ہراسگی کے تناظر میں رواں برس کئی فنکاروں کے علاوہ ایک بڑے میوزک پروڈیوسر کو پولیس اسٹیشن طلب کر کے پوچھ گچھ بھی کی گئی تھی۔ اس تفتیش کا تعلق ان افراد کے جسم فروشی اور جوئے سے مبینہ رابطوں سے بتایا گیا تھا۔ ان فنکاروں کا خیال ہے کہ سائبر ہراسگی کے نتیجے میں افواہوں اور ذاتی حملوں کو روکنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔

ع ح ⁄ م م (روئٹرز)

ویڈیو دیکھیے 04:04

سائبر حملوں کو روکنے کی کوشش

DW.COM