آسٹریلین تفریحی پارک میں حادثہ، چار افراد ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 25.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آسٹریلین تفریحی پارک میں حادثہ، چار افراد ہلاک

آسٹریلوی ریاست کوئنز لینڈ کے ایک معروف تفریحی پارک میں قائم ایک جھولا کو پیش آنے والے ایک حادثے کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس نے حادثے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

آسٹریلیا کی ریاست کوئنزلینڈ کا ساحلی و سیاحتی علاقہ گولڈ کوسٹ اپنے مختلف تفریحی پارکوں کی وجہ سے غیرمعمولی شہرت رکھتا ہے۔ آج منگل کے روز گولڈ کوسٹ میں واقع ایک  تفریحی پارک ڈریم ورلڈ میں رونما ہونے والے ایک حادثے میں چار افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ گولڈ کوسٹ کے محکمہٴ پولیس کے ایک افسر ٹوڈ ریڈ نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں دو عورتیں اور دو مرد شامل ہیں۔

حادثہ ڈریم ورلڈ کی ایک رائڈ ’تھنڈر ریور ریپڈز‘ میں ہوا۔ یہ تفریحی جھولا انسان کے بنے ہوئے ایک شوریدہ سر دریا میں چلتا ہے۔ اس تیز رفتار دریا میں گنڈولے نما کشتیاں انسانوں کو لے کر ایک دائرے میں گھومتی ہیں۔ آج جب یہ رائڈ اپنے مسافروں کو لے کر چلی تو اُس میں کوئی تکنیکی خرابی پیدا ہو گئی۔ اس خرابی کے بعد کم از کم دو افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ اس کا تعین نہیں ہو سکا کہ آیا ہلاک ہونے والے پانی کی نچلی سطح میں پھنس کر رہ گئے تھے۔

پولیس حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی عمریں تیس اور چالیس برس کے درمیان ہیں۔ پولیس افسر ٹوڈ ریڈ نے واضح کیا کہ ’تھنڈر ریور ریپڈز‘ نامی رائڈ کے حوالے سے کسی تکنیکی خرابی کی کوئی پہلے سے اطلاع موجود نہیں ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ڈریم ورلڈ پارک کی انتظامیہ نے متاثرین کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کی لیکن زخموں کی نوعیت شدید ہونے پر ہسپتال عملے کو طلب کیا گیا۔

Dreamworld Australien Fahrgeschäft Karussell (Getty Images/B.Kanaris)

ڈریم ورلڈ کا تفریحی پارک سن 1981 میں کھولا گیا تھا

’تھنڈر ریور ریپڈز‘ کا لطف لینے کے لیے باری کی منتظر ایک خاتون لیا کاپسے نے آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کو بتایا کہ وہ اپنے دوست سے باتیں کر رہی تھی کہ اچانک شور مچ گیا اور اندر سے لوگوں کی چیخ و پکار آنا شروع ہو گئی۔ آسٹریلوی وزیراعظم میلکم ٹرن بُل نے اِس حادثے کی مکمل تفتیش کا حکم صادر کیا ہے۔ اس حادثے کے بعد پارک کو شائقین کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

اِس پارک کے چیف ایگزیکٹو آفسر کریگ ڈیوڈسن کا کہنا ہے کہ اُن کی انتظامیہ پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے اور اس تفتیشی عمل کے دوران ہی تعین ہو سکے گا کہ ’تھنڈر ریور ریپڈز‘ کی موومنٹ میں کیا خرابی واقع ہوئی کہ چار انسانی جانیں ضائع ہو گئیں۔  پارک کی انتظامیہ نے ہلاکتوں پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔

ڈریم ورلڈ پاک کی رائڈ ’تھنڈر ریور ریپڈز‘ فیملی رائڈ تصور کی جاتی ہے اور انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ اس پر دو سال کا بچہ بھی لطف اندوز ہو سکتا ہے۔ اس پارک کا افتتاح پینتیس برس قبل سن 1981 میں کیا گیا تھا۔