آسٹریا کی حکومت کی باگ ڈور ایک مینیجر کے ہاتھ میں | حالات حاضرہ | DW | 17.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آسٹریا کی حکومت کی باگ ڈور ایک مینیجر کے ہاتھ میں

آسٹریا میں کرسٹیان کیرن نے ملک کے نئے چانسلر کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ کیرن ریلوے کے محکمے میں مینجیر کے عہدے پر فائز تھے۔ آسٹریا نے بحران کے وقت ایک مینیجر کی صلاحیتوں پر بھروسہ کیا ہے۔

آسٹریا کے نئے چانسلر کرسٹیان کیرن کے مطابق سوشل ڈیموکریٹک پارٹی اقتدار میں رہنے کے لیے اپنے ضمیر کا سودا نہیں کرے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے انتہائی دائیں بازو کی جماعت فریڈم پارٹی کے ساتھ روابط کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا۔ پچاس سالہ کیرن نے مزید کہا کہ سوشل ڈیموکریٹ پارٹی ’ایس پی او‘ قدامت پسندوں کے ساتھ مل کر حکومت کرنے کو ترجیح دے گی۔

منگل کی دوپہر تقریب حلف برداری کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ ایک نئے انداز میں سماجی اور اقتصادی اصلاحات کرتے ہوئے آسٹریا کو بحران سے باہر نکال لیں گے، ’’اقتصادی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ چڑچڑاپن اور بیزای ہے۔‘‘ اس دوران انہوں نے 2025ء تک ایک طویل المدتی منصوبہ ترتیب دینے کا بھی اعلان کیا ہے، جو آسٹریا کو ایک مرتبہ پھر پرکشش بنا دے گا۔

نئے چانسلر کو کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ سب سے پہلے تو انہیں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی میں پڑنے والی دراڑوں کو ختم کرنا ہے۔ اس کے بعد مخلوط حکومت میں شامل اپنے اتحادیوں کے ساتھ روابط کو بھی بہتر کرنا ہے۔ اس کے علاوہ ان کندھوں پر ایک بڑی ذمہ داری اپنے ان ہم وطنوں کو راضی کرنا ہے، جو مہاجرین کی آمد کی وجہ سے حکومت سے ناخوش ہو گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کرسٹیان کیرن کو ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگار کے مسئلے پر بھی قابو پانا ہو گا کیونکہ 2018ء میں ہونے والے اگلے عام انتخابات میں یہ ملکی سیاست کا اہم ترین موضوع بن سکتا ہے۔

چانسلر کا حلف اٹھانے سے قبل انہوں نے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا، ’’میرا منصوبہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کو حزب اختلاف کی جماعت بنانا نہیں ہے۔ اپوزیشن ایک حقیقت ہے اور آخر میں ہمیں بھی ایک شناخت چاہیے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے لیے یہ ناقابل تصور ہے کہ وہ کسی ایسی جماعت کے ساتھ مل کر کام کریں، جو عوام میں تفرقہ ڈالنے کی کوششیں کر رہی ہو یا پھر اقلیتوں کے خلاف ہو۔

وہ 1945ء کے بعد اس ملک کے تیرہویں سربراہ حکومت ہیں۔ ان سے قبل یہ عہدہ ویرنر فے مان کے پاس تھا۔ انہوں نے تقریباً ایک ہفتہ قبل چانسلر اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہی سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ فے مان کو داخلی سطح پر تنقید کا سامنا تھا۔ فے مان کے دور میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی مقبولیت میں واضح کمی واقع ہوئی ہے اور ایک تازہ جائزے کے مطابق آج کل اس پارٹی کی مقبولیت کی شرح صرف 21 فیصد ہے۔