آسٹریا: ٹرک بردار ٹرین میں چھپ کر آنے والے تارکینِ وطن ہلاک | مہاجرین کا بحران | DW | 03.12.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

آسٹریا: ٹرک بردار ٹرین میں چھپ کر آنے والے تارکینِ وطن ہلاک

آسٹرین  پولیس کا کہنا ہے کہ دو مہاجر جو اٹلی سے آنے والی ایک ٹرک بردار ٹرین میں بظاہر چھپے ہوئے تھے، ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق دونوں کی موت غالباﹰ سردی یا پھر ٹرکوں کو اتارتے ہوئے اُن کے ٹکرانے سے ہوئی ہے۔

Österreich Flüchtlinge an der Grenze zu Slowenien (picture-alliance/AP Photo/R. Zak)

آسٹرین پولیس نے کہا ہے کہ دو ہلاک ہونے والے اور ایک زخمی پناہ گزین تینوں امکانی طور پر جرمنی کی طرف جانا چاہتے تھے

 اطلاعات کے مطابق ایک تیسرے مہاجر کو شدید زخمی حالت میں اسپتال پہنچایا گیا ہے۔ آسٹریا کے مغربی صوبے ٹیرول کی پولیس نے مزید بتایا  کہ یہ معلوم نہیں کہ  تارکینِ وطن کس ملک سے تعلق رکھتے ہیں۔

گزشتہ برس مہاجرین کے بحران کے تناظر میں آسٹریا نے بلقان ریاستوں کے ساتھ مل کر بلقان روٹ کی بندش کے لیے مربوط کوشش کی قیادت کی تھی۔ یہ راستہ جنگ اور غربت سے متاثرہ ہزاروں تارکینِ وطن کے لیے جانے کی مرکزی گزر گاہ تھا۔

 آسٹرین پولیس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دو ہلاک ہونے والے اور ایک زخمی پناہ گزین تینوں امکانی طور پر جرمنی کی طرف جانا چاہتے تھے جو تارکینِ وطن کی پسندیدہ منزل ہے۔ وہ قصبہ جہاں ٹرکوں کو ٹرین سے اتارا گیا، جرمنی کی سرحد سے محض پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

 بغیر چھت کے ٹرین، ٹرکوں کو سرحد پار لے جانے کے لیے نقل و حمل کا  متبادل ذریعہ ہے۔ پولیس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ تینوں پناہ گزین ٹرکوں کے نیچے چھپے ہوئے تھے اور ٹرکوں کے اسٹارٹ ہونے کے بعد اِن کے پاس باہر نکلنے کے لیے کم از کم بیس منٹ کا وقت رہا ہو گا۔

 پولیس کے ترجمان نے مزید کہا، ’’ چونکہ اِن افراد نے ٹرکوں کے روانہ ہونے پر بھی وہاں سے حرکت نہیں کی اِس لیے ہمارا اندازہ ہے کہ وہ سردی کے باعث بے ہوش تھے یا پھر پہلے ہی ہلاک ہو چکے تھے۔‘‘

یاد رہے کہ آسٹریا میں ’مہاجرت‘ ایک حساس معاملہ بن چکا ہے۔ اتوار مورخہ چار  دسمبر کو آسٹریا میں صدارتی انتخاب کا انعقاد ہو رہا ہے۔ اگر اس میں مہاجر مخالف  ’فریڈم پارٹی‘ کے امید وار نوربرٹ ہوفر جیت گئے تو دوسری عالمی جنگ کے بعد کسی بھی مغربی یورپی ملک میں قدامت پسند امیدوار کی یہ پہلی کامیابی ہو گی۔

DW.COM