آسودگی دنیا سے کیوں مفقود ہو رہی ہے؟ | معاشرہ | DW | 12.09.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

آسودگی دنیا سے کیوں مفقود ہو رہی ہے؟

ایک نئے سروے کے مطابق دنیا بھر میں مسرت و شادمانی میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں یہ رجحان بہت تیزی سے بڑھا ہے۔ اس کی کیا وجوہات ہیں؟

انسانی معاشرت میں پائی جانے والی مسرت و شادمانی کے موضوع پر کرائے گئے تازہ ترین بین الاقوامی سروےکے نتائج کے مطابق دنیا بھر میں راحت و مسرت کی صورت حال میں جو کمی ہوئی ہے، وہ گزشتہ دس برسوں کے دوران کی سب سے کم ترین سطح  ہے۔

 جائزے میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس وقت اقوام عالم کے باسیوں کو روزمرہ زندگی کے تفکرات اور غیرمعمولی دباؤ کا سامنا ہے۔ سروے کے مطابق  ذہنی تناؤ (اسٹریس) کے شکار افراد کی تعداد بھی گزشتہ دہائی کے مقابلے میں زیادہ ہوئی ہے۔ عام انسانوں کی زندگیوں میں آسودگی مفقود ہو رہی ہے اور بےچینی بڑھ رہی ہے۔

اس سروے میں واضح کیا گیا کہ وسطی افریقی ملک (CAR) کا پرتشدد تنازعہ گزشتہ برس کا ایسا سانحہ ہے، جس کے باعث یہ ملک دنیا میں سب سے ناخوش مقام قرار پایا ہے اور ان واقعات کی گونج  کئی دوسرے ممالک میں بھی سنی گئی ہے۔ ایسے ہی حالات کے حامل عراق کو عدم مسرت کے حامل ملکوں میں دوسری پوزیشن حاصل ہوئی ہے۔ افغانستان اور یمن عدم مسرت کے حامل ملکوں میں سب سے نیچے ہیں۔

Frau mit ihrer Maske (Colourbox/K. Dmitrii)

متمول ملکوں کے عام شہریوں میں بھی غیر ضروری دباؤ اور ہیجانی کیفیتٰ بڑھ رہی ہے۔

دوسری جانب متمول ملکوں کے عام شہریوں میں بھی غیر ضروری دباؤ اور ہیجانی کیفیتٰ بڑھ رہی ہے۔ کئی امیر ملکوں کے شہریوں نے اپنے لائف اسٹائل پر کسی حد تک اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

سب صحارہ افریقی علاقے کے پینتیس میں سے چوبیس ممالک میں مسرت کی سطح میں واضح طور پر کم ہوئی ہے۔ ان ممالک میں غربت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ عام لوگوں کو صحت کی سہولیات کی کمیابی کا سامنا ہے۔ مشکل حالات کی وجہ سے متوسط طبقہ غربت کی زنجیر میں جکڑتا جا رہا ہے۔

 انٹرنیشنل گیلپ تنظیم کی جانب سے یہ سروے کرایا گیا ہے۔ سروے کے مطابق مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کو اس وقت ضرورت سے زائد ذہنی دباؤ، تفکرات اور اداسیوں نے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ حتمی نتیجے میں واضح کیا گیا کہ دنیا بھر میں انسانوں کو لاحق ہونے والی پریشانیوں کی شرح ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو گئی ہیں۔

اس سروے کی حتمی رپورٹ گیلپ کے مینیجنگ ایڈیٹر محمد یونس نے تحریر کی ہے۔ اس سروے کو مکمل کرنے کے لیے 146 ملکوں کے ڈیڑھ لاکھ شہریوں سے سوالات کیے گئے تھے۔

DW.COM

اشتہار