آسام میں گائے کے گوشت پر پابندی کی تیاری | حالات حاضرہ | DW | 13.07.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

آسام میں گائے کے گوشت پر پابندی کی تیاری

بھارتی ریاست آسام ميں بی جے پی کی حکومت نے ہندوؤں کی بستیوں اور مندروں کے آس پاس پانچ کلو میٹر کے دائرے میں گوشت کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کے لیے ایک نیا بل پیش کیا ہے۔

بھارت کی چند ہی ریاستوں میں گائے کے ذبیحہ کی اجازت ہے، جن میں شمال مشرقی ریاست آسام بھی شامل ہے۔ ليکن اب ریاست ميں بی جے پی حکومت نے اس پر قدغن لگانے کے لیے ایک نیا بل پیش کر دیا ہے۔ اس پيش رفت پر کئی حلقوں کی جانب سے یہ کہہ کر شدید نکتہ ہو رہی ہے کہ اس کا مقصد محض ریاست کے مسلمانوں کو نشانہ بنانا ہے۔

نئے بل ميں کیا ہے؟

بی جے پی حکومت نے بارہ جولائی پیر کے روز ریاستی اسمبلی میں مویشیوں کے تحفظ سے متعلق جو بل پیش کیا ہے، اس میں ہندو، جین، سکھ اور گوشت نا کھانے والی دوسری برادریوں کی بستیوں میں گائے کے گوشت کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ اس بل کے مطابق جس علاقے میں بھی مندر ہو، اس کے آس پاس پانچ کلومیٹر کے دائرے میں گوشت کی خرید و فروخت پر پابندی عائد ہو سکتی ہے۔

یہ بل خود ریاست کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے پیش کیا ہے اور کیٹل پریزرویشن بل 2021 کا مقصد مویشیوں کے ذبیحہ، گوشت کے استعمال اور مویشیوں کی غیر قانونی نقل و حمل کو  روکنا اور اسے ضابطے کے مطابق بنانا ہے۔

بھارت کی بیشتر ریاستوں میں گوشت سے متعلق اپنے خود کے قوانین نہیں ہيں۔ ليکن مخصوص علاقے کو اس سے الگ رکھے جانے کا معاملہ پہلی بار سامنے آيا ہے۔ يوں یہ اپنی نوعیت کی ایک انوکھی کوشش ہے۔

بھارت میں عام طور پر ہندوؤں کے سخت گیر نظريات کے حامل طبقوں کو گائے کے گوشت پر زیادہ اعتراض رہتا ہے تاہم اس بل میں، گائے، بیل، بچھڑے،  بھینس، بھینسا اور اس کے بچھڑوں کے گوشت کو بھی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔ بعص دیگر ریاستوں میں بھی کچھ ایسی پابندیاں عائد ہیں تاہم ان میں بھینس کا گوشت شامل نہیں۔

گائے کی بنگلہ دیش اسمگلنگ روکنے کی کوشش

اس بل کی منظوری کی ممکنہ صورت میں باضابطہ سرکاری دستاویزات کے بغیر آسام سے دوسری ریاست یا پھر دوسری ریاست سے آسام میں مویشیوں کے نقل و حمل پر بھی پابندی عائد ہو جائے گی۔ ریاستی وزیر اعلی نے اس بل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد بنگلہ دیش اسمگل ہونے والی گائیوں پر نظر رکھنا ہے تاکہ اس کو روکا جا سکے۔

واضح رہے کہ ریاست آسام بنگلہ دیش کی پڑوسی ریاست ہے اور ہندو قوم پرست جماعتیں اکثر یہ الزام لگاتی رہی ہیں کہ آسام میں گوشت کی کھپت کے لیے بڑی تعداد میں آسام سے گائے اور دیگر مویشی بنگلہ دیش بھیجے جاتے ہیں۔   

 مذہبی کشیدگی کو فروغ دینے کی کوشش

ریاست میں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس پارٹی نے اس پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اس بل میں بہت سی خامیاں ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ پارٹی کے رہنما دیبرتا سائیکیا کا کہنا ہے کہ ماہرین اس بل کا جائزہ لے رہے اور اس میں ترامیم کرانے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا، ’’مثال کے طور پر بیف سے متعلق پانچ کلومیٹر کا اصول۔ کوئی بھی شخص کہیں بھی ایک اینٹ اور پتھر رکھ کر اس کے مندر ہونے کا دعوی کر سکتا ہے۔ اس سے تو مقامی سطح پر فرقہ وارانہ کشیدگی بھی بڑھ سکتی ہے۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 03:55

گائے کا گوبر اور پیشاب کووڈ انیس کا علاج نہیں، طبی ماہرین

ریاست کی مسلم جماعت ’آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹ فرنٹ‘ (اے آئی یو ڈی ایف) نے اس بل پر شدید اعتراض کیا ہے۔ پارٹی کے رہنما امین الاسلام کا کہنا تھا، ’’یہ بل گائے کے تحفظ یا اس کے وقار کے لیے نہیں ہے۔ یہ مسلمانوں کے احساسات و جذبات کو مجروح کرنے کے لیے لایا گيا ہے تاکہ مختلف برادریوں کو مذہبی طور پر مزید تقسیم کیا جا سکے۔‘‘

مجوزہ بل میں پولیس کو بھی کافی اختیارات دیے گئے ہیں اور وہ شک کی بنیاد پر کہیں بھی کسی بھی شخص سے مویشیوں کے بارے میں پوچھ گچھ کر سکتی ہے۔ کسی بھی شخص کو اس قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں کم سے کم تین برس جیل کی سزا ہو سکتی ہے۔

بھارت کی چند ہی ریاستوں میں گائے کا ذبیحہ کی اجازت ہے تاہم ہندو قوم پرست جماعتیں اور سخت گیر ہندو تنظیمیں اس پر بھی پابندی کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ ریاست آسام میں تقریباً 33 فیصد مسلمانوں کی آبادی ہے تاہم وہاں بی جے پی کی حکومت ہے اور اس نے کئی ایسے قوانين معتارف کرائے ہنں، جن کا براہ راست اثر مسلم آبادی پر پڑتا ہے۔

تاہم آسام میں گائے کا گوشت مسلمانوں کے علاوہ کئی دیگر قبائلی برادریاں بھی کھاتی ہیں اور ماہرین کے مطابق اس متنازعہ قانون سے نہ صرف مسلمان بلکہ بعض دیگر اقلیتی برادری کے لوگ بھی متاثر ہوں گے۔

DW.COM