آبنائے تائیوان میں جنگی جہاز بھیجنے پر چین کی امریکا اور کینیڈا پر سخت تنقید | حالات حاضرہ | DW | 18.10.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

آبنائے تائیوان میں جنگی جہاز بھیجنے پر چین کی امریکا اور کینیڈا پر سخت تنقید

چین کا کہنا ہے کہ امریکا اور کینیڈا کے اس اقدام نے خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ تاہم امریکا کے مطابق یہ کارروائی اس کی اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے آزاد اور کھلے ہند بحرالکاہل کے عزم کا مظہر ہے۔

چین کی فوج نے 17 اکتوبر اتوار کے روز اپنے ایک سخت بیان میں امریکا اور کینیڈا کی جانب سے آبنائے تائیوان سے گزشتہ ہفتے جنگی جہاز لے جانے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ شمالی امریکی ممالک خطے کے امن اور استحکام کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

چینی پیپلز آرمی کے مشرقی تھیئٹر کمانڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کی افواج نے امریکی جہازوں کے گزرنے کے دوران مسلسل ان کی نگرانی کی اور پورے عمل کے دوران بطور ''محافظ'' تعینات رہے۔ آبنائے تائیوان ہی چین اور تائیوان کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے جس پر چین اپنی دعوی کرتا ہے۔

گزشتہ ہفتے کے اواخر میں میزائیلوں سے لیس ایک امریکی جنگی جہاز 'ایرلیف بروک ڈیوی' اور اسلحہ سمیت دیگر جنگی ساز و سامان سے لیس کینیڈا کا ایک عسکری جہاز آبنائے تائیوان سے گزرے تھے۔ 

چین کا کیا کہنا ہے؟

چین نے کہا، ''امریکا اور کینیڈا نے مشترکہ اقدام کے تحت اشتعال انگیزی کے ذریعے مشکلات کو ہوا دی اور آبنائے تائیوان کے امن اور استحکام کو شدید خطرے میں ڈال دیا۔ تائیوان چینی علاقے کا ہی ایک حصہ ہے۔ خطے میں ہماری فوج ہمیشہ اعلی درجے کی چوکسی کو برقرار رکھتی ہے اور تمام خطرات اور اشتعال انگیزیوں کا بھر پور مقابلہ کرتی ہے۔'' 

چین تائیوان پر اپنا دعوی پیش کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ تائیوان اس کا ایک حصہ ہے اور چین میں اس کا انضمام ضروری ہے اور اگر ضرورت پڑی تو طاقت کے زور پر مکمل طور پر اسے چین میں ضم کیا جا سکتا ہے۔

حال ہی میں چین کی جانب سے تائیوان کی فضائی حدود میں در اندازی کی خبریں آئی تھیں اور اطلاعت کے مطابق اس نے درجنوں پروازیں

 تائیوان کی فضائی حدود میں بھیجی تھیں۔ اس حوالے سے تائیوان کی وزیر اعظم سو سینگ نے چین پر یہ کہتے ہوئے نکتہ چینی بھی کی تھی کہ تائی پی کو اس وقت الرٹ رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ چینی کارروائیاں حد سے گزرنے کے مترادف ہیں۔

امریکا کا موقف کیا ہے؟

امریکی فوج نے اس حوالے سے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ گزشتہ جمعرات اور جمعے کے روز اس کا ایک میزائلوں سے لیس جہاز ایرلیف بروک ڈیوی اور کینیڈا کا جنگی جہاز ایچ ایم سی ایس ون پیگ آبنائے تائیوان سے گزرے تھے۔ 

بیان کے مطابق، ''آبنائے تائیوان کے ذریعے ڈیوی اور ون پیگ کا گزرنا، امریکا، ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں کی جانب سے ہند بحرالکاہل کو آزاد اور کھلا رکھنے کے عزم کا مظہر ہے۔''

امریکی بحری بیڑے کے جہاز آبنائے تائیوان سے گزرتے رہتے ہیں جس پر بیجنگ کافی غصے کا اظہار کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ واشنگٹن خطے میں کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔ امریکا کے بعض اتحادی بھی اس آبنا ئے سے اپنے جہاز لے جاتے ہیں جیسا کہ گزشتہ ماہ برطانیہ نے بھی کیا تھا۔

تائیوان کے حوالے سے کشیدگی

اس ماہ کے اوائل سے ہی تائیوان  کے حوالے سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ تائیوان خود کو ایک خود مختار ریاست سمجھتا ہے لیکن چین اسے اپنے ملک کا ہی ایک حصہ قرار دیتا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے گزشتہ دنوں تائیوان کے ”مکمل انضمام'' کے اپنے عزم کا اعادہ کیا تھا۔ چین نے تائیوان کے دوبارہ انضمام کے حصول کے لیے طاقت کے ممکنہ استعمال کو بھی مسترد نہیں کیا۔

  خیال رہے کہ چین اور تائیوان سن 1940 کی دہائی میں خانہ جنگی کے دوران منقسم ہو گئے تھے تاہم چین کا اصرار ہے کہ یہ جزیرہ اس کا اپنا حصہ ہے اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو انضمام کے لیے طاقت کا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تائیوان کا اپنا آئین ہے اور یہاں جمہوری طورپر رہنماؤں کا انتخاب ہوتا ہے۔ البتہ صرف چند ممالک ہی تائیوان کو تسلیم کرتے ہیں۔ امریکا کا تائیوان کے ساتھ کوئی سرکاری تعلق نہیں ہے۔

ص ز/ ج ا (روئٹرز)

DW.COM