′آئی ایس آئی اور خالصتانی عناصر ریلی میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ | حالات حاضرہ | DW | 25.01.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

'آئی ایس آئی اور خالصتانی عناصر ریلی میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں‘

بھارت کا دعوی ہے کہ کسانوں کی ریلی کو سبوتاژ کرنے کے لیے ایسے تین سو ٹویٹر اکاؤنٹ کا پتا چلا ہے جن کا تعلق پاکستان سے ہے۔

بھارتی دارالحکومت دہلی کی پولیس نے 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کے موقع پر کسانوں کو ٹریکٹر ریلی کی اجازت دی ہے تاہم پولیس نے پاکستان کی جانب سے مسائل پیدا کرنے کے خدشات کا دعوی کرنے کے ساتھ ہی اس ریلی پر سخت شرائط بھی عائد کی ہیں۔ پولیس کا دعوی ہے کہ پاکستان سوشل میڈیا کے ذریعے کسانوں کی ریلی میں رخنہ اندازی کرنے کی کوشش کرے گا۔  

 دہلی پولیس کا دعوی ہے کہ پاکستان کے ساتھ ساتھ پنجاب کی علحیدگی پسند تنظیم خالصتان سے وابستہ بعض بدمعاش عناصر کی جانب سے بھی دہلی میں کسانوں کی مجوزہ ٹریکٹر ریلی کو ہائی جیک کرنے اور رکاوٹیں ڈالنے کے امکانات ہیں تاکہ نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج  مزید تیز تر کیا جا سکے۔

بھارتی حکومت کے نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی متعدد تنظیمیں گزشتہ تقریبا دو ماہ سے دہلی کی سرحدوں پر احتجاجی دھرنے پر بیٹھی ہیں۔ اسی سلسلے میں یوم جمہوریہ کے موقع پر کسانوں نے ٹریکٹر ریلی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حکومت نے عدالت سے اپیل کی تھی کہ وہ اس ریلی پر پابندی عائد کرے تاہم سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دہلی پولیس پر چھوڑ دیا تھا۔

پاکستان اور خالصتان کا ہاتھ

دہلی کا محکمہ پولیس بھارت کی مرکزی حکومت کے ماتحت ہے۔ اتوار 24 جنوری کو محکمے کے اسپیشل کمشنر دپندرا پاٹھک نے ایک پریس کانفرنس کر کے اعلان کیا کہ چونکہ اس ریلی میں بیرونی عناصر سے خطرات کا اندیشہ ہے اس لیے بعض سخت شرائط کے ساتھ اس کی اجازت دی جا رہی ہے۔

مسٹر پاٹھک نے دعوی کرتے ہوئے کہا تھا،''شرارتی عناصر امن و قانون کی صورت حال پیدا کرسکتے ہیں۔ کسانوں کی ٹریکٹر ریلی میں رکاوٹیں ڈالنے اور اس بارے میں لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے 13 جنوری  سے 18 جنوری کے درمیان  تین سو سے زیادہ ٹویٹر ہینڈل پاکستان میں وجود رکھتے ہیں۔ دیگر مختلف ایجنسیوں کی جانب سے بھی اس بارے میں ایسی ہی معلومات دستیاب ہوئی ہیں۔‘‘

پریس کانفرنس کے دوران پولیس کمشنر کا کہنا تھا،’’ ان خطرات کے پیش نظر، ہمارے لیے یہ ریلی ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا تاہم اس کے باوجود یوم جمہوریہ کی تقریب کے ختم ہونے کے بعد سخت سکیورٹی کے درمیان ریلی منعقد کی جائے گی۔‘‘  

بھارتی میڈیا میں اس حوالے سے جو خبریں شائع ہوئی ہیں اس میں پولیس کے ذرائع سے کہا گيا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروس انٹیلیجنس ( آئی ایس آئی)  اور پنجاب کی علحیدگی پسند تنظیم خالصتان سے وابستہ بعض،''بدمعاش عناصر کی جانب سے بھی دہلی میں کسانوں کی مجوزہ ٹریکٹر ریلی کو ہائی جیک کرنے اور رکاوٹیں ڈالنے کے امکانات ہیں تاکہ نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج مزید تیز تر کیا جا سکے۔‘‘

دارالحکومت دہلی میں سکیورٹی کو مزید سخت کر نے کی ہدایات دی گئی ہیں جبکہ سکیورٹی حکام کے حوالے سے میڈیا میں کہا جا رہا ہے کہ  ممنوعہ سکھ شدت پسند تنظیم ''سکھ فار جسٹس‘‘ دہلی میں پاور ہاؤسز کو نشانہ بنا سکتی ہے۔ مودی کی حکومت نے گزشتہ برس اس تنظیم پر پابندی عائد کردی تھی۔

پولیس حکام کو خدشہ ہے کہ دہلی میں کسانوں کی ریلی کے دوران اپنے دور کے معروف علحیدگی پسند رہنما جرنیل سنگھ بھنڈرا والے کی تصاویر اور پوسٹرز کے بھی منظر عام پر آنے کا امکان ہے۔ بھارتی فورسز نے سکھ علحیدگی پسند رہنما بھنڈرا والے کو آپریشن بلیو اسٹار میں ہلاک کر دیا تھا۔

پاکستان زندہ باد کے نعرے پر کارروائی

 اس دوران دہلی کے مشہور زمانہ انڈیا گیٹ کے پاس پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے والے جن نوجوانوں کو پولیس نے حراست میں لیا تھا انہیں رہا کر دیا گيا ہے۔ پولیس نے اس سلسلے میں ایک کم عمر لڑکے سمیت چھ افراد کو حراست میں لیا تھا جن سے تھانے میں اتوار کے روزگھنٹوں پوچھ گچھ کی گئی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اتوار کی علی الصبح اسے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے کی اطلاع ملی تھی اور اس سلسلے میں تین خواتین سمیت چھ افراد سے جب تفتیش کی گئی تو پتا چلا کہ وہ انڈیا گیٹ کے پاس سائیکلنگ کے لیے جمع ہوئے تھے اور اس کے لیے جو ٹیمیں بنائی تھیں ان کے نام جاپان، بھارت اور پاکستان جیسی ملکوں کے نام پر رکھے گئےتھے۔

اسی گروپ نے ریس کے دوران بطور مزاق پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا تھا۔ یہ کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں تھا اسی لیے کوئی کیس درج نہیں کیا گيا۔

بھارت میں مبینہ طور پر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانےکے والے متعدد افراد کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا جا چکا ہے اور بیشتر معاملات میں ایسے افراد کو ضمانت نہ ملنے کی وجہ سے مہینوں جیلوں میں رہنا پڑا۔

DW.COM