1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مودی کے دورے پر فکر کرنے کی ضرورت نہیں، بنگلہ دیش

صلاح الدین زین ڈی ڈبلیو نیوز، نئی دہلی
22 مارچ 2021

بنگلہ دیش حکومت کا کہنا ہے کہ بائیں بازو کا محاذ اور بعض اسلامی گروپ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کی مخالفت کر رہے ہیں لیکن اس کی زيادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

https://p.dw.com/p/3qwrB
Tausende bangladeschische Muslime protestieren gegen Gewalt in Indien
تصویر: Reuters/M .P. Hossain

بھارتی وزير اعظم اس ہفتے کے اواخر میں بنگلہ دیش کے دو روزہ دورے پر جانے والے ہیں تاہم ان کے اس مجوزہ دورے کے خلاف کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ بھارت میں مودی حکومت کی پالیسیوں، خاص طور پر شہریت ترمیمی قانون کے حوالے سے بعض غیر سرکاری تنظیمیں، بائیں بازو کے محاذ سے وابستہ سیاسی کارکنان اور سول سوسائٹی سے وابستہ بہت سے دیگر لوگ ان کے اس دورے کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔

 ’فکر کی کوئی بات نہیں ہے‘

 اس حوالے سے جب کئی حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گيا تو بنگلہ دیش کے وزير خارجہ ڈاکٹر عبد المومن نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس پر بہت زیادہ فکر کی ضرورت نہیں ہے۔ صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’مودی کے دورے کے خلاف کچھ ہی لوگ ہیں جبکہ عوام ہمارے (حکومت) ساتھ ہے۔‘‘

 ان کا مزید کہنا تھا، ’’ہمیں انہیں دعوت دینے پر فخر ہے۔ صرف کچھ لوگ ہی اس دورے کے مخالف ہیں، انہیں ایسا کرنے دو۔ کچھ سخت گیر اسلامسٹ اور بائیں بازو کے محاذ کی طرف میلان رکھنے والے اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔‘‘

وزير خارجہ عبد المومن کا وضاحت پیش کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’بنگلہ دیش ایک جمہوری ملک ہے، جہاں لوگوں کو اپنے خیالات کے اظہار کی آزادی ہے۔ مظاہرین کی تعداد بہت کم ہے اور وہ انہی جمہوری اقدار کا فائدہ اٹھا کر ان کے دورے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ حکومت کو اس پر کوئی تشویش نہیں ہے۔‘‘

Indien Kalkutta | Narendra Modi
نریندر مودی ڈھاکہ کے دورے پر جانے والے ہیںتصویر: Dibyangshu Sarkar/AFP/Getty Images

 نریندر مودی کا دورہ بنگلہ دیش

 بنگلہ دیش اس برس اپنی آزادی کی پچاسویں سالگرہ منا رہا ہے، جس کے لیے بہت سی اہم تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ نریندر مودی 26 مارچ جمعے کو اسی تقریب میں شرکت کے لیے دو روزہ بنگلہ دیش کے دورے پر  ڈھاکا پہنچ رہے ہیں۔ کورونا وباء کے بعد سے مودی  کا کسی بھی بیرونی ملک کا یہ پہلا دورہ ہے۔

دو روز دورے کے دوران بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ڈھاکا سے باہر ضلع ستکھیرا اور گوپال گنج میں واقع  دو معروف ہندو مندروں کی بھی زیارت کریں گے۔ اس علاقے میں مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے متوا ہندو برادری کی اکثریت ہے۔ بعض سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت ریاست مغربی بنگال کے اسبملی انتخابات کی مہم زوروں پر ہے، اس لحاظ سے بنگلہ دیش کے ان  مندروں کی  زیارت سیاسی نکتہ نظر سے اہمیت کی حامل ہے۔

ڈھاکا میں مودی کے خلاف احتجاجی مظاہرے

 مودی کے خلاف احتجاج

جمعے کے روز ڈھاکا میں طلبہ کی ایک جماعت نے مودی کے اس دورے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ اس موقع پر مظاہرین نے مودی کی مخالفت کے لیے اپنے ہاتھوں میں بینر اور پوسٹروں کے بجائے جوتے اٹھا رکھے تھے۔

ہفتے کے روز ڈھاکا یونیورسٹی کے کیمپس میں بھی طلبہ کی ایک تنظیم نے مودی کے دورے کے خلاف مظاہرہ کیا تھا، جہاں ان کے خلاف، ''گجرات کا قصائی‘‘ جیسے نعرے  بازی کی گئی۔ بعض طلبہ نے ایسے پوسٹرز اور بینرز بھی اٹھا رکھے تھے، جن پر ''مودی واپس جاؤ‘‘ اور ''قاتل واپس جاؤ‘‘ جیسے نعرے بھی درج تھے۔  

مظاہرین آزادی کی گولڈن جوبلی تقریب میں مودی کو دعوت دینے پر شیخ حسینہ کی حکومت سے بھی کافی نالاں ہیں۔ ان کا الزام عائد کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حسینہ حکومت بھارت کے ماتحت کام کرتی ہے اور اسی لیے اس نے مودی کو مدعو کیا ہے۔

پڑوسی ممالک کے سربراہان مملکت کی شرکت

آزادی کی تقریب میں نیپال، سری لنکا، بھوٹان اور مالدیپ جیسے پڑوسی ممالک کے سربراہان حکومت کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے تاہم اس حوالے سے سب کا شیڈیول الگ الگ ہے۔  بنگلہ دیش حکومت کا کہنا ہے کہ سبھی بیرونی مہمانوں کی سکیورٹی کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا چکے ہیں۔

لاکھوں مسلمان بھارتی شہریت سے محروم

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں