1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’اسلامک اسٹیٹ‘ کا صدائے خلافت ریڈیو تباہ

عابد حسین2 فروری 2016

افغانستان میں امریکی فضائی حملوں میں جہادی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ریڈیو کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ ’اسلامک اسٹیٹ‘ اپنے اِس ریڈیو پر اپنے عقیدے کی ترویج کے ساتھ ساتھ نئی بھرتیوں کے اعلانات اور ترغیب کے پروگرام نشر کر تی تھی۔

https://p.dw.com/p/1HnON
تصویر: Getty Images/AFP/N. Shirzad

’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ریڈیو اسٹیشن کو افغانستان کے انتشار کے شکار صوبے ننگر ہار میں ایک فضائی حملے میں تباہ کیا گیا۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے قریب قائم اِس ریڈیو کا نام ’’صدائے خلافت‘‘ رکھا گیا تھا۔ افغانستان میں نیٹو مشن کے ترجمان کرنل مائک لاہرون نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ننگر ہار کے آچین ضلع میں دہشت گردی کے دو مقامات کو فضائی حملے کا نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔

یہ حملے پیر یکم فروری کو شام دیر گئے کیے گئے۔ نیٹو ترجمان نے ان حملوں کے حوالے سے مزید تفصیل نہیں بتائی۔ اِس ریڈیو کو تباہ کرنے کے لیے دو حملے کیے گئے۔ ننگرہار میں اسلامک اسٹیٹ کے ریڈیو کو تباہ کرنے کی امریکی کارروائی کی افغان حکام نے بھی نام مخفی رکھنے کی شرط پر تصدیق کی ہے۔ مختلف حوالوں سے بتایا جاتا ہے کہ ننگر ہار کے چار اضلاع میں اسلامک اسٹیٹ نے اپنے قدم مضبوطی سے جما رکھے ہیں اور اب افغان فوج اپنے اتحادیوں کی مدد سے انہیں اِن علاقوں سے نکال باہر کرنے کی کوشش میں ہے۔

Karte Afghanistan Provinz Nangarhar Deutsch
پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے قریب قائم اِس ریڈیو کا نام ’’صدائے خلافت‘‘ رکھا گیا تھاتصویر: DW

صدائے خلافت نامی ریڈیو افغان صوبے ننگر ہار کے آچین ضلع کے قریبی علاقوں میں سنائی دیتا تھا اور یہ غیرقانونی طور پر قائم کیا گیا تھا۔ اس کے پروگراموں میں انتہا پسندوں کے پیغامات کے علاوہ مختلف حلقوں کو دھمکیاں بھی دی جاتی تھیں۔ خاص طور پر ننگرہار صوبے کے دارالحکومت جلال آباد میں کام کرنے والے صحافیوں کے نام دھمکی آمیز پیغامات نشر کیے جاتے تھے۔ اسلامک اسٹیٹ کے جہادیوں نے گزشتہ برس ننگرہار میں اپنے ابتدائی قدم جمانے کے بعد اِس ریڈیو اسٹیشن کو قائم کیا تھا۔ یہ ایک موبائل ریڈیو اسٹیشن تھا اور اِس کی پوزیشن کو جہادی بدلتے رہتے تھے۔

ننگرہار صوبے کے گورنر کے ترجمان عطا اللہ خوگیانی نے بتایا ہے کہ امریکی فضائی حملوں میں کم از کم 21 عسکریت پسند بھی ہلاک ہوئے ہیں اور اِن سب کا تعلق ’اسلامک اسٹیٹ‘ سے تھا۔ حملے کے دوران ریڈیو اسٹیشن پر کام کرنے والے پانچ ورکرز بھی مار گئے۔

یہ امر اہم ہے کہ افغانستان میں ریڈیو ایک انتہائی طاقتور میڈیم خیال کیا جاتا ہے کیونکہ زیادہ تر آبادی کے پاس ٹیلی وژن نہیں ہے اور صرف دس فیصد لوگ انٹرنیٹ تک رسائی رکھتے ہیں۔ اِس وقت افغانستان کے مختلف حصوں میں تقریباً 175 ریڈیو اسٹیشن فعال ہیں۔