1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

صادق خان لندن شہر کے نئے میئر منتخب

لندن کے نئے میئر نے اپنی زندگی کا سفر ایک قدرے چھوٹے سے سرکاری مکان سے شروع کیا تھا۔ ان کے مخالف امیدوار نے صادق خان کا تعلق مسلمان انتہا پسندوں سے جوڑنے کی بھی کوشش کی لیکن وہ اُن کی فتح کا راستہ روکنے میں ناکام رہے۔

پاکستانی نژاد صادق خان برطانوی دارالحکومت لندن کے میئر منتخب ہو گئے ہیں۔ جمعرات کو ہونے والے الیکشن میں انہیں ستاون فیصد سے زائد ووٹ حاصل ہوئے۔ لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے صادق خان لندن کے پہلے مسلمان میئر ہوں گے۔ انہوں نے جمعے کی رات انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد اپنی تقریر میں کہا کہ وہ لندن کے ہر رہائشی کے میئر ہوں گے۔ اِس تقریر میں انہوں نے اِس کامیابی کو ایک خواب قرار دیتے ہوئے لندن کے ہر باسی کا شکریہ ادا کیا۔

صادق خان نے پندرہ برس کی عمر میں لیبر پارٹی میں اُس وقت شمولیت اختیار کی تھی جب برطانیہ کی سیاست پر مارگریٹ تھیچر کا طوطی بول رہا تھا۔ عملی سیاست میں اُن کی پہلی کامیابی ٹُوٹنگ کا کونسلر بننا تھا۔ سن 1994 میں انہوں نے پہلے وانڈزورتھ میں کنزرویٹو پارٹی کا گڑھ سمجھے جانے والے علاقے میں کونسلر کا الیکشن جیتا اور پھر سن 2005 میں پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے۔

وہ آج بھی اپنے اُسی آبائی علاقے ٹوٹنگ میں رہتے ہیں، جہاں اُن کے والد نے لندن کی اومنی بس سروس میں ملازمت کے دوران رہائش اختیار کی تھی۔ اُن کے والد سن 1960 کی دہائی میں پاکستان سے ہجرت کر کے برطانیہ میں آباد ہوئے تھے۔ وہ سات بہن بھائیوں میں پانچویں نمبر پر ہیں۔

Großbritannien Sadiq Khan & Zac Goldsmith in Sikh Tempel

صادق خان اور زیک گولڈ اسمتھ لندن میں ایک گردوارے کے دورے کے دوران

سابق برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن کے دور میں وہ ٹرانسپورٹ اور کمیونیٹیز کی وزارتوں کے وزیر مقرر کیے گئے تھے۔ یہ امر اہم ہے کہ وہ برطانوی حکومت میں پہلے مسلمان وزیر تھے جو کابینہ کے اجلاس میں شریک ہوتے تھے۔برطانوی پارلیمنٹ میں انہوں نے ہم جنس پرستوں کے درمیان شادی کے حق میں ووٹ دیا تھا اور اِس پر انہیں قتل کر دینے کی دھمکیاں بھی دی گئی تھیں۔

وہ لندن کے براہ راست ووٹنگ سے منتخب ہونے والے تیسرے میئر ہیں۔ ان سے قبل لیبر پارٹی کے کین لیونگ اسٹون 2000 ء سے 2008 ء تک میئر رہے تھے۔ بعد میں لندن کی میئر شپ پر کنزرویٹو پارٹی نے قبضہ کر لیا تھا۔ قدامت پسند بورس جانسن کی جگہ لیبر پارٹی کے صادق خان میئر منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے میئر کے الیکشن میں قدامت پسند امیدوار زَیک گولڈ اسمتھ کو شکست دی۔

پیشے کے اعتبار سے وہ ایک وکیل ہیں۔ انہوں نے قانون کی ڈگری نارتھ لندن یونیورسٹی سے حاصل کی تھی۔ صادق خان کی اہلیہ سعدیہ بھی وکیل ہیں اور وہ دو ٹین ایجر لڑکیوں کے والد ہیں۔

صادق خان کی کامیابی پر زندگی کے ہر شعبے سے لوگ مبارک باد پیش کر رہے ہیں۔ مبارک باد کا سلسلہ سوشل ویب سائٹس پر جاری و ساری ہے۔ چند ایک ٹویٹ ہیں:

جمائما گولڈ اسمتھ:

صادق خان کو تمام ثقافتوں کے شہر لندن کا میئر منتخب ہونے پر مبارک ہو اور اُن کی کامیابی نوجوان مسلمانوں کے لیے ایک شاندار مثال ہے۔

میتھیو پینی کُک، رکن پارلیمنٹ:

صادق خان کی کامیابی باعث مسرت ہے اور اُن کی جیت نے لندن شہر میں پائی جانے والی تقسیم کی سیاست کو مسترد کرنے کے مترادف ہے۔

اولیور بینجمن:

صادق خان کا میئر بننا خوش آئند ہے اور اب لندن کے نوجوانوں کے لیے رہائش کا حصول ممکن ہونے کے ساتھ ساتھ نوعمروں کی نئے تعلیمی اداروں تک رسائی کا مرحلہ بھی طے ہو سکے گا۔

DW.COM