1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت: ایک ماہ میں دوسرا صحافی ہلاک

شمال مشرقی بھارت میں رونما ہونے والی جھڑپوں کے دوران ایک صحافی ہلاک ہو گیا ہے۔ بھارت میں دو ہفتے قبل بھی ایک ہائی پروفائل صحافی خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھارتی حکام کے حوالے سے اکیس ستمبر بروز جمعرات بتایا ہے کہ تریپورہ ریاست کے دارالحکومت کے دور افتادہ علاقے اگرتلا میں حریف سیاسی پارٹیوں اور پولیس اہلکاروں کے مابین شروع ہونے  والے فساد کے دوران صحافی شنتانو بھاؤمک کو لاٹھیوں سے تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے ہلاک کر دیا گیا ہے۔ جب اسے ہلاک کیا گیا، وہ اس واقعے کی کوریج کر رہا تھا۔

معروف بھارتی صحافی گوری لنکیش قتل

بھارت میں چوبیس گھنٹوں کے اندر دو صحافیوں کا قتل

آزادی صحافت کا عالمی دن: فکری اختلاف کے لیے احترام کی ضرورت

ریاستی پولیس کے سربراہ ابھیجیت سپتارشی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان جھڑپوں کے دوران درجن بھر پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز رونما ہونے والے اس تشدد کے بعد ابھی تک اس علاقے میں صورتحال کشیدہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان جھڑپوں کے بعد جب صورتحال کچھ بہتر ہوئی تو پولیس کو اسی مقام سے ایک صحافی کی لاش ملی۔

سپتارشی کے مطابق ابھی تک اس قتل کے تناظر میں کوئی گرفتاری نہیں کی گئی ہے لیکن ان جھڑپوں کو ہوا دینے کے الزام میں چار مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن سے تفتیش کا سلسلہ جاری ہے۔ صحافیوں کے حقوق کے لیے سرگرم ایک تنظیم CPJ کے اعدادوشمار کے مطابق بھاؤمک کی ہلاکت کے بعد اب بھارت میں نوے کی دہائی سے اب تک ہلاک ہونے والے صحافیوں کی تعداد انتیس ہو گئی ہے۔

بھارت میں دو ہفتے قبل ہی ملک کی ایک مشہور خاتون صحافی گوری لنکش کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ اس قتل پر ملک بھر میں غم وغصے کی ایک لہر دیکھی گئی تھی۔ گوری بھارت میں قوم پرست انتہا پسند سیاست کی ایک بڑی ناقد قرار دی جاتی تھیں۔ پچپن سالہ گوری کو پانچ ستمبر کو بنگلور میں ان کے گھر کے نزدیک ہی ہلاک کیا گیا تھا۔

گوری لنکش کے قتل کی تحقیقات کا سلسلہ بھی جاری ہے لیکن ابھی تک اس حوالے سے بھی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی ہے۔ رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نامی غیر سرکاری تنظیم کے اعدادوشمار کے مطابق سن دو ہزار پندرہ میں بھارت ایشیائی ممالک میں صحافیوں کے لیے خونریز ترین ملک تھا۔

DW.COM