1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
3 جون 2022

موجودہ دور میں محروم طبقوں کے مسائل اور زیادہ بڑھ گئے ہیں اور وہ دنیا بھر میں آواز بلند کر رہے ہیں۔ امریکہ میں افریقی نژاد، یورپ میں افریقی و ایشیائی باشندے اور بھارت میں دلت معتصانہ رویے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔

https://p.dw.com/p/4CFhz
DW Urdu Blogger Mubarak Ali
تصویر: privat

جب بھی لوگوں کا ہجوم جمع ہوتا ہے تو اس وقت ان کا ڈر اور خوف ختم ہو جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال 1789ء  میں پیرس کی ہے، جہاں خوف کی علامت سمجھے جانے والے ایک قلعہ پر عوام نے دھاوا بولا اور اسے مٹا دیا، جب کہ دوسری مثال برلن دیوار کو گرانے کی ہے۔

ایک معروف مورخ نے ہجوم کی نفسیات کے حوالے سے لکھا، ''جب ہجوم اکٹھا ہو جاتا ہے تو اس میں اتنی طاقت آجاتی ہے کہ اسے کسی قانون یا پابندی کی پرواہ نہیں ہوتی ہے۔‘‘ کچھ ماہرین کے خیال میں ہجوم جب اکٹھا ہوتا ہے، ان کے اندر کے پسماندہ جذبات ابھرتے ہیں جو فساد اور فتنے کا باعث ہوتے ہیں۔

اسی لیے ہجوم کی سیاست کو کنٹرول کرنے کے لیے قانون سازی کی جاتی ہے۔ فوج، پولیس، عدالتیں اور جیل خانے کو ہجوم کی سرپرستی کرنے والے رہنماؤں کو سزا دینے کے لیے استعمال کیا جاتاہے۔ موجودہ دور میں ہجوم کے خلاف آنسو گیس، واٹر کینن، لاٹھی چارج اور سنگین حالات میں ربڑ کی گولیاں یا آتشی اسلحہ کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔

ہجوم کی سیاست کے نتیجے میں کبھی حکمراں عوام کے مطالبات مان لیتے ہیں اور کبھی تصادم کا انتخاب کرتے ہیں۔ ہجوم کا مظہر کوئی نئی بات نہیں بلکہ مظاہرے قدیم تاریخ میں ہر معاشرے میں ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر رومی سلطنت میں زیادہ تر مظاہرے کھانے پینے کی اشیاء مہنگی ہونے یا قلت کی صورت میں ہوتے تھے۔ ایسے موقع پر لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو کر نعرے لگاتا اور عمارتوں اور یادگاروں کی توڑ پھوڑ کرتا۔ جیسے ایک موقع پر مجمعے نے پومپے کے مجسمے کو پاش پاش کر دیا تھا۔ روم کے شہریوں کا احتجاج فورم کے مقام پر ہوا کرتا تھا، جہاں قریب ہی دوکانیں، کلیسا، عدلیہ کی عمارت اور قید خانے بھی ہوتے تھے۔

ہجوم کے سامنے اشتعال انگیز تقریر جلتی پر تیل کا کام کر سکتی ہے۔  جیسے سیزر کے قتل کے بعد انٹونی نے جذباتی تقریر کی، جس پر ہجوم مشتعل ہوگیا اور انہوں نے سیزر کے قاتلوں کے گھروں کو آگ لگائی۔ رومی سلطنت نے اس کو روکنے کے لیے عوام کے لیے گندم کا راشن مقرر کیا اور تفریح و طبع کے لیے لڑائی اور کھیل کے مقابلوں کا سہارا لیا۔

عہد وسطیٰ کے یورپ میں حکومت سے وفاداری اور چرچ سے عقیدت تھی لیکن لیکن جب تیرہ سو اکتیس میں کسانوں پر لگان کی ادائیگی پر سختیاں ہوئیں، تو ایک بڑی بغاوت ہوئی۔ جب باغی لندن آئے تو انہوں نے امراء کے مکانوں میں لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کی اور جب یہ برطانیہ کے بادشاہ رچرڈ دوئم کے سامنے گئے، تو اس نے ان کے مطالبات مان لیے لیکن دوسرے ہی دن انہیں قتل کرا دیا۔

سن پندرہ سو پچاس سے لے کر سن اٹھارہ سو تک ہجوم کی سیاست برطانیہ پر غالب رہی۔ اس کی مختلف وجوہات تھیں۔ مثلاً یہ قدیم روایت تھی کہ گاؤں میں ایک بڑی کمیونٹی زمین ہوتی تھی، جہاں لوگ اپنے مویشی چراتے اور تھوڑی بہت کھیتی باڑی بھی کرتے لیکن جب 1600 صدی میں جاگیرداروں نے ان زمینوں کو اپنے کھیتوں میں شامل کر لیا، تو جگہ جگہ اس کے خلاف مظاہرے ہوئے۔

صنعتی انقلاب کے بعد جب بہت سے بیروزگار کسان شہروں میں آئے اور انہوں نے فیکٹریوں میں مزدور بن کر کام کرنا شروع کیا تو سرمایہ داری کے استحصال نے ان میں سیاسی شعور کو پیدا کیا اور انہوں نے ٹریڈ یونینز بنا کر مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا، جس سے ریاست ان کے مطالبات ماننے پر آہستہ آہستہ مجبور ہوئی۔

جدید دور میں معاشی اور سیاسی تبدیلیوں اور ابلاغ عامہ کے پھیلنے سے ہجوم کی سیاست پر بہت اثر ہوا۔ اس کے نتیجے میں 1960ء کی دہائی میں اہم تحریکوں کی ابتداء ہوئی جن میں لوگوں کے ہجوم نے اہم کردار ادا کیا۔ اس دہائی میں افریقی نژاد امریکیوں نے شہری حقوق کے لیے تحریک شروع کی۔ اس تحریک کے ایک رہنما میلکم ایکس تھے، جو بعد میں مسلمان بن کر شہباز کہلائے۔ ان کے خیال میں افریقی نژاد امریکیوں کو مسلح جدوجہد کرنی چاہیے جب کہ مارٹن لوتھر کنگ پرامن جدوجہد کے حامی تھے۔ لوتھر کی تقریریں سحر انگیز ہوتی تھی۔ ان دونوں رہنماؤں کو قتل کیا گیا لیکن ان کی تحریک کی وجہ سے امریکی حکومت افریقی نژاد امریکیوں کو شہری حقوق دینے پر مجبور ہوئی۔

انیس سو ساٹھ ہی کی دہائی میں ویت نام جنگ کے خلاف مظاہرے پوری دنیا میں شروع ہوئے اور امریکہ کو ویت نام چھوڑنا پڑا، جو امریکی فوج ناقابل تسخیر سمھجی جاتی تھی، اس نے جنگ مخالف عوامی جذبات کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

ساٹھ کی دہائی کو عوامی مزاحمت کی دہائی کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ اسی دہائی میں امریکہ اور یورپ کے طالب علموں نے سرمایہ داری کے خلاف تحریکیں شروع کیں، جن کا مقصد نظام تعلیم اور سماجی ڈھانچے دونوں کو بدلنا تھا۔ 1963ء میں فرانس کے طالب علموں نے ایک بہت بڑا مظاہرہ کیا، جس میں ورکرز، کاریگر اور سیاسی جماعتیں بھی شامل ہو گئی تھیں۔ یہ تعلیم کے علاوہ سیاسی اور سماجی تبدیلیاں بھی چاہتے تھے۔ طالب علموں کے ان مظاہروں کو دوسرا فرانسیسی انقلاب بھی کہا جاتا ہے۔  لیکن یہ تحریک اس لیے ناکام ہوئی کیونکہ کمیونسٹ پارٹی نے علیحدگی اختیار کر کے انتخابات مطالبہ کیا اور ریاست کی حمایت کی۔

جب طالب علموں کی تحریکیں ناکام ہو گئی تو اٹلی، جرمنی اور جاپان میں نوجوانوں نے اربن گوریلا کی حیثیت سے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا، لیکن دہشت گردی کی وجہ سے ان نوجوانوں کی جماعتوں کو عوامی حمایت نہیں مل سکی اور ریاستوں نے انہیں کچل کر ختم کر دیا۔

جدید زمانے میں ہجوم کی سیاست نے ایک اور کروٹ لی اور سرمایہ دارانہ نظام اور عالمی مالیاتی اداروں کے خلاف پوری دنیا میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ سوشل فورم کے نام سے ایک آرگنائزیشن بنائی گئی، اس کے کارکن ہر اس مقام پر پہنچ جاتے تھے، جہاں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک یا جی ایٹ کے اجلاس ہوتے۔ حالیہ دہائیوں میں ہجوم کی سیاست میں اس وقت تبدیلی آئی جب امریکہ اور یورپی طاقتوں نے دوسرے ملکوں میں فوجی مداخلتیں کیں۔ جب امریکہ نے عراق پر حملہ کیا ہے تو اینٹی وار یا جنگ کے خلاف بڑے بڑے مظاہرے ہوئے، اگرچہ یہ مظاہرے سامراجی جنگوں کو تو نہ روک سکے، مگر لوگوں میں ان کی وجہ سے سیاسی شعور پیدا ہوا ہے جو آگے چل کر تبدیلی کاباعث ہو گا۔

یہاں ہم پاکستان میں ہجوم کی سیاست کا ذکر کریں گے۔ ہجوم کی یہ سیاست دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ایک وہ ہجوم کہ جس میں تمام لوگ شریک ہوتے ہیں، دوسرا وہ ہجوم ہے، جو طالب علموں، مزدوروں، کسانوں، عورتوں، سرکاری ملازمین اور معذور افراد کا ہوتا ہے، جو اپنے مطالبات کے لیے مظاہرے کرتے ہیں۔ سیاسی اور مذہبی جماعتیں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے عوام کو جمع کرکے ہجوم کی شکل دیتی ہیں۔ یہ اَن پڑھ لوگوں کا ہجوم سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے مقاصد کو تو پورا کرتا ہے، لیکن ان کے اپنے مسائل اسی طرح سے باقی رہتے ہیں۔ یعنی مہنگائی، بیروزگاری، پولیس کا تشدد اور ان کے رہائش کے مسائل پر کوئی بات نہیں کرتا ہے۔ اس لیے ہجوم کی سیاست ناکام رہتی ہے۔ مذہبی جماعتیں ہجوم کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لیے ان کے مذہبی جذبات کو اُبھارتی ہیں، تاکہ روشن خیال لوگوں کو خوفزدہ کرکے خاموش کیا جا سکے۔ چونکہ پاکستانی معاشرے کا کلچر پسماندگی کی علامت ہے۔ اس لیے ہجوم کا کلچر بھی اس کا مظہر ہے۔ اگر ذرا بھی ہجوم کو چھوٹ مل جائے، تو یہ توڑ پھوڑ اور چوری سے باز نہیں آتا ہے۔

نوٹ: ڈی ڈبلیو اُردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔