1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

گراؤنڈ زیرو پر مسجد کی تعمیر کی راہ ہموار

4 اگست 2010

نیویارک میں گراؤنڈ زیرو پر مسجد اور اسلامی مرکز کے قیام کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ دور ہوگئی ہے۔ شہر کے ’لینڈ مارک پریزرویشن کمیشن‘ نے اس مقام کو محفوظ ورثہ قرار دینے کی درخواست رد کر دی ، جہاں مسجد کے قیام کا منصوبہ ہے۔

https://p.dw.com/p/Oc1f
تصویر: AP

متفقہ طور پر کئے گئے کمیشن کے اس فیصلے کے بعد اس مقام پر پہلے سے موجود عمارت کو منہدم کر کے وہاں مسجد تعمیر کی جا سکتی ہے۔ کمیشن کے تمام نو ارکان نے جب 1850ء میں تعمیر کی گئی اس عمارت کو محفوظ ورثہ قرار دینے سے انکار کرنے کا فیصلہ دیا تو ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ ہال میں موجود بعض لوگوں نے البتہ ’شیم شیم‘ کے نعرے بھی لگائے۔ ایک پلے کارڈ پر یہ بھی لکھا تھا: ’’تین ہزار لوگوں کے قاتلوں کو سراہا نہ جائے۔‘‘ ایک دوسرے پلے کارڈ پر لکھا تھا: ’’اسلام میں فتوحات کے مقام پر مسجدیں تعمیر کی جاتی ہیں۔‘‘

11. September Gedenken World Trade Center
گراؤنڈ زیروتصویر: AP

مسجد اور اسلامی سینٹر کی تعمیر کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اس سے مغربی اور مسلم دنیا کے درمیان رابطے بڑھیں گے۔ نیو یارک کے میئر مائیکل بلوم بیرگ کا کہنا ہے کہ سوال مذہبی آزادی کا ہے، جو ایک اہم امریکی قدر ہے۔ ’’یہ دنیا کا سب سے آزاد شہر ہے۔ یہی بات نیویارک کو خاص، مختلف اور قوی کرتی ہے۔ ہمارے دروازے سب کے لئے کھلے ہیں، ان لوگوں کے لئے جن کے کچھ خواب ہوں، جو سخت محنت کریں اور جو قوانین کی پابندی کریں۔‘‘

اگر یہ مقام شہری انتظامیہ کی جانب سے محفوظ ورثہ قرار دے دیا جاتا تو وہاں کسی بھی قسم کی نئی تعمیر پر پابندی لگا دی جاتی۔ یہ منصوبہ 9/11 کے بعد کے امریکہ میں اسلام کی جانب برداشت کے رویئے کا امتحان ثابت ہوا ہے۔ کثیرالمنزلہ اسلامی سینٹر کی تعمیر کے منصوبہ سازوں کا ارادہ ہے کہ وہاں ریستوراں، تھیئڑ ہال اور مختلف کھیلوں کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی اور یہ سینٹر تمام شہریوں کے لئے کھلا رہے گا۔

Moschee in Dearborn USA
امریکی ریاست مشیگن کی ایک مسجدتصویر: picture-alliance/ dpa

یہ مقام گیارہ ستمبر 2001ء کے دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بننے والے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی جگہ سے کچھ ہی فاصلے پر ہے۔ اسی لئے کچھ امریکی جذباتی طور پر بھی وہاں مسجد کی تعمیر کی مخالفت کر رہے ہیں۔ امریکہ میں نو سال پہلے کے ان حملوں میں لگ بھگ تین ہزار افراد مارے گئے تھے۔

قرطبہ Initiative سے وابستہ امام فیصل عبدالرؤف کے بقول وہ اور ان کے ساتھی اپنی ذمہ داری سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ امن، مفاہمت اور شراکت داری کے فروغ کا ایک بہترین موقع ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں