1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کیوبا: کاسترو خاندان کے ساٹھ سالہ اقتدار کا اختتام اگلے ہفتے

12 اپریل 2018

کیوبا میں پہلے فیڈل اور پھر راؤل کاسترو کی صورت میں کاسترو خاندان کا ساٹھ سالہ دور اقتدار اگلے ہفتے ختم ہو جائے گا۔ کیوبا میں کاسترو خاندان کے دور حکومت کے ان چھ عشروں کے دوران امریکا میں پندرہ صدور آئے اور چلے بھی گئے۔

https://p.dw.com/p/2vvWW
راؤل کاسترو، دائیں، کی ان کے بڑے بھائی فیڈل کاسترو کے ساتھ دو ہزار چودہ میں لی گئی ایک تصویرتصویر: picture-alliance/AP Photo/Cristobal Herrera

کیوبا کے دارالحکومت ہوانا سے جمعرات بارہ اپریل کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق بحیرہ کیریبیین کی اس جزیرہ ریاست میں ان دنوں اقتدار کی تبدیلی کی تیاریاں جاری ہیں۔ موجودہ صدر راؤل کاسترو آئندہ ہفتے اپنے عہدے سے علیحدہ ہو جائیں گے، تو حکومت ایک نئے ملکی رہنما کے حوالے کیے جانے کے ساتھ ہی اس ملک میں کاسترو خاندان کا چھ دہائیوں پر پھیلا ہوا دور اقتدار بھی اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔

Präsident Raul Castro in Cuba
راؤل کاسترو کی عمر اس وقت چھیاسی برس ہےتصویر: Getty Images/A. Roque

کوئی یادگار نہ بنائی جائے، کاسترو کی وصیت

فیڈل کاسترو کی راکھ سپرد خاک کر دی گئی

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق راؤل کاسترو کے جانشین صدر ممکنہ طور پر 57 سالہ میگوئیل دیاز کانیل ہوں گے، جو اس وقت ملک کے اول نائب صدر بھی ہیں۔ لیکن یہ بات یقینی ہے کہ وہ اس کمیونسٹ ریاست میں مستقبل کے تمام اہم فیصلے کرنے والی واحد شخصیت نہیں ہوں گے۔

موجودہ صدر راؤل کاسترو کی عمر اس وقت 86 برس ہے اور 19 اپریل کو جب وہ اپنے عہدے سے علیحدہ ہو جائیں گے، تو ہوانا میں قومی اسمبلی ان کے جانشین کا انتخاب تو کر لے گی لیکن راؤل کاسترو اس لیے آئندہ بھی تمام اہم فیصلوں میں شامل رہیں گے کہ وہ انیس اپریل کے بعد بھی حکمران کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ رہیں گے۔

Kuba Parlament Rede von Miguel Diaz-Canel in Havanna
راؤل کاسترو کے ممکنہ جانشین میگوئیل دیاز کانیلتصویر: ADALBERTO ROQUE/AFP/Getty Images

کیوبا کے سابق صدر فیڈل کاسترو انتقال کر گئے

فیڈل کاسترو نوے برس کے ہو گئے

ماہرین کے مطابق راؤل کاسترو کیوبا کی انتہائی طاقت ور کمیونسٹ پارٹی کی اگلی کانگریس تک، جو 2021ء میں ہو گی، اس پارٹی کی قیادت کرتے رہیں گے۔ اس کا ایک واضح مطلب یہ ہے کہ وہ ابھی مزید چند برس تک تمام اہم سیاسی فیصلوں پر پوری طرح اثر انداز ہو سکیں گے۔

کیوبا میں کمیونسٹ انقلابیوں کی پرانی نسل کو خدشہ ہے کہ جب راؤل کاسترو اقتدار میں نہیں ہوں گے، تو قدرے کم عمر نئے صدر ممکنہ طور پر ان کے شروع کردہ وسیع تر اصلاحاتی عمل کو روک بھی سکتے ہیں۔ لیکن راؤل کاسترو جانتے ہیں کہ وہ کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ کے طور پر آئندہ بھی تمام حکومتی اور سیاسی فیصلوں پر قریب سے آنکھ رکھ سکیں گے۔

Ernesto Che Guevara Fidel Raul Castro um 1959
کیوبا کے انقلاب کے دنوں میں 1959ء میں فیڈل کاسترو کی چے گویرا کے ساتھ لی گئی ایک تصویرتصویر: AFP/Getty Images

امریکا کی فلوریڈا یونیورسٹی کے کیوبن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے سربراہ خورگے دوآنی کہتے ہیں، ’’نئے صدر کو ان سے کم اختیارات حاصل ہوں گے، جو آج تک پہلے فیڈل کاسترو اور پھر ان کے چھوٹے بھائی راؤل کاسترو کو حاصل رہے ہیں۔ نئے صدر کو ان اختیارات میں دیگر سرکردہ سیاسی شخصیات اور اعلیٰ فوجی قیادت کو بھی اپنا ساتھی بنانا ہو گا۔‘‘

فیڈل کاسترو کی راکھ دفنا دی گئی

ان سرکردہ سیاسی اور فوجی شخصیات میں 60 سالہ موجودہ وزیر خارجہ برونو روڈریگیز، ملک میں اقتصادی اصلاحات کے 57 سالہ منصوبہ ساز مارینو مُورِیو اور راؤل کاسترو کے بیٹے کرنل آلیخاندرو کاسترو کے علاوہ موجودہ صدر کے سابق داماد لوئس البیرٹو لوپیز کائیاس بھی شامل ہوں گے، جو ملک کی طاقت ور فوج کے کنٹرول میں کام کرنے والے کاروباری انتظامی گروپ (GAE) کے سربراہ ہیں۔

فیڈل کاسترو کی قیادت میں کیوبا میں کمیونسٹ انقلاب 1959ء میں آیا تھا اور اس کے بعد سے آج تک وہاں اقتدار کی تبدیلی صرف ایک بار 2006ء میں اس وقت آئی تھی، جب 47 برسوں تک صدر رہنے کے بعد بہت بوڑھے اور کمزور ہو چکے فیڈل کاسترو کی جگہ انہی کی مرضی سے ان کے چھوٹے بھائی راؤل کاسترو ملکی صدر بنے تھے۔

تقریباﹰ پانچ عشروں تک اقتدار میں رہنے والے فیڈل کاسترو کا انتقال 2016ء میں ہوا تھا اور گزشتہ قریب 12 برسوں سے صدر کے فرائض انجام دینے والے راؤل کاسترو بھی اب 86 برس کے ہیں۔ یوں ٹھیک ایک ہفتے بعد جب جمعرات 19 اپریل کو راؤل کاسترو صدراتی عہدے سے علیحدہ ہو جائیں گے تو کیوبا میں کاسترو خاندان کا 60 سالہ دور اقتدار بھی اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔

ہوانا میں رولنگ اسٹونز کا ’اوباما سے زیادہ پرجوش استقبال‘

اوباما کا تاریخی دورہ کیوبا، پرجوش استقبال

امریکا نے کاسترو حکومت کی مخالفت کرتے ہوئے کیوبا پر نصف صدی سے بھی زائد عرصے تک سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی تھیں اور حیران کن بات یہ ہے کہ فیڈل اور راؤل کاسترو نے مجموعی طور پر کیوبا پر جتنا عرصہ حکمرانی کی، اس دوران امریکا میں، جہاں ہر چار سال بعد صدارتی انتخابات ہوتے ہیں، مجموعی طور پر 15 صدور آئے اور چلے بھی گئے۔

م م / ع ق / اے ایف پی