1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کورونا ویکسین بنانے کی متنازعہ کوشش جو گلے پڑ گئی

11 مارچ 2021

جرمنی میں پچھلے سال ایک ڈاکٹر نے اپنی پرائیویٹ لیبارٹری میں کورونا سے بچاؤ کی ویکسین بنانے کی کوشش کی لیکن حکام نے اس کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے الٹا اس پر کیس کر دیا۔

https://p.dw.com/p/3qUtc
Deutschland Covid-19 Impfung
تصویر: Jens Schmitz/imageBROKER/picture alliance

جرمنی کے مشہور جریدے ڈیئر اشپیگل نے پچھلے سال اپریل میں ڈاکٹر وِنفرائیڈ اشٹؤکر کی کاوشوں پر تفصیلی خبر دی اور اسے سراہا تھا۔ اس مضمون میں وِنفرائیڈ اشٹؤکر نے کورونا ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ کیا، جس سے انہیں یکایک کافی شہرت مل گئی۔

ونفرائیڈ اشٹؤکر کا تعلق شمالی جرمن شہر لُؤبیک سے ہے۔ جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اشٹؤکر نے اپنی ذاتی اور پرائیویٹ لیبارٹری میں کورونا ویکسین تیار کی اور اسے کم از کم ایک سو افراد پر آزمایا تھا۔

برطانیہ میں دو کروڑ لوگوں کو ویکسین لگا دی گئی

ان کے مطابق ان کی اس ویکسین کے کوئی منفی اثرات سامنے نہیں آئے تھے اور وہ ستانوے فیصد مؤثر یا کارگر ثابت ہوئی تھی۔ جریدے کے مطابق اشٹؤکر کی ویکسین کو جلد بڑے پیمانے پر تیار کر کے اس سے سارے جرمنی کو مستفید کیا جا سکتا تھا۔

Winfried Stöcker Mediziner und Unternehmer
ڈاکٹر وِنفرائیڈ اشٹؤکر ایک طبی محقق ہونے کے علاوہ کاروباری شخصیت بھی ہیں، وہ اپنے شہر لُؤبیک میں ہوائی اڈہ بھی رکھتے ہیںتصویر: Carsten Rehder/dpa/picture alliance

لیکن ڈیئر اشپیگل میگزین کے مطابق جرمن بیوروکریسی ایک ذہین موجد کی راہ میں روکاوٹ بنی اور حکام کی طرف سے ونفرائیڈ اشٹؤکر کی حوصلہ افزائی کی بجائے ان کے خلاف فوجداری الزام کے تحت کارروائی شروع کر دی گئی۔

دعوؤں پر سوالیہ نشان

لیکن یہ معاملہ اتنا سیدھا نہ تھا اور جلد واضح ہو گیا کہ ونفرائیڈ اشٹؤکر کے غیرمصدقہ دعوؤں پر ڈاکٹر کمیونٹی میں خاصا غم وغصہ تھا۔

ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ ویکسین کی آزمائش کے لیے اشٹؤکر کی طرف سے لوگوں کے تحفظ سے متعلق تمام پہلوؤں کو یکسر نظرانداز کرنا اور سائنسی تحقیق کے بنیادی پرٹوکول کی دھجیاں اڑا دینا تھا۔

امریکا میں کورونا کی چوتھی لہر کا خدشہ

ضوابط یکسر نظرانداز

ونفرائیڈ اشٹؤکر نے ابتدا میں ویکسین کی منظوری کی کوئی باضابطہ درخواست نہیں دی تھی اور نہ ہی لوگوں پر اس کی آزمائش کی اجازت حاصل کی تھی۔

بظاہر انہوں نے اپنی لیبارٹری میں ایک ویکسین تیار کی اور سیدھا اپنے آس پاس کے لوگوں پر آزمانا شروع کر دی۔ سائنسی تحقیق کی دنیا میں اسے بنیادی ضوابط کی بڑی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔

Libanon Beirut | Coronaimpfung
ویکسین یا کسی دوا کی تیاری اور پھر اس کی منظوری ایک قدرے لمبا اور پیچیدہ عمل ہوتا ہےتصویر: Marwan Naamani/dpa/picture alliance

ویکسین یا کسی دوا کی تیاری میں لیبارٹری پراسس کے ساتھ ساتھ جانوروں پر بھی اس کی آزمائش کی جاتی ہے۔ یہ ایک قدرے لمبا اور پیچیدہ عمل ہوتا ہے۔ اس میں وقت بھی لگتا ہے اور متعلقہ حکام کی منظوری درکار ہوتی ہے، جس میں جرمنی کے قومی ادارے پال ایہرلش انسٹیٹیوٹ کا اہم کردار ہوتا ہے۔

ونفرائیڈ اشٹؤکر پر الزام ہے کہ انہوں نے ان تمام ضوابط کو نظرانداز کیا۔

سابقہ تحقیق کا تسلسل

ونفرائیڈ اشٹؤکر کے مطابق انہوں نے اپنی ویکسین کو انتہائی آسانی سے مدافعتی نظام کو قوت دینے والے مادے کے ساتھ ایک ٹیسٹ ٹیوب میں تیار کیا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا  کہ ان کی ویکسین کا مقابلہ یرقان کی اے اور بی اقسام کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔

کورونا ویکسین مہم پر جرمن شہريوں کا اظہار تشویش

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ مدافعت کو قوت بخشنے والے اینٹی جین پہلے سے تیار کیے جا چکے ہیں لہذا انہیں انسانی جسم میں داخل کرنے کا کوئی خوف نہیں ہونا چاہیے۔

لیکن جرمن حکام کے مطابق اشٹؤکر کی تیار کردہ ویکسین دراصل اتنی بھی کوئی منفرد چیز نہیں تھی بلکہ ان کے نزدیک یہ پہلے سے موجود ٹیکوں کا تسلسل ہے جو انفلوئنزا وغیرہ کے لیے موزوں ہے۔

ایسی ہی ایک ویکسین اس وقت تیاری کے آخری مراحل پر ہے جس کی یورپی حکام جلد منظوری دے سکتے ہیں۔

فابیان شمٹ (ع ح، ش ج)