1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کشتی کے انجن میں دھماکا، 45 تارکین وطن سمندر میں ڈوب گئے

20 اگست 2020

اقوام متحدہ کے مہاجرین کے امدادی ادارے اور عالمی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق رواں برس لیبیا کے ساحلوں کے قریب کسی کشتی کی تباہی کے اب تک کے سب سے بڑے واقعے میں کم از کم 45 افریقی تارکین وطن سمندر میں ڈوب گئے۔

https://p.dw.com/p/3hFCg
Symbolbild I Schiffsunglück vor Libyen
تصویر: Getty Images/AFP/F. Nasri

یو این ایچ سی آر اور آئی او ایم کی طرف سے گزشتہ پیر کو پیش آنے والے اس واقعے کے بارے میں آج جمعرات کو دیے گئے ایک بیان میں ایسے واقعات کے بعد ریسکیو کارروائیوں اور ڈوب جانے والے تارکین وطن کی تلاش کے کاموں میں تیزی لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا، '' 37 زندہ بچ جانے والے تارکین وطن، جن کا تعلق خاص طور سے سینیگال، مالی،چاڈ اور گھانا سے ہے، کو ماہی گیروں نے بچایا اور انہیں ساحل پر پہنچنے کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔‘‘

ان عالمی اداروں کی طرف سے سامنے آنے والے بیان سے یہ پتا بھی چلا ہے کہ آئی او ایم کے عملے کو یہ بھی بتایا گیا کہ 45 دیگر تارکین وطن، جن میں پانچ بچے بھی شامل ہیں، کی موت اُس وقت واقع ہوئی جب اس بڑی کشتی کا انجن زواہراہ کے ساحل کے قریب دھماکے سے پھٹ گیا۔

Symbolbild I Schiffsunglück vor Libyen
بحیرہ روم کے رستے سب سے زیادہ تارکین وطن یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔تصویر: Getty Images/AFP/P. Garcia

جنگ سے تباہ حال مغربی افریقی ملک لیبیا بحرہ روم کے راستے یورپ پہنچنے کے خواب دیکھنے والے تارکین وطن کا مرکزی روٹ ہے۔ اس ملک کی اپنی معاشی، معاشرتی اور سیاسی صورتحال دگرگوں ہے تب بھی وہاں اس وقت ایک اندازے کے مطابق  654,000  تارکین وطن کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ انہیں انتہائی تنگ رہائش گاہیں اور صحت کی نہ ہونے کے برابر سہولیات میسر ہیں۔

اقوام متحدہ کے مہاجرین کے امدادی ادارے کے مطابق پیر کو پیش آنے والے اس حادثے میں ہونے والی ہلاکتوں کے بعد اس سال بحیرہ روم سے لیبیا کے راستے  یورپ پہنجنے کی کوششوں کے دوران راستے ہی میں ہلاک ہو جانے والے تارکین وطن کی مجموعی تعداد 302 ہو گئی ہے۔

حالیہ مہینوں کے دوران سینکڑوں تارکین وطن کو، تشدد پھیلنے کے خطرات کے باوجود سمندر میں ہی روک کر ان کے بحری جہازوں یا کشتیوں کو واپس لیبیا بھیجا جاتا رہا ہے۔ یورپی یونین کے پروگرام کی عدم موجودگی میں لیبیا کے سرکاری جہازوں، جنہوں نے ریسکیو کی ذمہ داری لی تھی، کے ساتھ سات ہزار سے زائد افراد کو واپس لیبیا بھیج دیا گیا۔

Jemen Migranten
عالمی ایجنسیوں نےایک متبادل اسکیم کی ضرورت پر زور دیا ہے۔تصویر: AFP/IOM

 

اقوام متحدہ کے مہاجرین کے امدادی ادارے یو این ایچ سی آر اور عالمی ادارہ برائے مہاجرت آئی او ایم کے مطابق لیبیا کے ساحلی علاقوں کو تارکین وطن کے لیے کسی بھی صورت محفوظ بندر گاہی علاقے نہیں سمجھا جانا چاہیے اور تارکین وطن کو وہاں نہیں اترنا چاہیے۔ ان ایجنسیوں نےایک متبادل اسکیم کی ضرورت پر زور دیا ہے جس کے تحت وہ  ان تارکین وطن کو بحفاظت بندرگاہوں تک پہنچا سکیں یا انہیں وہاں روکا جا سکے۔

ک م / م م (روئٹرز، اے ایف پی)

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں