1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ڈونلڈ ٹرمپ جرمنی کو نظرانداز کیوں کر رہے ہیں؟

23 اگست 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جی سیون اجلاس میں شرکت کے لیے فرانس پہنچ رہے ہیں، تاہم وہ یورپ کے اس سفر میں جرمنی میں نہیں رک رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جرمنی کے لیے یہ سرد رویہ ٹرمپ کی ایک بڑی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

https://p.dw.com/p/3OMSj
U.S. Präsident Donald Trump
تصویر: Getty Images/C. Jackson

امریکی صدر ایک مرتبہ پھر یورپ پہنچ رہے ہیں۔ وہ جمعے کے روز دنیا کی سات بڑی اقتصادی قوتوں کے اجلاس جی سیون میں شرکت کے لیے فرانس جائیں گے۔ اس اجلاس میں شرکت کے بعد وہ دوسری عالمی جنگ کے آغاز کی 80ویں برسی کی یادگاری تقریبات میں شرکت کے لیے پولینڈ کا دورہ بھی کر رہے ہیں، تاہم اس پورے دورے میں ڈونلڈ ٹرمپ کا جرمنی میں پڑاؤ کا کوئی منصوبہ نہیں۔ اس دورے میں جرمنی کے ہم سایہ ممالک میں ہونے کے باوجود ٹرمپ کی جانب سے جرمن چانسلر انگیلا میرکل سے ابھی یا مستقبل قریب میں ملاقات کا کوئی اعلان بھی نہیں کیا گیا ہے۔

میرکل، ٹرمپ مخالف امیدیں اور جرمن سیاست میں ہلچل کا سال

جی ٹوئنٹی سمٹ: عالمی تجارتی نظام میں اصلاحات پر ’اتفاق‘

گزشتہ دو برسوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جرمن چانسلر انگیلا میرکل سے جرمنی میں صرف ایک بار ملے ہیں۔ یہ ملاقات سن 2017 میں شمالی جرمن شہر ہیمبرگ میں جی سیون اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، تاہم اب تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بہ طور مہمان برلن کا رخ نہیں کیا ہے۔

جرمنی اور امریکا کے درمیان تعلقات میں اس سرد مہری کی وجوہات کی فہرست طویل ہے۔ دفاعی شعبے میں کم اخراجات، ایران کے حوالے سے مختلف جرمن موقف، روس سے نارتھ اسٹریم ٹو گیس پائپ لائن کے ذریعے قدرتی گیس کا حصول اور اہم انفراسٹرکچر منصوبوں میں چین کی شرکت روکنے کے امریکی ارادے کے خلاف میرکل کی مزاحمت وہ اہم وجوہات ہیں، جن کی بنا پر صدر ٹرمپ اور چانسلر میرکل کے درمیان تعلقات سرد رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی موضوعات ایسے ہیں، جن پر امریکا اور جرمنی کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔

سیاسی تناؤ اگر ایک طرف بھی رکھ دیا جائے تو بھی کہا جاتا ہے کہ ٹرمپ اور میرکل بالمشافہ ملاقات میں بھی دو جدا شخصیتوں کے حامل دکھائی دیتے ہیں۔ گزشتہ موسم گرما میں ڈی ڈے تقریبات کے موقع پر تو ڈونڈ ٹرمپ نے چانسلر میرکل کے ساتھ مصافحہ تک نہیں کیا تھا۔

جرمن کونسل برائے خارجہ تعلقات کے ایک امریکی ماہر جوزف مرامل کے مطابق جرمنی کے ساتھ کھچاؤ اور ڈنمارک کی جانب سے امریکا کو گرین لینڈ فروخت کرنے سے انکار پر صدر ٹرمپ کا ستمبر میں ڈنمارک کا مجوزہ دورہ منسوخ کرنے کا اعلان، ٹرمپ کا 'مخصوص طریقہ ہائے کار‘ ہے۔ ''وہ اپنے آپ کو باس سمجھتے ہیں۔ اپنے واضح اہداف اور مطالبات کا اظہار کرتے ہیں اور اس کے جواب میں جزا یا سزا کا فیصلہ کرتے ہیں، جیسے کسی کمپنی کے باس کا اپنے ملازمین کو احکامات پر عمل کرنے یا نہ کرنے پر ردعمل سامنے آتا ہے۔‘‘

مرامل کا کہنا ہےکہ جرمنی اور ڈنمارک کو نظرانداز کرنا 'مخصوص سزا‘ جیسا ہے۔ دوسری جانب پولینڈ کے لیے صدر ٹرمپ کی گرم جوشی وارسا پر واشنگٹن کے زبردست اثر کی عکاسی کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت پولینڈ یورپ میں انگلینڈ کے بعد امریکا کا سب سے قریبی حلیف ملک ہے۔

ریبیکا شٹاؤڈنمائر، ع ت، ع ا