1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پوپ فرانسس اور حسینہ واجد روہنگیا مسئلے کے حل کے لیے پر امید

صائمہ حیدر
12 فروری 2018

کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے میانمار کے روہنگیا مہاجرین کو پناہ دینے پر بنگلہ دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مسلمان روہنگیا اقلیت کے مسئلے کے حتمی حل کی امید کا اظہار کیا ہے۔

https://p.dw.com/p/2sYHD
Bangladesch Dhaka - Papst Franziskus besucht Rohingya Flüchtlinge
جمعہ پہلی دسمبر کو پوپ فرانسس سے روہنگیا مہاجرین کے ایک نمائندہ گروپ نے ملاقات کی تھیتصویر: Reuters/M. Rossi

بنگلہ دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد نے آج ویٹیکن میں پوپ فرانسس سے ملاقات کی ہے۔ ویٹیکن کے مطابق اس ملاقات میں پوپ فرانسس کے دو ایشیائی ممالک، بنگلہ دیش اور میانمار کے حالیہ دورے اور ان ممالک  میں کیتھولک مسیحی اقلیت  کی سماجی شراکت داری پر بات چیت کی گئی۔

علاوہ ازیں پوپ فرانسس اور حسینہ واجد کی اس ملاقات میں بین المذاہب ہم آہنگی اور روہنگیا مسلمانوں کے بحران سے متعلق  موضوعات بھی زیر گفتگو رہے۔ دونوں فریقین نے مسئلے کے دیر پا اور تیز رفتار حل کی امید ظاہر کی۔

گزشتہ برس دسمبر کے آغاز میں پوپ فرانسس نے بنگلہ دیش اور میانمار کا دورہ کیا تھا۔ میانمار کی فوج کے گزشتہ برس اگست میں روہنگیا اقلیت کے خلاف فوجی آپریشن کے نتیجے میں سات لاکھ کے قریب روہنگیا افراد بنگلہ دیش کے علاقے کوکس بازار میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

Bangladesch Dhaka - Papst Franziskus besucht Rohingya Flüchtlinge
تصویر: Reuters/M. Rossi

 بنگلہ دیش اور میانمار کے دورے کے دوران پوپ فرانسس نے ان مہاجرین کے حق میں اپیل کی تھی جس کا مثبت ردعمل سامنے آیا تھا۔ بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد کی پوپ فرانسس سے ملاقات میں ملک کے سکریٹری خارجہ پیترو پارولین بھی ہمراہ تھے۔

میانمار کے دورے کے دوران پوپ فرانسس نے روہنگیا مہاجرین کا ذکر نہیں کیا تھا، لیکن جمعہ پہلی دسمبر کو اُن سے روہنگیا مہاجرین کے ایک نمائندہ گروپ نے ملاقات کی تھی۔ اس اٹھارہ رکنی گروپ میں دو برقع پوش خواتین اور دو کم عمر بچے بھی شامل تھے۔ بنگلہ دیشی دارالحکومت میں ہونے والی اس ملاقات کے بعد پوپ فرانسس نے اپنی گفتگو میں پہلی مرتبہ روہنگیا مسلمانوں کا براہ راست تذکرہ کیا تھا۔