1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف مقدمے میں استغاثہ کے دلائل

6 اکتوبر 2011

پاکستانی کرکٹرز کے خلاف اسپاٹ فکسنگ کے مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے کہا ہے کہ یہ کیس انٹرنیشنل کرکٹ میں وسیع پیمانے پر پائی جانی والی بدعنوانی کو ظاہر کرتا ہے۔

https://p.dw.com/p/12mk2
سلمان بٹتصویر: AP

پاکستانی کھلاڑیوں کو گزشتہ برس اگست میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کے دوران دانستہ نو بالز کرانے کے الزامات کا سامنا ہے۔ تاہم چھبیس سالہ سابق کپتان سلمان بٹ اور اٹھائیس سالہ فاسٹ بالر محمد آصف بدعنوانی کے تحت رقوم کے حصول کی سازش، اور جوئے میں دھوکہ دہی کی سازش کے الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

تیسرے کھلاڑی محمد عامر اور بٹ کے برطانوی ایجنٹ مظہر مجید کو بھی ایسے ہی الزامات کا سامنا ہے، تاہم وہ لندن میں آصف اور بٹ کے ساتھ مقدمے کا سامنا نہیں کر رہے۔

بدھ کو سدرک کراؤن کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران اپنےد لائل میں استغاثہ آفتاب جعفری نے کہا: ’’یہ مقدمہ بین لاقوامی کرکٹ میں وسیع سطح پر پھیلی ہوئی بدعنوانی کی مایوس کن کہانی ہے، جس کے مرکزی کردار پاکستان کرکٹ ٹیم کے رکن ہیں۔‘‘

جعفری کے مطابق نیوز آف دی ورلڈ کے سابق انڈر کور رپورٹر مظہر محمود کو مجید کے فکسنگ میں ملوث ہونے کے الزامات کے بارے میں پتہ چلا تھا۔ اس پر اس نے معاملے کی تفتیش کا فیصلہ کیا۔ وہ ایک سٹے باز ایجنٹ کے رُوپ میں مجید سے ملا۔

Pakistan Cricket Mohammad Asif Korruption
محمد آصفتصویر: AP

ان کھلاڑیوں پر یہ الزامات برطانوی اخبار ’نیوز آف دی ورلڈ‘ کی جانب سے سامنے آئے، جن کے بعد پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ سمیت محمد آصف اور محمد عامر کے ساتھ وہاب ریاض سے اسکاٹ لینڈ یارڈ نے پوچھ گچھ کی۔ یہ اخبار بھی اب بند ہو چکا ہے۔

بعد ازاں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بھی ان کھلاڑیوں کو عبوری طور پر معطل کیا تاہم یہ حکم وہاب کے لئے نہیں تھا۔ نیوز آف دی ورلڈ نے الزامات پر مبنی رپورٹ 28 اگست کو شائع کی تھی۔

انہیں رواں برس فروری میں اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے الزام میں قصور وار قرار دیا گیا تھا۔ مظہر مجید پر بھی فرد جرم عائد کر دی گئی تھی۔

 

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: حماد کیانی

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں