1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان میں پولیو مہم کا آغاز

10 اپریل 2018

پاکستان نے رواں ہفتے ملک بھر کے لگ بھگ چالیس لاکھ بچوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے بچانے کے لیے ملک بھر میں امسالہ پولیو ویکسین مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

https://p.dw.com/p/2vkps
Pakistan Impfhelfer bei den Polio-Impfungen in einem Slum von Karatschi
تصویر: DW/M. Merten

پاکستان میں دو لاکھ ساٹھ ہزار رضا کار اور کارکنان کوشش کریں گے کہ ایک ہفتے پر محیط اس مہم کے دوران ملک میں پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو پولیو ویکسین دی جائے۔ پولیو کے حوالے سے پاکستان کے قومی کو آرڈینیٹر محمد صفدر  نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا، ’’ہم اس بیماری کے خاتمے کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں اورچاہتے ہیں کہ پاکستانی عوام  گھر گھر جا کر پولیو ویکسین فراہم کرنے کی مہم کی حمایت کریں۔‘‘

پاکستان کا شمار اب بھی دنیا کے ان تین ممالک میں ہوتا ہے جہاں پولیو کا وائرس موجود ہے۔ پاکستان کی طرح افغانستان اور نائیجیریا وہ ممالک ہیں جہاں اب بھی پیدا ہونے والے بچوں کو پولیو لاحق ہونے کا خطرہ ہے۔

2018ء میں پاکستان میں پولیو کا صرف ایک کیس ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 2014ء  سے اب تک پولیو لاحق ہونے کے واقعات میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ 2014ء میں پولیو کے 306 کیس ریکارڈ کیے گئے جبکہ گزشتہ برس ملک بھر میں پولیو کے صرف آٹھ کیس سامنے آئے تھے۔

پولیو کے خاتمے کی کوشش، سلمان احمد پرعزم

پاکستان میں پولیو کا خاتمہ ایک پیچیدہ عمل ہے۔ دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان اور مذہبی انتہا پسند حلقے پولیو کے قطروں یا پولیو ویکسین کو اسلام مخالف سمجھتے ہیں۔ ان افراد کی رائے میں اس سے انسان کو دیگر بیماریاں لاحق ہونے کا خطرہ ہوتا ہے یہاں تک ان کی رائے میں پولیو ویکسین کے ذریعے  مسلمانوں بچوں کو بانجھ بنانےکی کوشش کی جا رہی ہے۔

پاکستان میں کئی مرتبہ پولیو کی ٹیموں پر حملے کیے جا چکے ہیں اور کئی پولیو رضاکار اور کارکنان بچوں کو پولیو بچانے کی کوشش میں اپنی جانیں بھی کھو بیٹھیں ہیں۔ اس خطرے کے باوجود کراچی میں پولیو ٹیم پر عزم ہے۔  بلقیس عمر گزشتہ چھ سالوں سے پولیو مہم کے ساتھ وابستہ ہیں۔ بلقیس نے روئٹرز کو بتایا،’’ہمیں خطرہ تو ہے لیکن ہم بچوں کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘‘

پاکستان میں پولیو مہم کو بہت زیادہ نقصان 2011ء کے بعد سے بھی اٹھانا پڑا۔ اس سال امریکی افواج نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے گھر حملہ کر کے اسے ہلاک کر دیا تھا۔ ایک پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ  انہوں نے پولیو مہم کا کارکن بن کر امریکی خفیہ ادارے سی آئی کو اسامہ بن لادن کی شناخت کی تھی۔

ب ج/ ع ب، روئٹرز

 

پولیو سے متاثرہ، وہیل چیئر ٹیبل ٹینس چمپیئن