1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان میں ریوینج پورن کا بڑھتا ہوا رجحان

17 مئی 2022

انتقام لینے کے لیے کسی شخص کے خلوت میں فلمائے گئے ’جنسی لمحات‘ کی سرعام تشہیر کرنے کو ریوینج پورن کہا جاتا ہے۔ اس عمل کو مغرب میں بھی برا تصور کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے اب پاکستان میں یہ رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔

https://p.dw.com/p/4BOjC
Symbolbild | Revenge porn
تصویر: PA Wire/picture alliance

ریوینج پورن سے مراد سابقہ ​​محبت کرنے والوں یا خلوت کے شراکت داروں کی واضح تصاویر یا ویڈیوز کو آن لائن پھیلا دینا ہے۔ حالیہ چند برسوں سے پاکستان میں ریوینج پورن کے ذریعے ڈیجیٹل ہراساں کرنا خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ میری نظر میں یہ موجودہ سائبر دور میں پیدا ہونے والی برائیوں میں سے ایک ہے، جس نے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں ممالک کے افراد کو متاثر کیا ہے اور کر رہی ہے۔ سائبر کرائم کی اس انتہائی 'فحش شکل‘ نے دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کی نجی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ایسا کیا ہی کیوں جاتا ہے؟ اس کے بارے میں سائیکالوجسٹ سارہ نقوی کہتی ہیں کہ اس کا بنیادی مقصد دوسرے کے امیج کو خراب کرنا ہوتا ہے۔ ہمارا پاکستانی معاشرہ بہت برے طریقے سے خراب ہو رہا ہے اور یہاں اُسی کا امیج اچھا سمجھا جاتا ہے، جو دیکھنے میں شریف اور بھلا مانس ہو۔ 

ریونیج پورن جاری کرنے والا شخص اپنے ذاتی مقاصد حاصل کرنے کے لیے اپنے مخالف کا نظر آنے والا شریف امیج مسخ کر دے تاکہ وہ اس کے مطالبات ماننے پر مجبور ہو جائے۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں ایسا لگا ہوا لیبل نہ تو آسانی سے اتر سکتا ہے اور نہ معاشراہ اترنے دیتا ہے۔ اسی لیے بعض متاثرین اس حادثے کے اثر سے نکل نہیں پاتے ہیں۔

 جب آپ اپنا مقصد پانے کے لیے اور کچھ نہیں کر سکتے تو کردارکُشی کو بہترین ہتھیار سمجھتے ہیں، یہاں تک کہ طلاق اور خلع کے مقدمات بھی فحاشی کے الزام لگائے بغیر دائر نہیں ہوتے۔ اگر دیکھا جائے تو ریوینج پورن ایک ٹوٹے ہوئے رشتے کو بدنام کرنے کے علاوہ سیاسی مقاصد یا مالی مقاصد پورے کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

DW Urdu Blogerin Arifa Rana
عارفہ راناتصویر: privat

پاکستان میں پچھلے کچھ عرصے میں اس کا، جہاں استعمال ذاتی مقاصد کے لیے ہوا ہے، وہیں یہ سیاسی حریفوں کو زیر کرنے کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کو مالی فوائد حاصل کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

ریوینج پورن کی تازہ تریں مثال عامر لیاقت اور دانیہ شاہ کا کیس ہے جبکہ اس سے قبل سیاسی شخصیت زبیر عمر اور مذہبی شخصیت مفتی قوی کی ایسی ویڈیوز، جو ریوینج پورن کے زمرے میں آتے ہیں، نے کافی ہلچل مچائی تھی۔ دوسری جانب عام عوام کے ساتھ پیش آنے والے ایسے واقعات کو اکثر متاثرہ خاندانوں کی جانب سے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

سن 2019ء  کے دوران تقریباﹰ 4000 سے زائد شکایات  ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کے پاس رپورٹ ہوئیں، جن میں سے تقریباﹰ 1600 ذاتی نوعیت کی تصاویر اور ویڈیوز کے بارے میں تھیں۔ یہ گزشتہ تین برسوں میں موصول ہونے والی مجموعی شکایات کا 45 فیصد ہے۔ یہ شرح 2020 ء کے دوران کئی گنا بڑھ گئی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ آنے والے برسوں میں مزید بڑھے گی۔

اس حوالے سے قوانین پر ابھی بھی کام جاری ہے جبکہ دنیا کے صرف چند ممالک ایسے ہیں، جہاں اس پر سختی سے پابندی ہے اور اس کو باقاعدہ ایک جرم کی حیثیت حاصل ہے۔ ان ممالک میں اسرائیل، جاپان اور فلپائن سرفہرست ہیں جبکہ دیگر ممالک ایسے مناسب قانون نہ ہونے کی وجہ سے رازداری کے تحفظ اور آن لائن جرائم کی درجہ بندی میں ڈالتے ہیں۔

بھارت جیسے ممالک میں ریوینج پورن کے خلاف کوئی باقاعدہ قانون نہیں ہے جبکہ پاکستان نے 2016ء میں حساس تصاویر کے غیر ضروری پھیلاؤ کے خلاف سائبر قوانین کے تحت ایک قانون منظور کیا تھا، جس کے مطابق کسی شخص کی کسی بھی قسم کی ویڈیو یا تصویر کو اس کی رضامندی کے بغیر پھیلانا جرم ہے۔

ایسا کرنا اس مذکورہ شخص کے لیے جانی یا مالی طور سے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اور اس اس گھناؤنے فعل میں ملوث شخص کو پانچ سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا مقرر ہے۔ 

پاکستان کی پارلیمنٹ میں، جب جامع آن لائن ضوابط زیر بحث لائے گئے تو پاکستانی خواتین کا انٹرنیٹ کا استعمال کرنا اس بحث کا اہم پوائنٹ تھا۔ اُسی سال جولائی میں قندیل بلوچ کو اس کے اپنے بھائی نے غیرت کے نام پر قتل کر دیا تھا۔ جہاں قندیل بلوچ کیس بین الاقوامی موضوع بنا، وہیں آن لائن بدسلوکی کی مقامی کہانیاں اخبارات میں زیادہ تعداد میں چھپنے  لگیں۔

اُس وقت ملک بڑے پیمانے پر ایک تبدیلی کے دوراہے پر تھا اور وہ تبدیلی تھی انٹرنیٹ کی آسان رسائی اور سمارٹ فون کی دستیابی۔ لاکھوں پاکستانیوں نے اپنا پہلا سمارٹ فون خریدا اور دیہات میں بھی سستا ڈیٹا دستیاب ہونے کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ تک رسائی آسان تر ہو گئی۔ ایسے میں معاشرے میں موجود عدم برداشت اور دوسرے جذباتی عوامل نے وائرل ویڈیوز خاص طور سے خواتین کی وائرل ویڈیوز اور آن لائن ہراسمنٹ جیسے منفی ماحول کو فروغ دیا۔

016 2 ء میں نئے قوانین منظور ہونے کے بعد پاکستان میں تقریباً تمام سائبر جرائم وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے تحت آتے ہیں۔ سائبر کرائمز قوانین کے نفاذ کے بعد سے ایف آئی اے کی جانب سے حساس غیر متفقہ پورن اور آن لائن ہراساں کرنے کے معاملات کو بھی دیکھا جا رہا ہے۔

 ایڈووکیٹ فرزانہ نذیر بھلر، جو آن لائن بدسلوکی کا مقدمات چلانے کی خواہشمند خواتین کی مدد کرتی ہیں، کہتی ہیں کہ انہوں نے ایسے معاملات بھی دیکھے ہیں، جہاں ایجنسی ثبوت تک پہنچ نہیں پائی اور تفتیش کرنے میں ناکام رہی، یا پھر آن لائن جرائم کی رپورٹ کرنے کے لیے آگے آنے والی خواتین کو بلیک میل بھی کرتی رہی۔

 ایک خبر کے مطابق 2020ء  میں ایک نوجوان خاتون نے ایک مرد کی جانب سے ایجنسی کو اس کی حساس تصاویر آن لائن اپ لوڈ کرنے کی اطلاع دی تھی۔ ملزم کو جیل میں ڈال دیا گیا لیکن خاتون کو ملزم کے دوستوں کی جانب سے ہراساں کیا جاتا رہا اور ایف آئی اے افسران نے اس کی اس شکایت کو سنجیدگی سے نہ لیا۔ اس کے بعد خاتون نے خودکشی کر لی تھی۔ پاکستان میں معاشرتی دباؤ، بدنامی کا ڈر اور قوانین پر عمل میں بے پروائی  اس عمل کی روک تھام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

 

نوٹ: ڈی ڈبلیو اُردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔