1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

'پاکستان تحریک انصاف شرپسندوں کا گروہ ہے'

21 مارچ 2023

پاکستان میں جاری احتجاجی تحریک کے تناظر میں ملک کے اعلیٰ سویلین اور فوجی حکام کی طویل میٹنگیں ہوئی ہیں۔ ان میٹنگوں میں پی ٹی آئی کو "سیاسی جماعت کے بجائے کالعدم تنظیموں کے تربیت یافتہ شرپسندوں کا گروہ" قرار دیا گیا۔

https://p.dw.com/p/4Oy9I
Prime Minister Shahbaz Sharif
تصویر: National Assembly of Pakistan/AP/picture alliance

پاکستانی میڈیا رپورٹوں کے مطابق پہلا اجلاس وزیر اعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہوا جس میں وزرا اور حکمران اتحادی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی اور یہ تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق دوسرا اجلاس ایک گھنٹہ جاری رہا اور اس میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر اور انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے بھی شرکت کی۔

ان میٹنگوں  کے بعد جاری ایک سرکاری بیان کے مطابق ان دونوں اجلاس میں عمران خان کی صدارت والی پاکستان تحریک انصاف پارٹی کی جاری احتجاجی تحریک کے متعلق انتہائی ناموافق نقطہ نظر کا اظہار کیا گیا۔ ان دونوں اجلاسوں میں شرکاء نے پرتشدد مظاہروں اور سرکاری اور نجی املاک کی توڑ پھوڑ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے پر اتفاق کیا۔

عمران خان جی ایچ کیو کے لیے سب سے بڑا خطرہ

بیان کے مطابق دونوں میٹنگوں میں شرکاء نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو "سیاسی جماعت کے بجائے کالعدم تنظیموں کے تربیت یافتہ شرپسندوں کا گروہ " قرار دیا اور اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا عزم کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ میٹنگ کے شرکاء نے عدالتی احکامات کی تعمیل کرانے والے پولیس اور رینجرز پر حملوں کی شدید مذمت کی اور اسے ریاست کے خلاف دشمنی قرار دیا گیا۔ "حملہ آوروں نے پولیس اہلکاروں کو بری طرح مارا پیٹا، سرکاری گاڑیوں کو آگ لگادی، پولیس کے خلاف پٹرول بموں کا استعمال کیا اور بدامنی پیدا کی۔"

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ، "ایسے تمام شواہد اور ثبوت دستیاب ہیں جس کے تحت بدامنی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔"

ان اعلیٰ سطحی میٹنگوں میں مسلح افواج اور عدلیہ سمیت ریاستی اداروں کو 'کردار کشی کی مہم‘ کے ذریعے بدنام کرنے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں سوشل میڈیا پر فوج اور آرمی چیف کے خلاف مہم کی مذمت کی گئی اور لوگوں پر زور دیا گیا کہ وہ اس کا حصہ نہ بنیں۔

اجلاسوں میں شرکاء نے پرتشدد مظاہروں اور سرکاری اور نجی املاک کی توڑ پھوڑ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے پر اتفاق کیا
اجلاسوں میں شرکاء نے پرتشدد مظاہروں اور سرکاری اور نجی املاک کی توڑ پھوڑ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے پر اتفاق کیاتصویر: K.M. Chaudary/AP Photo/picture alliance/dpa

مزید گرفتاریاں ہوں گی

بیان میں کہا گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی کے مزید رہنماوں اور کارکنوں کو گرفتار کیا جائے گا۔

پیر کے روز بھی سابق وزیر اعظم عمران خان کے حامیوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ  جاری رہا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ہفتے کے روز سے پیر تک عمران خان کے گرفتار حامیوں کی تعداد 159 ہو گئی ہے۔ صرف دارالحکومت اسلام آباد میں ہی 59 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان تصادم میں 50 سے زائد سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں جب کہ متعدد کاروں اور موٹرسائیکلوں کو آگ لگا دی گئی۔

پاکستان کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہوں، عمران خان

عمران خان نے پیر کے روز ایک ٹویٹ کرکے کہا کہ ہفتے کے روز اسلام آباد کی عدالت میں ان کی مجوزہ پیشی دراصل انہیں قتل کرنے کا ایک اور منصوبہ تھا۔

انہوں نے ٹویٹ میں کہا، "میں یہ انکشاف کروں گا کہ کس طرح مجھے موت کے جال میں پھنسایا گیا تھا اور عدالتی کمپلکس کے اندر مجھے مارنے کا منصوبہ  بنایا گیا تھا۔"

زمان پارک میں صورتحال کشیدہ، پولیس اور کارکنان میں جھڑپیں

 ج ا/ ص ز(روئٹرز، ایجنسیاں)