1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ٹی ٹی پی کی دھمکی: صحافی برادری اور سول سوسائٹی کو تشویش

عبدالستار، اسلام آباد
7 ستمبر 2021

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی میڈیا کو وارننگ جاری کرنے پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور صحافی برادری میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ انہوں نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ دھمکی کو سنجیدگی سے لے اور انہیں فوری طور تحفظ فراہم کرے۔

https://p.dw.com/p/401gr
Pakistan Islamischer Staat Führer Hafiz Saeed
تصویر: picture-alliance/dpa/TTP

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں صحافیوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ریاست اور ٹی ٹی پی کے درمیان ہونے والی جنگ میں ریاست کی طرف داری نہ کریں اور اس میں فریق بننے سے باز رہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ پاکستان کی صحافتی برادری ٹی ٹی پی والوں کو عسکریت پسندی یا دہشت گرد نہ لکھے۔

کوئٹہ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا خود کُش حملہ، چار ہلاکتیں

صحافی برادری کی مشکلات میں اضافہ

کئی ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کی یہ دھمکی صحافیوں کے لیے مزید خطرات پیدا کرنے کا موجب بنے گی۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سے وابستہ  اسد بٹ کا کہنا ہے کہ حکومت کو ان دھمکیوں کا فوری طور پر نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، "حکومت اس دھمکی کو بہت سنجیدگی سے لے کیونکہ صحافی پہلے ہی بہت سارے خطرات سے دوچار ہیں اور اس دھمکی کی وجہ سے وہ مزید مشکلات میں گھر جائیں گے۔ ایک طرف ریاست ہوگی، جواس بات پر بضد ہو گی کہ  ٹی ٹی پی والوں کو دہشت گرد کہا جائے اور دوسری طرف ٹی ٹی پی والے ہوں گے، جو اس بات پر اصرار کریں گے کہ انہیں عسکریت پسند یا دہشت گرد نہیں لکھا جائے۔‘‘

Pakistan Taliban-Führer Mullah Fazlullah
تحریک طالبان پاکستان کا سابق رہنما ملا فضل اللہ، یہ ایک امریکی ڈرون حملے میں مارا جا چکا ہےتصویر: picture-alliance/AP Photo/Site Intel Group

اسد بٹ کے بقول "ٹی ٹی پی والے افغان طالبان کے نظریاتی ساتھی ہیں اور ہم یہاں افغان طالبان کی فتح پر جشن منا رہے ہیں، یہ بنیادی طور پر افغان طالبان کی کامیابی ہی ہے جس سے ٹی ٹی پی کے حوصلے بڑھے ہیں اور ایک بار پھر وہ سر گرم ہو رہی ہے۔‘‘

 ٹی ٹی پی کے خلاف ایکشن کا مطالبہ: کیا ایکشن ممکن ہے؟

بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی صحافی برادری

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کی فیڈرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن ناصر ملک کا کہنا ہے کہ اس دھمکی کی وجہ سے صحافتی برادری کی زندگی بالعموم اور خیبر پختون خواہ اور بلوچستان کے صحافیوں کی زندگیاں بالخصوص شدید خطرات سے دوچار ہوگئی ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، "اب اس دھمکی سے پوری صحافتی برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور ہمیں اپنے ساتھیوں کی زندگیوں کی فکر ہے۔‘‘

ناصر ملک نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر صحافیوں کو تحفظ فراہم کرے اور ان کی سلامتی کے لیے سخت سے سخت اقدامات اٹھائے۔ "پورے ملک میں صحافتی تنظیمیں اس دھمکی کے حوالے سے صلاح و مشورے کر رہی ہیں اور وہ حکومت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ ان کو تحفظ فراہم کرے بلکہ ان کی لائف اور ہیلتھ انشورنس کے حوالے سے بھی فوری طور پر قانون سازی کرے۔

Afghanistan Taliban-Kämpfer in traditioneller Kleidung
پاک افغان سرحد کی طورخم گزرگاہ پر طالبان جنگجو ایک طرف اور دوسری جانب پاکستانی فوجی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیںتصویر: Hussain Ali/imago images/Pacific Press Agency

احتیاطی رویے

سابق انسپکٹر جنرل سندھ اور سکیورٹی امور کے ماہر افضل علی شگری نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، "میرا خیال ہے کہ حکومت کو میڈیا ہاؤسز کی نگرانی سخت کرنی چاہیے وہاں پر انٹیلی جنس اور سکیورٹی مزید بڑھانا چاہیے، صحافیوں کو اپنی نقل و حرکت  کے حوالے سے محتاط رہنا چاہیے، سوشل میڈیا پر اپنے اسٹیٹس کو بار بار اپڈیٹ نہیں کرنا چاہیے اس سے دہشت گردوں کو ان کی نقل و حرکت کے بارے میں اندازہ ہو سکتا ہے، اس کے علاوہ انہیں اپنے راستے تبدیل کرتے رہنا چاہیے۔‘‘

ٹی ٹی پی کے ہزاروں جنگجو افغان سرحد پر موجود، اقوام متحدہ

ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی والے پہلے ہی حملے کررہے ہیں، ''لیکن اس وارننگ سے یہ لگتا ہے کہ وہ اپنی کارروائیاں مزید تیز کرینگے، ماضی میں بھی میڈیا نے ان کے خلاف رائے عامہ ہموار کی تھی اور اب بھی حملوں کی صورت میں میڈیا ایسا کر سکتا ہے۔ اس لئے وہ میڈیا کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔‘‘