1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ٹرمپ کے انکار کے بعد جرمنی فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہو گیا

31 اگست 2018

امریکی صدر ٹرمپ کے فلسطینیوں کی مالی امداد کی بندش کے فیصلے کے بعد جرمنی فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہو گیا ہے۔ جرمن وزیر خارجہ ماس کے بقول فلسطینیوں کے پاس رقوم ختم ہو گئیں تو قابو میں نہ آنے والی صورت حال پیدا ہو جائے گی۔

https://p.dw.com/p/346fs
Gazastreifen UNRWA Protest  Versorgung Palästinenser
تصویر: Reuters/I. Abu Mustafa

وفاقی جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس کے مطابق فلسطینیوں کو مالی امداد کی اشد ضرورت ہے اور اگر ان کو دستیاب مالی وسائل ختم ہو گئے، تو ’اسباب و نتائج کا ایک دوسرے سے جڑا ایسا طویل سلسلہ شروع ہو جائے گا، جسے قابو کرنا ممکن نہیں ہو گا‘۔ ہائیکو ماس کے الفاظ میں اسی وجہ سے جرمنی اب فلسطینیوں کے لیے بین الاقوامی سطح پر ایک نئی پیش رفت کی کوشش کر رہا ہے۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ جرمن حکومت فلسطینی مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کی ایجنسی کی فنڈنگ میں ’واضح‘ اضافہ کرنے پر غور کر رہی ہے۔ عالمی ادارے کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی مہاجرین UNRWA ایسے فلسطینیوں کو مدد فراہم کرتی ہے، جو مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے نتیجے میں اپنے گھر بار سے محروم ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق یہ ایجنسی تقریباﹰ پچاس لاکھ فلسطینیوں کو خوراک اور طبی مدد فراہم کرنے کے علاوہ متعدد اسکول بھی چلاتی ہے۔ تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس ایجنسی کی وجہ سے فلسطینی مہاجرین کے بحران میں تیزی پیدا ہوئی ہے۔ امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ نے اس سال اس ایجنسی کو صرف ساٹھ ملین ڈالر کی رقوم فراہم کیں۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ اس ایجنسی کی فنڈنگ مکمل طور پر روک بھی سکتی ہے۔

 سن دو ہزار سترہ کے دوران واشنگٹن حکومت کی طرف سے UNRWA کے لیے 365 ملین ڈالر مختص کیے گئے تھے، جو ترقیاتی اور انسانی بنیادوں پر چلائے جانے والے امدادی منصوبوں پر صرف کی گئی تھیں۔ امریکا کی طرف سے اس فنڈنگ کی کمی کے باعث فلسطینی مہاجرین کی مشکلات میں اضافے کا خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔ اس تناظر میں اقوام متحدہ اپنے تحفظات کا اظہار بھی کر چکا ہے۔

اس صورتحال میں جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے یورپی یونین کے رکن ممالک کے اپنے ہم منصب وزراء کو ارسال کردہ ایک خط میں لکھا ہے کہ برلن حکومت اس ایجنسی کی فنڈنگ میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ جرمنی اس حوالے سے کتنی رقوم فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ ڈی پی اے نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ رقوم اتنی ہوں گی کہ ان سے امریکی فنڈنگ میں کمی کی وجہ سے ہونے والے 217 ملین یورو کے خسارے کا ازالہ ہو سکے گا۔

ہائیکو ماس نے کہا ہے کہ اہم بات یہ کہ یورپی یونین اس ایجنسی کی مدد کے لیے مشترکہ اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں استحکام کے تناظر میں UNRWA انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ماس نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ ایجنسی غیرفعال ہوئی تو اس کے نتیجے میں ’ناقابل کنٹرول ردعمل‘ پیدا ہو جائے گا۔ رواں برس جرمنی نے اس ایجنسی کو تقریباﹰ 96 ملین ڈالر کی فنڈنگ فراہم کی ہے۔

امریکی صدر کا الزام ہے کہ فلسطینیوں کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی کوششوں میں مشکلات درپیش ہیں جبکہ فلسطینی اتھارٹی ٹرمپ کو اسرائیل نواز قرار دیتی ہے۔ دوسری طرف یورپی یونین اس تنازعے کے خاتمے کے لیے ابھی تک دو ریاستی حل کو ناگزیر سمجھتی ہے۔ فلسطینی حکام اور اسرائیل کے مابین امن مذاکرات کا سلسلہ عرصے سے تعطل کا شکار ہے۔

ع ب / م م / خبر رساں ادارے

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں