1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

نیٹو فضائی حملہ : درجنوں افغان شہری ہلاک

22 فروری 2010

افغانستان میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے ایک فضائی حملے میں، کابل میں ملکی کابینہ کے مطابق، کم ازکم 27 عام شہری مارے گئے۔ ان ہلاکتوں کے باعث کابل حکومت اور نیٹو کے تعلقات میں نئی تلخی پیدا ہوتی نظرآرہی ہے۔

https://p.dw.com/p/M85D
افغان صدر کرزئی کی اتحادی فوجی کمانڈروں کے ساتھ ایک تصویر، فائل فوٹوتصویر: picture-alliance/ dpa

آپریشن مشترک میں اِس بات کو یقینی بنایا جائے کہ طالبان کے خلاف جنگی کارروائیوں میں کوئی بے گناہ شہری نشانہ نہ بنیں۔ یہ مطالبہ افغان صدر حامد کرزئی نے ملکی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے ہفتہ کے روز کیا تھا۔ لیکن نتیجہ یہ کہ اگلے ہی دن اتوار کو نیٹو طیاروں کے ایک نئے فضائی حملے میں 27 بے گناہ افغان شہری لقمہء اجل بن گئے۔ مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جبکہ اس حملے میں 12 افراد زخمی بھی ہوئے۔

یہ حملہ افغان صوبے دے کُندی کے ضلع گجران میں تین ایسی گاڑیوں کے ایک قافلے پر کیا گیا جن کے بارے میں نیٹو کے فوجیوں کو شبہ تھا کہ ان میں طالبان سوار تھے۔

امریکی جنرل اسٹینلے میک کرسٹل نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اتحادی دستوں کی طرف سے افغان حکومت سے معذرت کر لی ہے جبکہ کابل میں افغان کابینہ کے ایک اجلاس میں سویلین آبادی پر نیٹو کے اس تازہ خونریز حملے کی شدید الفاظ میں مذمت بھی کی گئی۔

افغانستان میں ایک ہفتے کے دوران یہ تسیرا موقع ہے کہ نیٹو کی فوجی کارروائیوں میں ایک بار پھر بے گناہ شہری موت کی نیند سلا دئے گئے۔ اس سے پہلے پندرہ فروری کو جنوبی افغانستان میں نیٹو کے ایک راکٹ حملے نے پانچ افغان باشندوں کی زندگی کا چراغ گل کر دیا تھا جب کہ گزشتہ پیر ہی کے روز افغان صوبہ قندوز میں سات افغان پولیس اہلکار بھی نیٹو کے ایک فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔

Afghanistan NATO Marines Soldaten Krieg
آپریشن مشترک میں حصہ لینے والے امریکی فوجیتصویر: AP

افغان شہریوں کی ان پے در پے ہلاکتوں پر کابل حکومت سیخ پا ہے اور ایسے ہر واقعہ کے بعد افغان کابینہ کی طرف سے ہر مرتبہ مذمت بھی کی جاتی ہے۔ ایسے مذمتی بیانات ہر بار افغان ذرائع ابلاغ کی زینت بھی بن جاتے ہیں، نیٹو کی طرف سے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے معافی بھی مانگی جاتی ہے، لیکن ابھی تک افغان حکومت اور اس کے مغربی اتحادی کوئی ایسے حکمتِ عملی وضع کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے، جو طالبان کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائیوں میں معصوم شہریوں کو جان کا تحفظ فراہم کر سکے۔

اِسی دوران امریکی جنرل ڈیوڈ پیٹریس نے ایک امریکی ٹی وی کو بتایا کہ آپریشن مشترک طالبان کے خلاف ممکنہ طور پر بارہ سے اٹھارہ ماہ تک جاری رہنے والی فوجی مہم کا ابتدائی مرحلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کی مزاحمت سخت ہے لیکن اب یہ مزاحمت منظم نہیں رہی۔

جنرل پیڑیس کے افغانستان متعینہ ایک ماتحت جنرل میک کرسٹل کا کہنا ہے کہ قندھار اور ہلمند آپریشن مشترک کے اگلے نشانے ہوں گے۔ اسٹینلے میک کرسٹل کے بقول مرجاہ میں طالبان اب بھی شدید مزاحمت کر رہے ہیں تاہم نادِ علی میں صورتِ حال نسبتا بہتر ہیں۔

رپورٹ: عبدالستار

ادارت: مقبول ملک