1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اعلامیے میں سازش کا لفظ نہیں تھا، فوجی ترجمان

14 اپریل 2022

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے اپنی پریس کانفرنس میں 'لیٹرگیٹ‘ سے متعلق کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں 'بیرونی سازش‘ کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

https://p.dw.com/p/49wmY
Pakistan | Babar Iftikhar
تصویر: Aamir Qureshi/AFP/Getty Images

پاکستانی فوج کے ترجمان نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اعلامیے میں 'بیرونی سازش‘ کے الفاظ نہیں تھے۔فارمیشن کمانڈرز کے اجلاس کے بعد کی گئی اس پریس کانفرنس کا مقصد تو بظاہر اس اجلاس سے متعلق تفصیلات جاری کرنا تھا، تاہم ترجمان نے اس موقع پر صحافیوں کو تمام طرح کے سوالات کی دعوت بھی دی۔ اس موقع پر پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں فوجی ترجمان بابر افتخار نے  کہا کہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیہ ہی پاکستانی فوج کا موقف ہے۔ انہوں نے اس میٹنگ کی تفصیلات تو نہیں بتائیں تاہم کہا کہ اس اعلامیے میں 'سازش‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت اگر چاہے تو اس میٹنگ کے نکات عوام کے سامنے رکھ سکتی ہے۔

عمران خان کے دور میں معیشت جمود کا شکار رہی، شہباز شریف

فوری طور پر عام انتخابات منعقد کروائے جائیں، عمران خان

واضح رہے کہ عمران خان گزشتہ کئی روز سے امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر کی جانب سے لکھے گئے ایک خط کا ذکر کرتے رہے ہیں۔ عمران خان کا دعویٰ رہا ہے کہ ان کی حکومت گرانے کے لیے سازش امریکا نے تیار کی تھی اور اسی سازش کے تحت اپوزیشن ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی تھی۔

فوجی ترجمان میجر جنرل افتخار نے عمران خان کے اس موقف کو بھی رد کر دیا جس میں عمران خان نے کہا تھا کہ فوج کی جانب سے ان کے سامنے تین آپشنز رکھے تھے، جن میں سے ایک مستعفی ہونے، دوسرا عدم اعتماد کی تحریک کا مقابلہ کرنے یا اپوزیشن کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک واپس لینے پر نئے انتخابات کے اعلان سے متعلق تھا۔ تاہم فوجی ترجمان نے کہا کہ خود سابق وزیر اعظم عمران خان نے فوج سے رابطہ کر کے سیاسی ڈیڈلاک کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرنے کا کہا تھا کیوں کہ سیاسی رہنما ایک دوسرے سے گفتگو کے لیے تیار نہیں تھے۔ ترجمان نے بتایا کہ اسی دعوت پر فوجی سربراہ جنرل باجوہ وزیر اعظم کے دفتر کے تھے۔ ترجمان کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی خواہش تھی کہ اپوزیشن عدم اعتماد کی تحریک واپس لے تو وہ اسمبلیاں تحلیل کر کے نئے انتخابات کا انعقاد چاہتے تھے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ فوجی سربراہ نےعمران خان کا موقف اپوزیشن رہنماؤں کے سامنے رکھا تھا، تاہم اپوزیشن نے عدم اعتماد کی تحریک واپس لینے سے انکار کر دیا تھا۔

گزشتہ روز پشاور میں عمران خان نے ایک عوامی جلسے سے خطاب میں الزام عائد کیا تھا کہ ملک کے جوہری اثاثے 'چوروں اور ڈاکوؤں‘ کے ہاتھوں میں دے دیے گئے ہیں۔ اسی بابت ایک سوال کے جواب میں فوجی ترجمان نے کہا، ''جب سے ہمارا پروگرام شروع ہوا ہے، تمام سیاسی قیادتوں نے ملک کے ساتھ پوری وفاداری نبھاتے ہوئے اس پروگرام کو آگے بڑھایا ہے۔ اسی لیے پاکستان کے جوہری اثاثوں کی سکیورٹی کا میکینزم دنیا بھر میں بہترین نظام مانا جاتا ہے۔ اس لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘‘

وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے ملیے!

تاہم انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو سیاسی طور پر استعمال کرنے سے اجتناب برتنا لازمی ہے۔

فوجی ترجمان نے اس پریس کانفرنس میں کہا کہ پچھلے چوہتر سال سے پاکستانی عوام فوج سے یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ فوج سیاست میں عمل دخل سے پرہیز کرے۔''اب ہم نے حقیقی معنوں میں اسے عملی جامہ پہنایا ہے۔ پچھلے دو سال میں ہم پر ایسا کوئی الزام نہیں کہ ہم نے کسی ضمنی انتخاب یا کسی بلدیاتی انتخاب میں مداخلت کی۔ یہ اچھا فیصلہ ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی رہے گا۔‘‘

ع ت / م م