1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستشمالی امریکہ

میزائل کا فائر ہونا حادثہ تھا جس پر افسوس ہے، بھارتی حکومت

11 مارچ 2022

پاکستانی علاقے میں ایک بھارتی میزائل کے گرنے کے واقعے پر اسلام آباد نے  نئی دہلی سے اس واقعے کی وضاحت طلب کی تھی۔ نئی دہلی نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک حادثہ قرار دیا ہے۔

https://p.dw.com/p/48N26
تصویر: Indian Press Information Bureau/handout/epa/dpa/picture alliance

پاکستانی علاقے میاں چنوں میں ایک بھارتی میزائل کے گرنے کے واقعے پر نئی دہلی حکام نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ بھارت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ واقعہ ایک تکنیکی خرابی کی وجہ سے رونما ہوا۔

بھارتی موقف

 بھارتی بیان کے مطابق نو مارچ 2022ء کے روز معمول کی نگرانی جاری تھی کہ اس دوران تکنیکی خرابی کی وجہ سے حادثاتی طور پر ایک میزائل فائر ہو گیا۔ بیان میں مزید بتایا گیا کہ بھارتی حکومت اس واقعے کی سنجیدگی کو سمجھتی ہے اور اسے لیے اس نے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، ''معلوم ہوا ہے کہ یہ میزائل پاکستان کے ایک علاقے میں گرا۔ یہ ایک انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے۔ تاہم یہ سن کر اطمینان بھی ہوا کہ اس حادثے میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘‘

Grenze Dogharoun zu Afghanistan in der Nähe von Taibad im Osten des Iran
تصویر: Vahid Salemi/AP Photo/picture alliance

پاکستانی الزام

پاکستان نے الزام عائد کیا تھا کہ بھارت نے مبینہ طور پر اس کے فضائی حدودکی خلاف ورزی کرتے ہوئے ملکی علاقے میں ایک سپرسونک میزائل گرایا۔ پاکستانی دعوے کے بعد بھارت نے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر مسلح افواج کو الرٹ کر دیا ہے۔

وضاحت طلب

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ نو مارچ کو چھ بج کر 33 منٹ پر بھارتی حدود سے ایک 'شے‘ نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔ ان کے مطابق اس بھارتی مشکوک 'شے‘ کو پاکستانی صوبہ پنجاب کے شہر میاں چنوں کے قریب مار گرایا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت بتائے کہ وہاں کیا ہوا اور کس مقصد کے لیے یہ خلاف ورزی کی گئی؟

بھارتی ناظم الامور کی طلبی

اس واقعے کے بعد پاکستانی دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں تعینات بھارت کے ناظم الامور کو طلب کیا اور ان سے بھارت کے اس اقدام پر شدید احتجاج بھی کیا۔ پاکستان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی ناظم الامور کوبتایا گیا کہ وہ بین الاقوامی اصولوں اور ایوی ایشن سیفٹی پروٹوکول کے برعکس فضائی حدود کی اس صریح خلاف ورزی پر پاکستان کے تحفظات بھارتی حکومت تک پہنچائیں، ''اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ واقعات بھارت کی جانب سے فضائی سلامتی کو نظر انداز کرنے اور علاقائی امن و استحکام کے حوالے سے بے حسی کے بھی عکاس ہیں۔‘‘

اسلام آباد میں ملکی دفتر خارجہ نے اس واقعے  کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اس چھان بین کے نتائج سے پاکستان کو بھی آگاہ کرے۔

(ع ا، ج ا / م م)