1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ممبئی کی مشہور 'کراچی بیکری‘ بالآخر بند ہو گئی

جاوید اختر، نئی دہلی
5 مارچ 2021

 بھارت میں سب سے قدیم اور مشہور ترین بیکریوں میں سے ایک ممبئی کی 'کراچی بیکری‘ بالآخر بند ہو گئی۔ یہ بیکری اپنے نام کی وجہ سے ہندو قوم پرست جماعتوں کے نشانے پر تھی۔

https://p.dw.com/p/3qFew
Indien Mumbai Süßigkeiten-Geschäft Karachi Sweets
تصویر: Shahid Ansari

ہندو قوم پرست مقامی جماعت مہاراشٹر نو نرمان سینا 'کراچی بیکری‘ کو بند کرانا اپنا 'کارنامہ‘ قرار دے رہی ہے۔ حالانکہ بعض لوگ اس کے بند ہونے کا سبب مالی مشکلات قرار دے رہے ہیں۔ ممبئی کے متعدد ٹوئٹر صارفین نے کراچی بیکری کے بند ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ممبئی شہر کا نقصان ہے۔

راج ٹھاکرے کی قیادت والی مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) نے کراچی نام پر اعتراض کیا تھا اور اس کے کارکنوں نے چند ماہ قبل اس بیکری پر حملہ کر دیا تھا، جس کے بعد سے کافی تنازعہ بھی پیدا ہو گیا تھا۔

ایم این ایس کے ایک رہنما حاجی سیف شیخ نے ایک ٹوئٹ کر کے دعوی کیا کہ کراچی بیکری کا بند ہونا ان کی پارٹی کا کارنامہ ہے۔ شیخ نے ٹوئٹ میں کہا، ”ایم این ایس کے ذریعہ کراچی نام کی وجہ سے کراچی بیکری کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کے بعد  اس بیکری نے بالآخر ممبئی میں اپنی دکان بند کر دی۔" 

سیف شیخ نے بعد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ”میں نے کراچی بیکری کو کاروبار بند کرنے کے لیے نہیں کہا لیکن سرحد پر ہمارے جوان مارے جارہے ہیں۔ ہر روز پاکستان کے ساتھ جھڑپوں کی خبریں آتی تھیں۔ اس لیے میں نے نام تبدیل کرنے کے لیے پندرہ دنوں کا الٹی میٹم دیا تھا۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ اسے Karachee کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی نام اپنے آبائی شہر سے ان کے قدیم تعلق کا مظہر ہے۔ لیکن آج میں خوش ہوں۔"

 سیف شیخ نے اس سے قبل بھی کہا تھا کہ کراچی کے نام سے بھارتیوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔

مہاراشٹر میں حکمراں شیو سینا کے کچھ رہنماؤں نے بھی کراچی بیکری کے مالکان کو دھمکی دی تھی کہ یا تو وہ دکان بند کر دیں یا پھر کم از کم اس کا نام ایسا تبدیل کر دیں جو مراٹھی سے ملتا جلتا ہو۔ اس دھمکی کے بعد بیکری مالکان نے کچھ دنوں کے لیے نام کو کاغذ سے ڈھانپ دیا تھا۔

Indien Mumbai Süßigkeiten-Geschäft Karachi Sweets
ایم این ایس کی دھمکی کے بعد بیکری مالکان نے کچھ دنوں کے لیے نام کو کاغذ سے ڈھانپ دیا تھا۔تصویر: Shahid Ansari

دعوے کی تردید

سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے ایم این ایس کے رہنما کے دعوے کی تردید کی ہے۔ممبئی نارتھ سینٹرل ڈسٹرکٹ فورم نام کے ایک ٹوئٹر ہینڈل نے ایم این ایس کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے لکھا، ”کیوں غلط خبر پھیلا رہے ہو، کراچی بیکری نے بزنس کی کمی کی وجہ سے اپنی دکان بند کر دی ہے۔حاجی سیف کی وجہ سے نہیں۔"

’کراچی بیکری‘ کے منیجر رامیشور واگھمارے کا کہنا تھا،”دکان بند کرنے کا فیصلہ تجارتی اسباب کی بنا پر کیا گیا ہے۔ اگر کوئی دوسرا اس کا سہرا لینا چاہتا ہے تو لینے دیجیے۔"

کراچی بیکری

بھارت میں کراچی بیکری کی بنیاد سن 1953 میں رکھی گئی تھی۔ اس تاریخی کنفیکشنری کے مالکانہ حقوق ایک سندھی ہندو رمنانی خاندان کے پاس ہیں، جو تقسیم ملک کے بعد کراچی سے بھارت چلا آیا تھا۔

رمنانی خاندان نے جنوبی بھارت کے شہر حیدر آباد میں کراچی بیکری کے نام سے سن 1953 میں پہلی دکان کھولی تھی۔ حیدر آباد میں کراچی بیکری کی دکانیں آج بھی انتہائی مقبول ہیں۔ جنوبی اور مغربی بھارت میں 'کراچی بیکری' اور 'کراچی سویٹس' ایک معروف برانڈ ہے، جس کی مختلف بڑے شہروں میں شاخیں ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ دائیں بازو کی ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی اور اس کی حامی انتہا پسند ہندو تنظیمیں اکثر مسلم ناموں والے مقامات یا پھر شہروں کے نام تبدیل کرانے کی بات کرتی رہتی ہیں۔


پاکستان میں بھگوان سازی

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں