1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ملک کئی سال پیچھے چلا گیا: وزیر اعظم گیلانی

8 اگست 2010

صوبہء پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تباہی کے بعد سیلابی ریلا اب سندھ میں داخل ہوگیا ہے، جس کےبعد گڈو اور سکھر بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ سیلاب کے باعث جیکب آباد، شکار پور اور اوباڑو میں صورتحال خطرناک ہو گئی ہے۔

https://p.dw.com/p/Oezm
تصویر: Abdul Sabooh

گڈو کے مقام پر پانی کا اخراج گیارہ لاکھ کیوسک سے زائد ہے۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے آج سکھر بیراج کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری اور دوست ممالک متاثرین کی بحالی کے لیے مدد کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الحال نقصانات کا تخمینہ نہیں لگایا جا سکتا۔ لاکھوں لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، جس کی تلافی ناممکن ہے۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ سندھ میں سیلاب سے انیس اضلاع متاثر ہوئے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں آنے والے سیلاب کے باعث ملک کئی سال پیچھے چلا گیا ہے۔

وزیر اعظم کے اعلانات اپنی جگہ مگر حقیقتِ حال یہ ہے کہ سول انتظامیہ سیلاب کے بعد کی صورتحال اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے میں ناکام رہی ہے۔ تاہم متاثرین نے فوج کے کردار کو سراہا ہے۔

دادو مورو پل سے چھ لاکھ کیوسک سے زائد پانی گزرنا شروع ہو گیا ہے۔ نوشہرہ فیروز، نواب شاہ، جام شورو اور دادو میں تین سو زائد دیہات اور لاکھوں زرعی اراضی زیرِ آب آ گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ سیلاب سے دو ہزار پانچ میں آنے والے سیلاب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔اب بھی ہزاروں افراد امداد کے منتظر ہیں اور کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں۔گڈو اور سکھر بیراج پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافے کے بعد ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی اور محکمہء آب پاشی نے بند اور دریائی پشتوں کی حفاظت شروع کر دی ہے۔

دریائے سندھ کے کناروں پر آباد پانچ لاکھ کے قریب افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے مگر اب بھی بعض مقامات پر لوگ سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں اور امداد کے منتظر ہیں۔

NO FLASH Pakistan Überschwemmung Flut
اس سیلاب سے ملک کے ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیںتصویر: AP
Pakistan Flut August 2010
ایک خاتون غم سے نڈھالتصویر: AP

رپورٹ: رفعت سعید، کراچی

ادارت: امجد علی

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں