1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ملالہ نے کینیڈا کی اعزازی شہریت وصول کر لی

12 اپریل 2017

نوبل امن انعام یافتہ پاکستانی نوجوان طالبہ ملالہ یوسف زئی نے کینڈا کی اعزازی شہریت وصول کر لی ہے۔ اس کے علاوہ وہ کینیڈا کی پارلیمان سے خطاب کرنے والی کم عمر ترین شخصیت بھی بن گئی ہیں۔

https://p.dw.com/p/2b9Az
ملالہ یوسف زئیتصویر: Reuters/S. Keith

کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے آج بدھ 12 اپریل کو ملکی دارالحکومت اوٹاوا میں ملالہ یوسف زئی کو  فریم کیا ہوا کینیڈا کی شہریت کا سرٹیفیکیٹ دیا۔ ملالہ یوسف زئی کو جب کینیڈا کی اعزازی شہریت دینے کا اعلان کیا گیا تھا اُس وقت ان کی عمر محض 16 برس تھی۔ وہ ایسی محض چھٹی شخصیت ہیں جسے اس اعزاز سے نوازا گیا اور صرف یہی نہیں بالکل وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی نوعمر ترین شخصیت بھی ہیں۔

پاکستانی علاقے سوات سے تعلق رکھنے والی ملالہ یوسف زئی کی عمر اس وقت 19 برس ہے۔ وہ محض 15 برس کی تھیں جبکہ طالبان عسکریت پسندوں نے اسکول سے واپسی پر ان کے سر پر گولی مار کر انہیں ہلاک کرنے کی کوشش کی۔ اس حملے کی وجہ ملالہ کی طرف سے خواتین کی تعلیم کے حق میں آواز بلند کرنا تھا۔ اپنی اس آواز اور مہم کے سبب ملالہ یوسف زئی کو 2014ء میں امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔

Malala Yousafzai wird UN-Friedensbotschafterin
انیس سالہ نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کو پیر دس اپریل کو اقوام متحدہ کی جانب سے امن کا پیامبر بھی مقرر کیا گیا ہےتصویر: picture-alliance/dpa/A. Gombert

ابتدائی طور پر ملالہ یوسف زئی نے کینیڈا کی اعزازی شہریت 2014 میں وصول کرنا تھی مگر جس دن یہ تقریب منعقد ہونا تھی اُسی دن کینیڈا کی پارلیمنٹ پر ایک دہشت گردانہ حملہ ہو گیا تھا۔

انیس سالہ نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کو پیر دس اپریل کو اقوام متحدہ کی جانب سے امن کا پیامبر بھی مقرر کیا گیا ہے۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی بھی  سب سے کم عمر فرد ہیں۔ اس موقع پر ملالہ کا کہنا تھا، ’’انتہا پسندوں نے مجھے جان سے مارنے کی کوشش کی لیکن وہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوئے۔