1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مغرب شام میں دہشت گرد گروپوں کی حمایت کر رہا ہے، بشار الاسد

عاطف بلوچ28 اکتوبر 2015

شامی صدر بشار الاسد نے فرانس کے ایک پارلیمانی وفد کے ساتھ اپنی ملاقات میں آج ایک بار پھر کہا کہ فرانس سمیت کئی مغربی ممالک شام میں دہشت گرد گروپوں کو تعاون فراہم کر رہے ہیں۔

https://p.dw.com/p/1Gw1I
Syrien Präsident Bashar al-Assad
شامی صدر بشار الاسد ملک میں فعال تمام مخالف طاقتوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہیںتصویر: picture alliance/dpa/Sana Handout

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ شامی صدر بشار الاسد نے اپنے ملک میں دہشت گردی کے لیے مغربی ممالک پر اپنے الزام کو دہرایا ہے۔ بشار الاسد نے بدھ کے دن فرانس کے ایک پارلیمانی وفد کے ساتھ اپنی گفتگو میں کہا کہ علاقائی سطح پر متعدد ممالک اور مغرب بشمول فرانس شام میں فعال دہشت گرد گروہوں کو سیاسی طور پر تعاون فراہم کرتے ہوئے دہشت گردی کی حمایت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

شامی صدر بشار الاسد نے اس تین رکنی فرانسیسی وفد سے مخاطب ہوتے ہوئے مزید کہا کہ اس طرح نہ صرف شام بلکہ مشرق وسطیٰ کا پورا خطہ شدید بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ شامی کی سرکاری نیوز ایجنسی سانا کے مطابق صدر اسد نے کہا کہ شامی بحران کی بنیادی وجہ دہشت گردی ہی ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ شامی صدر بشار الاسد ملک میں فعال تمام مخالف طاقتوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔ شام میں گزشتہ چار سالوں سے جاری اس بحران کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے مطابق ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ شامی عوام کی ایک بڑی تعداد ہجرت پر بھی مجبور ہو چکی ہے۔

مغربی طاقتوں کا کہنا ہے کہ شامی بحران کی بڑی وجہ صدر بشار الاسد کا اقتدار میں رہنا ہے۔ امریکا سمیت کئی مغربی ملک بشار الاسد کو صدارت کے عہدے سے الگ کرنا چاہتے ہیں۔

اسی طرح سعودی عرب اور ترکی سمیت کئی مسلم ممالک بھی صدر اسد کے خلاف ہیں۔ اس تنازعے میں ایران اور روس ہی دو ایسے ممالک ہیں، جو دمشق حکومت کے حامی ہیں۔

Russland Syrien Assad bei Putin
روسی صدر ولادیمیر پوٹن اپنے شامی ہم منصب بشار الاسد کے سب سے بڑے حمایتی ہیںتصویر: Reuters/RIA Novosti/Kremlin/A. Druzhinin

گزشتہ ہفتے ہی فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ صدر بشار الاسد شامی تنازعے کی وجہ ہیں، اس لیے انہیں کسی سیاسی حل میں شامل کرنا مناسب نہیں ہو گا۔ تاہم اس بحران کے سیاسی حل کے لیے مغربی ممالک کے موقف میں کچھ نرمی بھی دیکھی جا رہی ہے۔

جمعے کے دن ویانا میں منعقد ہونے والے اہم مذاکرات میں ایران کو بھی شمولیت کی دعوت دی گئی ہے، جو اس نے قبول کر لی ہے۔ شام میں قیام امن کے لیے منعقد کیے جا رہے ان مذاکرات میں کوشش ہو گی کہ شام میں ایک متحدہ عبوری حکومت کا قیام عمل میں لایا جا سکے۔ تاہم شامی اپوزیشن نے اس مذاکراتی عمل میں ایران کی شمولیت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید