1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مصری ملکہ نیفر تیتی کا مجسمہ برلن میوزیم میں

23 مئی 2010

جرمن اور مصری حکام کا کہنا ہے کہ مصری ملکہ نیفر تیتی کے مجسمے کی ملکیت کا معاملہ برلن اور قاہرہ کے مابین تعلقات میں کشیدگی کا باعث نہیں بننا چاہئے۔ یہ مجسمہ اس وقت برلن کے میوزیم میں نمائش کے لئے رکھا گیا ہے۔

https://p.dw.com/p/NV8T
تصویر: CC/ Xenon 77

جرمن سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ مجسمہ باقاعدہ قانونی طور پر سن 1913 میں جرمنی نے خریدا تھا۔ جبکہ مصری حکام مسلسل اس کی واپسی کا اصرار کرتے چلے آ رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے تین روزہ دورے پر گئے ہوئے وفاقی جرمن وزیز خارجہ گیڈو ویسٹرویلے نے مصر میں اپنے مصری ہم منصب احمد ابو الغیث سے ملاقات کے دوران کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کے نیفر تیتی کے مجسمے کی ملکیت کا متنازعہ معاملہ جرمنی اور مصر کے قریبی دوستانہ تعلقات کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم مصری وزیر خارجہ نے نہایت محتاط انداز میں یہ کہا کہ اس بارے میں کوئی نا کوئی معاہدہ طے پانا چاہئے۔ احمد ابولغیث نے کہا’ ہمیں کسی نا کسی ایسے نتیجے پر ضرور پہنچیں گے جو دونوں ملکوں کے لئے اطمنان کا باعث ہو‘۔

Neues Museum Berlin, Nofretete
برلن کے عجائب گھر میں نیفرتیتی کا مجسمہتصویر: AP

چند روز قبل جرمنی کے ثقافتی امور کے ریاستی وزیر ’برنڈ نؤیمن‘ نے ایک بیان میں نہایت اٹل لہجے میں کہا تھا کہ نیفر تیتی کا مجسمہ برلن میں ہی رہے گا۔ جرمن وزیر خارجہ نے مصر میں اس بارے میں مصری وزیر خارجہ سے بات چیت کے دوران جرمن موقف کی وضاحت کچھ یوں کی کہ’ مصری ملکہ نیفر تیتی ‘ کا مجسمہ اس قدر نازک اور قیمتی ہے کہ اس کی حفاظت کے لئے یہ ضروری ہے کہ یہ جہاں ہے وہیں رہے، یعنی برلن کے عجائب گھر میں۔ ویسٹر ویلے نے مزید کہا کہ یہ مجسمہ صرف جرمنی اور مصرکا نہیں بلکہ عالمی ثقافت کا ایک گراں قدرشہ پارہ ہے جس کی حفاظت کے لئے اس کا برلن میں رہنا ضروری ہے۔ اس پر مصری وزیر خارجہ نے نیفر تیتی کے مجسمے کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف نیفر تیتی کا مجسمہ بلکہ مغربی ممالک میں جہاں جہاں بھی قدیم مصری تہذیب کے انمول ثقافتی خزانے نمائش کے لئے رکھے گئے ہیں وہ انہیں واپس اپنے ملک میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

Neues Museum Berlin, Nofretete
برلن کے عجائب گھر میں نیفرتیتی کے مجسمے کو دیکھنے والے شائقینتصویر: AP

نیفر تیتی فراعین مصر کے 18ویں شاہی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ انہیں نہ صرف انکی خوبصورتی کی وجہ سے بہت زیادہ شہرت حاصل تھی بلکہ نفیر تیتی کو ان کے دور کی ایک غیر معمولی طاقت رکھنے والی خاتون سمجھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ تاریخ میں ملکہ نیفز تیتی کو ان کے شوہر یا فرعون وقت اخناتن سے زیادہ شہرت کا حامل پایا گیا ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: عابد حسین