1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مجھے علیحدہ کمرے میں کیوں سونا ہے؟

سعدیہ احمد
7 اگست 2020

کیا آنکھیں بند کر کے معاشرتی اقدار و روایات پر عمل کرنا درست ہے؟ یا بطور ایک آزاد انسان عقل و دانش کو بروئے کار لاتے ہوئے مروجہ معاشرتی عادات و اطوار کو چیلنج کرنا چاہیے؟

https://p.dw.com/p/3gasc
DW Urdu Blogerin Sadia Ahmed
تصویر: privat

کچھ لوگ عجیب ہوتے ہیں۔ یا شاید وہ نہیں بلکہ ان کے ارد گرد بسنے والے لوگ عجیب ہوتے ہیں۔ یا شاید سب ہی عجیب ہوتے ہیں۔ یا یوں کہیے کہ ہر وہ شخص جو اپنے ارد گرد بسنے والے لوگوں کی طرح نہیں سوچتا یا رہنا چاہتا وہ معاشرے کے لیے عجیب ہوتا ہے۔ یہاں تو یوں بھی پکی سیاہی سے خاکے تیار کیے جا چکے ہیں، جس نے بھی انحراف کیا وہ دائرہ معاشرہ سے خارج ہو گیا۔ ویسے اگر ایسا واقعی ہو جائے تو کتنا اچھا ہو۔

خیر میں بچپن سے ہی عجیب تھی۔ چار سال کی عمر میں نے اصرار کیا کہ مجھے علیحدہ کمرے میں سونا ہے۔ کمرے کی بتی بجھا کر سونا ہے۔ دن میں بھی مجھے اپنے بھائی یا ارد گرد کے بچوں کے ساتھ کھیل کود کا کوئی خاص شوق نہیں تھا۔ بس دل چاہتا تھا کہ اپنی خیالی دنیا میں مگن رہوں۔

تصویریں بناتی رہوں۔ رنگ بھرتی رہوں۔ خیالی دوستوں کے ساتھ ٹی پارٹی کروں۔ بس ان ہی کے ساتھ صبح شام بسر کروں۔ جب تھوڑی بڑی ہوئی تو بھائی کو میرے ساتھ شفٹ کر دیا گیا۔ وہ بڑا ہو رہا تھا اور ظاہری بات ہے کہ اسے بھی علیحدہ کمرہ چاہیے تھا۔ مجھے اچھا نہیں لگا۔

یہ بھی پڑھیے: عورت پر بلاجواز تبصرہ کرنے سے گریز کریں!

کیونکہ مجھے تو علیحدہ سونا تھا۔ اپنی دنیا میں رہنا تھا۔ میرا بھائی جو مجھ سے چھوٹا تھا سوتے ہوئے کبھی تو آڑا ترچھا ہو جاتا تو کبھی نیند میں رونے لگتا کہ امی کے پاس جانا ہے۔ میری تو پرائیویسی تیل لینے گئی نا۔

اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کتنی عجیب بچی تھی، جسے اس عمر میں بھی اپنی پرائیویسی اور اپنی جگہ چاہیے تھی۔ ہوتے ہیں کچھ لوگ ایسے جنہیں اپنی دنیا میں رہنا ہوتا ہے۔ جنہیں اپنی اور دوسروں کی پرسنل اسپیس کی قدر ہوتی ہے۔

میں بڑی ہوئی تو پڑھائی بڑھ گئی۔ اب تو اپنا علیحدہ کمرہ اور ضروری ہو گیا۔ خوش قسمتی یہ تھی کہ مجھے ایک کمرہ مل بھی گیا۔ اب مجھے راتوں کو بھائی کو امی کے کمرے میں چھوڑ کر نہیں آنا پڑتا تھا۔ اب تو وقت کے ساتھ ساتھ اپنے ساتھ رہنے کا نشہ مزید بڑھنے لگا ہے۔ لوگ تنہائی میں اداس ہوتے ہیں اور میں سرشار۔

بعض اوقات انسان بھیڑ میں تنہا ہوتا ہے اور تنہائی میں اپنی ذات میں مکمل۔ اپنی ذات کا ادراک کرنا اور اس سے خوشی کشید کرنا اس خوش نصیبی ہے جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔ اقبال نے کیا خوب کہا تھا

'اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی

تو مرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن'

خیر میں تو فطرتا تنہائی پسند ہوں اور شاید آپ کی نظر میں تھوڑی سی عجیب بھی لیکن نجانے کیوں مجھے لگتا ہے کہ پرسنل اسپیس ہر انسان کا بنیادی حق ہے جو اسے بچپن سے ہی فراہم کیا جانا چاہیے۔ اس میں صرف جگہ ہی نہیں بلکہ ہر طرح کے حقوق بھی آتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ کے بچوں کا بھی پورا حق ہے کہ انہیں پرسنل اسپیس ملے۔ اگر ایک بچہ ڈائری لکھ رہا ہے اور آپ وہی ڈائری سب کے سامنے پڑھ کر سنا رہے ہیں تو آپ نے اس کے حق کی نفی کی ہے۔

اگر آپ کے بچے نے کوئی بات صرف آپ کو بتائی ہے اور آپ نے زیب داستاں کے لیے بھری محفل میں بیان کر دی تو یہ بھی اس کے حق کی نفی ہے۔

یہی رول اگر الٹ ہو تو بھی معاملہ یوں ہی رہے گا۔ ہم بچپن میں امی کے کمرے کی طرف خوب بھاگتے تھے۔ کہ اگر اکٹھے ہونا ہے تو وہیں ہونا ہے۔ بعض اوقات امی تنگ بھی پڑ جاتی تھیں۔ وہ اس وقت آرام کرنا چاہتی تھیں یا رسالہ پڑھنا چاہتی تھیں۔ کبھی ان کی کوئی سہیلی آتی تو بھی ہمارا دل چاہتا کہ جونک کی طرح چمٹ جائیں۔۔اس بات کا خیال ہی نہیں آتا تھا کہ جیسے ہمارا اکیلے رہنے کا دل چاہتا ہے، کبھی کبھی امی کو بھی اپنی پرسنل اسپیس چاہیے۔

شادی بیاہ کے بعد یہ خیال مزید عجیب لگنے لگتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہمارا شریک حیات بس ہماری ذاتی جاگیر ہے۔ بھلے اس کے فون کا پاس ورڈ ہو یا اس کے باہر آنے جانے کے اوقات، سب ہمارے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔ ہم جو کریں اکٹھے کریں۔ بس ٹچ بٹنوں کی جوڑی بن کر گھومتے رہیں۔ ایک دوسرے سے اس قدر نتھی رہیں کہ اپنی ذات کی نفی ہو جائے۔ ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اگلا بھی ایک جیتا جاگتا انسان ہے جس کی ہم سے پہلے بھی زندگی تھی۔ بھلے وہ شوہر ہو یا بیوی، دونوں کو اپنی پرسنل اسپیس درکار ہے۔ یہ شادی کی کامیابی کے لیے بھی ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیے: یہ قصہ ہے سوشل میڈیا ٹرولنگ کا

لیکن خیر ہمارے معاشرے میں اجتماعیت کو فروغ دیا جاتا ہے لہذا پرسنل اسپیس کے فضائل پر بات کرنے والے ہم جیسے دو چار لوگ دیوانے فرزانے ہی معلوم ہوتے ہیں۔ معاف کیجئے گا لیکن ایک سوال ہے اگر آپ کو برا نہ لگے۔ کیا آپ کو اچھا لگے گا کہ گاڑی چلاتے ہوئے کوئی ایک دم سے آپ کے آگے آ جائے؟ آپ کی لین پر دھڑلے سے قبضہ کر لے؟ اگر کوئی آپ کی ناک پر ہاتھ رکھ دے اور آپ کا دم گھٹنے لگے تو سچ بتائیں، آپ وہاں سے بھاگنا نہیں چاہیں گے؟

بس، یہ موئی پرسنل اسپیس بھی ایسی ہی چیز ہے۔ اپنے ارد گرد والوں کی حدود میں پیر نہ دھریں تو شاید زندگی گلزار ہو جائے اور فضا کی گھٹن میں افاقہ ہو۔ ٹرائی کرنے میں کیا ہے؟ نہ آپ کا بل آئے گا نہ ہمارا۔ بس سب کو سانس کھل کر آنے لگے گا۔ زندگی کے رنگ مزید کھل کر سامنے آنے لگیں گے۔ آپس کی رنجشیں گھلنے لگیں گی۔ اندھا کیا مانگے آنکھیں دو دو؟

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں