1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

لداخ جموں و کشمیر کے ساتھ کہیں زیادہ بہتر تھا، سونم وانگ چک

جاوید اختر، نئی دہلی
31 جنوری 2023

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگ چک نے لداخ کے حالات کو انتہائی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے ساتھ اس کی حالت زیادہ بہتر تھی۔ عامر خان کی مشہور فلم 'تھری ایڈیٹس' وانگ چک کی حقیقی زندگی سے متاثر تھی۔

https://p.dw.com/p/4MuMp
Sonam Wangchuk
تصویر: Biswarup Ganguly/Pacific Press/picture alliance

میگسیسے ایوارڈ یافتہ اور کمیونٹی ایجوکیشن کے اپنے منفرد ماڈل کے لیے دنیا بھر میں مشہور سماجی اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگ چک کی پانچ روزہ بھوک ہڑتال پیر کے روز ختم ہوگئی۔ وہ "گلیشئروں، پہاڑوں، دھرتی اور انسانوں" کی حفاظت کے لیے انتہائی ضروری اقدامات کے خاطر حکومت پر زور دینے کے لیے بھوک ہڑتال پر تھے۔

سونم وانگ چک حالانکہ کھلے آسمان تلے بھوک ہڑتال پر بیٹھنا چاہتے تھے لیکن مقامی انتظامیہ نے اس کی اجازت نہیں دی اور انہیں گھر میں "نظر بند" کر دیا گیا۔ وانگ چک نے ایک ٹویٹ کرکے کہا تھا کہ "یہ نظر بندی حقیقی نظربندی سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔"

'بھارت مشرقی لداخ میں 26 پیٹرولنگ پوائنٹس گنوا چکا ہے'

وانگ چک نے وزیر اعظم مودی کو ٹیگ کی گئی ٹویٹ میں کہا ہے کہ انہیں ایک قرارنامے پر دستخط کرنے کے لیے مجبور کیا گیا جس کے مطابق "وہ کوئی بیان نہیں دیں گے، تبصرے نہیں کریں گے، تقریر نہیں کریں گے اور لیہہ ضلعے میں کسی تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔"

چین لداخ کی پینگانگ جھیل پر نیا پل تعمیر کر رہا ہے

مرکز کے زیر انتظام لداخ  کے لیہہ ضلع کی اعلیٰ پولیس اہلکار نے تاہم اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کھلے میں اس لیے بھوک ہڑتال کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ وہاں کا درجہ حرارت منفی 40 ڈگری تک گر جاتا ہے اور اس سے وانگ چک کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔

دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد لداخ کے لوگوں نے مودی سے  بڑی امیدیں وابستہ کر لی تھیں
دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد لداخ کے لوگوں نے مودی سے بڑی امیدیں وابستہ کر لی تھیںتصویر: Reuters/Press information Bureau

وزیر اعظم مودی سے مایوس

خیال رہے کہ خطہ لداخ سابقہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھا۔ لیکن مودی حکومت نے سن 2019 میں اسے دو حصوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کرکے مرکز کے زیر انتظام علاقہ کر دیا۔

سونم وانگ چک بھارتی آئین کی دفعہ 370 کو ختم  کرنے کے لیے آواز بلند کرنے والے اہم افراد میں سے ایک تھے۔ انہوں نے وزیر نریندر مودی کے اس اقدام کی اس وقت کافی تعریف کی تھی اور کہا تھا کہ اس سے لداخ میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔

کشمیر میں دفعہ 370 کے خاتمے کی برسی پر سخت ترین کرفیو

 لیکن وہ جلد ہی مودی حکومت کے رویے سے مایوس ہو گئے اور اب وزیراعظم کے سخت ناقدین میں سے ایک ہیں۔

'لفٹننٹ گورنر صاحب عسکریت پسندی کا بیج بو رہے ہیں'

وانگ چک نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرکے کہا کہ "میرے اسکول کے تین بے گناہ ٹیچروں کو تھانے لے جایا گیا تاکہ قرارنامے پر دستخط کرنے کے لیے مجھ پر دباو ڈالا جاسکے۔ لفٹننٹ گورنر صاحب یہ حربے اپنا رہے ہیں۔"

 وانگ چک کاکہنا تھا، "میں ان سے یہ کہنا چاہوں گا کہ آپ پرامن لداخ میں عسکریت پسندی کا بیج بونے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔ نوجوانوں کو بے روزگار رکھا جارہا ہے۔ ان کے ساتھ زیادتیاں ہورہی ہیں۔ لیکن یاد رکھیں ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔"

جموں و کشمیر کی نئی حد بندی کشمیریوں کو اختیارات سے محروم کرنے کی کوشش، اپوزیشن

سونم وانگ چک نے کہا، "وہ (حکومت) شاید یہ سوچتے ہوں گے کہ میں ایسا نہیں کہہ سکتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم جموں و کشمیر کے ساتھ آج کے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے مقابلے بہت زیادہ بہتر حالت میں تھے۔ "

عامر خان کی فلم 'تھری ایڈیٹس' بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگ چک کی حقیقی زندگی سے متاثر تھی
عامر خان کی فلم 'تھری ایڈیٹس' بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگ چک کی حقیقی زندگی سے متاثر تھیتصویر: Getty Images

'تھری ایڈیٹس' کے پھنسک وانگڑو

بالی ووڈ اداکار عامر خان نے سن 2009 میں سونم وانگ چک کے کارناموں سے متاثر ہوکر اپنی فلم 'تھری ایڈیٹس' بنائی تھی۔ انہوں نے اس فلم میں خود ہی پھنسک وانگڑو کا کردار ادا کیا تھا جو دراصل سونم وانگ چک سے متاثر تھا۔

آئیفا کے سنسان میلے میں تھری ایڈیئٹس کی دھوم

پیشے سے انجینئر اور منفرد اختراعات کے لیے مشہور سونم وانگ چک ماحولیات کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں۔ انہیں ان کے منفرد انداز کے تعلیمی ماڈل نیز ماحولیات کے تحفظ میں ان کے خدمات کے لیے سن  2018 میں میگسیسے ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

سونم وانگ چک کا کہنا ہے کہ ہمالیہ کو بچانے کے لیے لداخ کو خصوصی درجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وہ اسے بھارتی آئین کے چٹھے شیڈول میں شامل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

بھارتی آئین کے چھٹے شیڈول میں قبائلی علاقوں میں خود مختار ضلعی کاونسل اور علاقائی کاونسلوں کو اپنے اپنے علاقوں کے لیے قانون سازی کا حق دیا گیا ہے۔ فی الوقت بھارت کی چار ریاستیں میگھالیہ، آسام، میزورم اور تریپورا کے دس اضلاع اس شیڈولڈ کا حصہ ہیں۔

بدھ اور مسلم تہذيبوں سے آرستہ لداخ