1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

فرانس میں ’مہاجرین کی مدد کی علامت‘ کو جرمانے کی سزا

شمشیر حیدر
10 فروری 2017

’مہاجرین کی مدد کی علامت‘ قرار دیے جانے والے فرانسیسی کسان سِدرِک ہَیرو کو افریقی مہاجرین کو غیر قانونی طور پر اٹلی سے فرانس لانے کے مقدمے کا سامنا تھا۔ فرانسیسی عدالت نے ہَیرو کو تین ہزار یورو جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

https://p.dw.com/p/2XM6c
Frankreich Cedrik Herrou
تصویر: Getty Images/AFP/V. Hache

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق جرمانے کی سزا سنائے جانے کے بعد سِدرِک ہَیرو کا کہنا تھا وہ آئندہ بھی ضرورت مند مہاجرین کی مدد کرتے رہیں گے۔ سینتیس سالہ فرانسیسی کسان پر الزام تھا کہ وہ اٹلی میں موجود افریقی تارکین وطن کو غیر قانونی طور پر فرانس پہنچنے میں مدد کر رہے تھے۔

دو برسوں میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں نے یورپ میں پناہ کی درخواستیں دیں

جرمنی میں پناہ کی تمام درخواستوں پر فیصلے چند ماہ کے اندر

دفتر استغاثہ نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ہَیرو کو اس جرم میں کم از کم آٹھ ماہ قید کی سزا سنائی جائے۔ تاہم عدالت نے انہیں صرف جرمانے کی سزا سنائی۔ عدالت نے دفتر استغاثہ کی یہ درخواست بھی مسترد کر دی کہ اس فرانسیسی کسان کی گاڑی ضبط کر لی جائے اور اس کا ڈرائیونگ لائسنس بھی صرف دفتر آنے اور جانے کے تک محدود کر دیا جائے۔

عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد بھی سِدرِک ہَیرو تارکین وطن کی مدد کرنے کے اپنے اس عزم پر قائم تھے۔ فرانسیسی شہر نِیس کی عدالت کے باہر جمع اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ہَیرو نے کہا، ’’انتظامیہ کی جانب سے دھمکانے اور چند سیاست دانوں کی جانب سے مخالفت کے باوجود ہم (مہاجرین کی مدد کرنے کا) اپنا عمل جاری رکھیں گے۔‘‘

ہَیرو پر مجموعی طور پر اریٹریا سے تعلق رکھنے والے پچاس تارکین وطن کو فرانس میں چھٹیاں منانے کے ایک کیمپ میں آباد کرنے کا الزام ثابت ہوا تھا۔ علاوہ ازیں انہوں نے پانچ نابالغ افریقی تارکین وطن کو اپنے گھر ہی میں رہائش فراہم کر رکھی تھی۔ گزشتہ مہینے جب ان پر مقدمہ شروع ہوا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ افریقی خاندان مصیبت میں مبتلا تھے اور ان کی مدد کیے جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

عدالت کے فیصلے کے بعد ہَیرو کے وکیل کا کہنا تھا کہ فیصلہ انصاف پر مبنی ہے اور فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ ’’عدالت کو علم ہے کہ ہَیرو نے یہ عمل انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا۔‘‘

فرانس میں قانون ساز اسمبلی اور صدارتی انتخابات کے لیے مہم جاری ہے جس میں مہاجرین کا بحران بھی ایک اہم موضوع ہے۔

پانچ جرمن صوبے افغان مہاجرین کو ملک بدر کرنے سے گریزاں

جرمنی: طیارے آدھے خالی، مہاجرین کی ملک بدری میں مشکلات حائل

سربیا کی شدید سردی میں پھنسے بے گھر تارکین وطن