1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

'بنگلہ دیش پاکستان سے 45 گنا زیادہ امیر‘

عبدالستار، اسلام آباد
4 جون 2021

پاکستان اور بھارت سے زیادہ فی کس آمدنی رکھنے کے بنگلہ دیشی دعوے کی وجہ سے، پاکستان میں ایک نئی بحث چھڑگئی ہے اور ن لیگ نے الزام لگایا ہے کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ملک پچیس فیصد مزید غریب ہو گیا ہے۔

https://p.dw.com/p/3uRpt
Pakistan Kinderunterernährung
تصویر: DW/I. Jabeen

بنگلہ دیش کے کیبنٹ سکریٹری خندوکارانوار السلام نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ مالی سال دو ہزار بیس اکیس کے لیے ان کے ملک کی فی کس آمدنی بائیس سو ستائیس ڈالر ہے جب کہ بھارت کی انیس سو سینتالیس ہے اور پاکستان کی فی کس آمدنی پندرہ سو تینتالیس ڈالر ہے۔ واضح رہے کہ مالی سال دو ہزار انیس بیس میں بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی دوہزار چونسٹھ ڈالر تھی۔

Bildergalerie Weltkindertag Kinder in Islamabad
تصویر: picture-alliance/Photoshot/S. Seher

بنگلہ دیش کے ان اعداد وشمار کو بین الاقوامی، بھارتی اور پاکستانی میڈیا میں بھی نمایاں جگہ دی گئی۔ بلوم برگ، ٹائمز آف انڈیا اور پاکستان کے انگریزی روزنامہ ڈان سمیت اس خبر کوکئی علاقائی اور بین الاقوامی میڈیا نے شائع کیا۔ بھارت میں اس پر بہت بحث بھی ہوئی، جہاں کئی سیاست داں بنگلہ دیشی مہاجرین کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور سوشل میڈیا پر کئی بھارتیوں نے ان اعداد وشمار پر شک کیا۔ تاہم کئی بھارتی اور پاکستانی معاشی ماہرین اپنے ملکوں کو بنگلہ دیش سے سبق سیکھنے کا مشورہ بھی دے رہے ہیں۔

بلوم برگ کے کالم نگار میہر شرما کے مطابق دوہزار گیارہ سے دوہزار انیس کے درمیان بنگلہ دیش کی برآمدات میں آٹھ اعشاریہ چھ فیصد سالانہ اضافہ ہوا۔ انہوں نے مزید لکھا، ''بنگلہ دیش میں قرضے اور جی ڈی پی کا تناسب تیس سے چالیس فیصد ہے جب کہ بھارت و پاکستان کا یہ تناسب تقریبا نوے فیصد ہے۔ لیبر مارکیٹ میں خواتین کی شرح بھارت اور پاکستان کی نسبت بڑھی ہے۔‘‘

معاشی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ سن 1971 میں بنگلہ دیش پاکستان سے ستر گنا زیادہ غریب تھا جبکہ آج بنگلہ دیش پاکستان سے 45 گناہ زیادہ امیر ہے۔ بنگلہ دیشی سکریٹری کے اس دعوے کے بعد پاکستان کے سماجی حلقوں میں بحث چھڑ گئی تھی لیکن اب پاکستان کے سیاسی حلقے بھی اس پر بحث کر رہے ہیں اور سیاسی جماعتیں ملک میں بڑھتی ہوئی غربت کا ایک دوسرے پر الزام لگا رہی ہیں۔

نون لیگ کی چارج شیٹ

جمعرات کو اسلام آباد میں ایک پری بجٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نون لیگ کے رہنما مفتاح اسماعیل، احسن اقبال، خرم دستگیر اور دیگر رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ملک 25 فیصد مزید غریب ہوگیا ہے۔ قومی قرضوں میں 54 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، معیشت کا حجم سن 2018 میں تین سو تیرہ ارب ڈالر تھا اب وہ 296 ارب ڈالرز ہو گیا ہے۔ تین سال میں دو کروڑکے قریب لوگ غربت کا شکار ہوئے ہیں جب کہ پچاسی لاکھ لوگ بے روزگار ہیں۔

Pakistan Islamabad Kinderarbeit Straßenverkäufer
تصویر: DW/I. Jabeen

نون لیگ کے رہنما خرم دستگیر نے دعوی کیا کہ سن 2018 میں ایک کلو چینی، ایک لیٹر کوکنگ آئل، ایک کلو مونگ کی دال اور ایک کلو آٹے کی مجموعی قیمت 347 روپے تھی، جو اب چھ سو اسی روپے ہے۔ یہ تقریبا 96 فیصد کا اضافہ ہے۔

دوسری طرف پی ٹی آئی حکومت کے وزیر خزانہ شوکت ترین نے نون لیگ پر الزام لگایا کہ اس کی اقتصادی پالیسی کی وجہ سے ملک کو بیس ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

نون لیگ کی تباہ کن معاشی پالیسی

پی ٹی آئی اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ اس کے دور میں غربت بڑھ گئی ہے لیکن وہ اس کا الزام نون لیگ کی اس پالیسی پر لگاتی ہے۔ اس پالیسی کے تحت بغیر سوچے سمجھے قرضے لیے گئے اور ایسے منصوبے شروع کیے گئے، جن کا کوئی معاشی فائدہ نہیں ہوا۔ وزیر اعلی پنجاب کے مشیر برائے معاشی امور ڈاکٹر سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ نون لیگ کے دور میں شروع کیے گئے پروجیکٹس نقصان میں چل رہے ہیں اور حکومت کو بہت بھاری سبسڈی بھی دینی پڑ رہی ہے۔

انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، "نون لیگ نے مہنگی بجلی کے پروجیکٹس لگائے اور ان کے لیے کوئلہ، گیس اور تیل درآمد کیا جس کو ہم بھی درآمد کر رہے ہیں۔ اورنج ٹرین پر اربوں روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے۔ نون لیگ نے قرضے تو بہت لیے لیکن یہ نہیں سوچا کہ اس کو ادا کیسے کیا جائے گا۔ اب حکومت ان کو ادا کر رہی ہیں تو لازمی بات ہے عام آدمی پر بھی ان قرضوں کا اثر پڑ رہا ہے۔ قرضوں کی یہ ادائیگی جی ڈی پی کا ایک بہت بڑا حصہ ہے، جس سے ملک کی معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے اور ایک عام پاکستانی بھی۔‘‘

دیگر عوامل

ان کا مزید کہنا تھا کہ روپے کی قدر میں کمی کی گئی اور اس سے بھی معیشت کو بہت نقصان پہنچا۔  ڈاکٹر سلمان شاہ نے ڈی ڈبلیو کو مزید بتایا، "لازمی بات ہے جب آپ روپے کی قدر کم کرتے ہیں تو معیشت کو بہت بڑا دھچکا لگتا ہے۔ بنگلہ دیش نے نہ قرضہ چڑھنے دیا اور نہ ہی اپنی کرنسی کی قدر کم کی۔ اس کے علاوہ کورونا کی وجہ سے بھی معیشت دو سال بری طرح متاثر رہی۔ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہم معاشی اصلاحات نہیں کرتے، تو ملک دیوالیہ ہو جاتا اور غربت موجودہ شرح سے بہت زیادہ حد تک بڑھتی۔‘‘

غربت کے اعداد وشمار اختراع نہیں

معروف معیشت دان اور پنجاب کی سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں غربت بہت بڑھی ہے اور یہ صرف کسی کی خام خیالی نہیں ہے بلکہ اس کے لیے ڈیٹا موجود ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا، ''دنیا کے کئی معتبر اداروں کے اعداد و شمار سے یہ بات ثابت ہے کہ معیشت سست روی کا شکار ہوئی ہے۔ دوہزار اٹھارہ سے مالی سال دوہزار اکیس تک ٹریکٹرز کی فروخت میں تیس اعشاریہ تین فیصد کمی ہوئی ہے، کار میں پینتیس فیصد اور موٹر سائیکل کی فروخت میں دس فیصد کمی ہوئی ہے۔ جس کی وجہ سے غربت بڑھی ہے۔ بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور کھانے پینے کی اشیاء بے انتہا مہنگی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے جو لوگ غربت کے قریب تھے وہ غربت میں آگئے ہیں اور جو پہلے ہی غربت تھے، وہ مزید غریب ہو گئے ہیں۔‘‘

نون لیگ اور پی ٹی آئی کی مصنوعی پالیسیاں

ترقیاتی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی غربت کی ذمہ دار صرف نون لیگ کی حکومت نہیں ہے بلکہ پی ٹی آئی کی حکومت کی مصنوعی پالیسیاں بھی ہیں۔ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ترقیاتی امور کے ماہر عامر حسین کا کہنا ہے کہ نون لیگ نے بھی مصنوعی پالیسیاں بنائیں اور پی ٹی آئی بھی مصنوعی معاشی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، "ہمیں بتایا جارہا ہے کہ ہمارا زرمبادلہ بڑھ گیا ہے لیکن در حقیقت جو لوگ ہنڈی سے پیسے بھیج رہے تھے اب باقاعدہ طور پر بینک کے ذریعے پیسے بھیج رہے ہیں اس لیے ہمیں یہ نظر آ رہا ہے لیکن حقیقت میں یہ بہت زیادہ نہیں۔ بالکل اسی طرح ہماری بنیادی صنعتوں کی شرح نمو میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔ کورونا کی مد میں ملنے والی رقم کو بھی ہم نے زرمبادلہ کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی ہے جس کی وجہ سے کچھ مالیاتی ادارے تحقیقات کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔‘‘

غاروں میں رہنے والے پاکستانی