1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

عمران خان کے نام مودی کا خط کتنا اہم ہے؟

صلاح الدین زین ڈی ڈبلیو نیوز، نئی دہلی
24 مارچ 2021

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے اپنے پاکستانی ہم منصب عمران خان کے نام خط کو دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان امن کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

https://p.dw.com/p/3r2tu
Kombibild Indien Pakistan | Narendra Modi und Imran Khan

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے پاکستانی ہم منصب عمران خان کے نام خط میں پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش کا اظہار کر تے ہوئے پاکستانی عوام کو مبارک باد پیش کی ہے۔

مودی نے یہ خط 23 مارچ منگل کو یوم پاکستان کے موقع پر پاکستانی عوام کو مبارک باد پیش کرنے کے لیے لکھا تھا۔ پاکستان نے بھی اس خط کے موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس دو ہمسایہ ممالک کے مابین کشیدگی کم کرنے اور امن کی سمت بڑھنے کی خاطر جو اقدامات حالیہ دنوں میں ہوتے رہے ہیں اس خط کو اس سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

خط کی اہمیت

دونوں ملکوں کے کئی بڑے اخبارات نے اسے ایک رسمی خط کہہ کر اس کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے مطابق یوم پاکستان کے موقع پر بھارت کی جانب سے اس طرح کا خط محض ایک رسم ہے جو ہر برس ادا کی جاتی ہے اور حسب روایت بھارت کے صدر رام ناتھ کوند نے بھی اپنے پاکستانی ہم منصب عارف علوی کو بھی ایسا ہی ایک خط اس بار بھی بھیجا ہے۔

تاہم کئی سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت جب دونوں پڑوسی ملک بات چیت کے ذریعے کشیدگی کم کر کے امن کے قیام کی کوششوں کا عندیہ دے رہے ہیں تو اس پس منظر میں اس مکتوب کے متن کی بڑی اہمیت ہے۔

پاک بھارت کشيدگی کی مختصر تاريخ

عالمی طاقتوں کی کوششیں

 کشمیر میں دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد سے ہی دونوں حریف ممالک کے مابین مکمل سفارتی تعلقات بھی قائم نہیں ہیں تاہم گزشتہ چند ہفتوں کے درمیان ملنے والے ان تمام مثبت اشاروں کا مطلب یہی ہے کہ دونوں ملک رشتوں کو پھر سے بہتر کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امریکا میں اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ ہی جنوبی ایشیاء میں بھی تبدیلی کی لہر دیکھی جا رہی ہے۔ تو پھر اچانک ان کی پالیسیوں اتنی بڑی تبدلی کیسے آئی؟ 

 نئی دہلی میں سینیئر صحافی سنجے کپور کہتے ہیں کہ امریکا کی نئی انتظامیہ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی بحالی کے لیے بھر پور کوشش کر رہی ہے۔ ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں انہوں نے کہا، "امریکا نہیں چاہتا کہ پاکستان چین  سے اتنی قربت رکھے۔ امریکا کو افغانستان سے نکلنے کی بھی جلدی ہے اور افغانستان میں بھی امن کے قیام کے لیے بھارت اور پاکستان کے درمیان رشتوں کا بہتر ہونا بہت ضروری ہے۔"

سنجے کپور کا یہ بھی کہنا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی بھارت اور پاکستان کے درمیان دوستی کرانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق خلیجی ممالک نہیں چاہتے کہ بھارت، "ایران میں سرمایہ کاری کرے اور وہ چاہتے ہیں کہ مشرق وسطی تک پہنچنے کے لیے بھارت ایران کے بجائے پاکستان کا استعمال کرے۔"

بدھ اور مسلم تہذيبوں سے آرستہ لداخ

خط میں کیا ہے؟

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کے قومی دن پر عوام کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے لکھا، "ہمسایہ ملک ہونے کی حیثیت سے بھارت پاکستانی عوام کے ساتھ خوشگوار رشتوں کا متمنی ہے۔اس کے لیے دہشت گردی اور عداوت سے خالی، اعتماد سے پر ماحول بہت ضروری ہے۔" 

عزت ماب، "انسانیت کے لیے اس مشکل ترین دور میں کووڈ 19 کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی جو کوششیں آپ کر رہے ہیں، میں اس کے لیے بھی آپ اور پاکستانی عوام کو نیک خواہشات پیش کرنا چا ہتا ہوں۔"

پاکستان کا رد عمل

پاکستان کے ایک سینیئر وزیر  اسد عمر نے مودی کے خط کو "خیرسگالی کے پیغام" سے تعبیر کرتے ہوئے اس کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان بھی دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان، "باہمی احترام اور [پرامن] بقائے باہم کی بنیاد پر پر امن رشتوں کے خواہاں ہیں۔"

بھارت پاک رشتے 

بھارت اور پاکستان کے درمیان گزشتہ تقریبا ڈھائی برسوں سے تعلقات بہت کشیدہ رہے ہیں اور ہر طرح کی باضابطہ بات چيت تعطل کا شکار تھی۔ لیکن گزشتہ ماہ کے بعد سے ہی حالات تیزی سے تبدیل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

فنکار تعلقات ميں بہتری کے ليے کردار ادا کر سکتے ہيں، جاويد شيخ

 پہلے فریقین نے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدے پر عمل کرنے کی بات کی پھر بھارت نے عمران خان کے جہاز کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی۔ حال ہی میں پاکستان کی ایک نیزہ باز ٹیم ایک بین الاقوامی مقابلے میں شرکت کے لیے بھارت آئی اور گزشتہ روز ہی دونوں ملکوں کے درمیان انڈس واٹر ٹریٹی پر بات چیت کا آغاز  بھی ہو گيا۔

اس ماہ کی 30 تاریخ کو تاجکستان میں ہونے والے افغان مذاکرات میں شرکت کے لیے بھارتی وزير خارجہ ایس جے شنکر بھی پہنچ رہے ہیں اور اس بات کا غالب امکان ہے کہ وہاں وہ اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی بھی ملاقات کریں گے۔ اس پیش رفت کے پس منظر میں یہ دیکھنا بہت دلچست ہوگا  کہ دونوں ملک اپنے اپنےسفارت کاروں کو دوبارہ واپس کب تعینات کرتے ہیں۔   

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں