1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’عمران خان تاجروں کے قرضے معاف کریں‘

بینش جاوید
13 اپریل 2020

پاکستان میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث لاک ڈاؤن نے اقتصادی سرگرمیاں تقریبا بند کر دی ہیں۔ پہلے سے شدید اقتصادی مشکلات کی شکار پاکستانی معیشت ایسے حالات میں مزید تنزلی کا شکار ہوسکتی ہے۔

https://p.dw.com/p/3apV6
Pakistan Wechselstube auf der Straße
تصویر: picture-alliance/epa/A. Gulfam

عالمی بینک کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق 2020ء  کی آخری سہ ماہی میں پاکستانی ملکی پیداوار میں گراوٹ کے باعث شرح نمو منفی ایک عشاریہ تین تک گر سکتی ہے۔عالمی بینک کی جانب سے کہا گیا، ''کاروبار اورمقامی سپلائی چین کی بندش سے ہول سیل اور ریٹیل تجارت اور ٹرانسپورٹ شدید متاثر ہو رہے ہیں۔‘‘

پاکستانی حکومت نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے بارہ سو ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا ہے۔ جس کے تحت غربت سے متاثرہ قریب ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں کو بارہ ہزار روپے کی ادائیگی کی جائے گی، ساتھ میں تاجر طبقے کو بھی مختلف  طریقوں سے ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ لیکن کیا پاکستان کی معیشت، جو پہلے ہی سست روی کا شکار تھی، کورونا وائرس کی وبا سے پیدا ہونے والی صورتحال کو برداشت کر پائے گی؟

کورونا وائرس کا خوف، پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر بھی طاری، اربوں روپے ڈوب گئے

پاکستان میں اقتصادی امور کے ماہر ثاقب شیرانی کی رائے میں حکومتی اقدامات 'ٹو لٹل ٹو لیٹ‘ یعنی 'بہت کم اور بہت دیر سے‘ سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''اس بحران سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت کے اقدامات ناکافی ہیں۔ سب سے اولین ترجیح پوری اقتصادی پالیسی کی تبدیلی ہونا چاہیے۔‘‘

ثاقب شیرانی کی رائے میں حکومت کو آئی ایم ایف سے مذاکرات کرتے ہوئے فل الحال ان کے قرضہ پروگرام کو ملتوی کرنا ہوگا، اور آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کر کے انہیں یہ بتانا ہو گا کہ ان غیر معمولی حالات میں حکومت نہ ٹیکس اکٹھا کر سکتی ہے اور نہ ہی بجلی کے نرخوں میں اضافہ کر سکتی ہے۔ ثاقب شیرانی کی رائے میں عالمی مالیاتی فنڈ کی تجاویز کے برخلاف اس وقت حکومت کو اقتصادی پالیسی کو نرم کرتے ہوئے شرح سود کم کرنا ہوگا اوربغیر سود کے قرضے دینا ہوں گے۔

پاکستان کے مرکزی بینک نے بھی تاجر برادری کو ریلیف دینے کے لیے پانچ فیصد شرح سود پر قرضہ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے ثاقب شیرانی کہتے ہیں، ''اسٹیٹ بینک کی پالیسی وفاقی حکومت کی پالیسی سے قدرے بہتر ہے لیکن ان حالات میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، جو کہ ملک کی انڈسٹری کا قریب ستر فیصد ہیں، نہ قرض لینے کی سکت رکھتے ہیں اور نہ ہی اس قرض کو لینے کے لیے وہ بینکوں کی شرائط کو پورا کر پائیں گے۔‘‘

پاکستان میں اقتصادی امور کے بارے میں رپورٹنگ کرنے والی صحافی اور نیوز پروگرام کے میزبان شہباز رانا نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''وزیر اعظم کے اعلان کردہ پیکج میں تاجر برادری کے لیے ایک سو ارب روپے کا 'کنٹیجنسی فنڈ‘ مختص کیا گیا اور ایک سو ارب روپے کے ٹیکس کی ری فنڈنگ کا اعلان کیا جوپہلے ہی حکومت نے انہیں واپس کرنے تھے۔‘‘

شہباز رانا کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی قرضہ فراہم کرنے کی پالیسی کا پاکستانی ڈیپارٹمنٹل چین ایسوسی ایشن اور پاکستان بزنس کونسل نے کا خیر مقدم نہیں کیا۔ شہباز کی رائے میں، ''اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ تاجر قرضہ لے کر اپنے ملازمین کو تنخواہیں دیتے رہیں لیکن پہلے ہی اقتصادی مشکلات کا شکار تاجر مزید قرض نہیں لینا چاہتے۔  قرضے معاف کرنے کی اپیل جو پاکستانی وزیر اعظم نے عالمی برادری سے کی ہے وہی اپیل پاکستان کی بزنس کمیونٹی وزیر اعظم سے کر رہی ہے۔‘‘

چین میں کورونا وائرس: کیا پاکستانی معیشت کے مفاد میں ہے؟

تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان نے اس بحران سے نمٹنے میں کافی دیر کی۔ پاکستان کے پڑوسی ملک چین میں گزشتہ برس دسمبر سے کورونا وائرس متاثر کر رہا تھا۔ پاکستان کے پاس وقت تھا کہ وہ کوئی مربوط حکمت عملی تیار کرتا، لیکن پاکستان  نے اس سال مارچ میں پیکجز اور لاک ڈاون کا اعلان کیا۔

نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے بزنس اسکول کے ڈین ڈاکٹر اشفاق احمد کے مطابق اس مشکل وقت میں حکومت کے احساس پروگرام میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام  میں شامل پچاس لاکھ خاندانوں میں مزید ستر لاکھ خاندان شامل کیے ہیں، جو کہ قابل تعریف اقدام ہے۔

تاہم شہباز رانا کہتے ہیں کہ حکومت کا ردعمل بہتر ہو سکتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس جون میں پہلے ہی  حکومت نے اس پروگرام کے لیے 192 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا تھا۔ کورونا بحران سے پہلے تک حکومت نے صرف 27 ارب روپے خرچ کیے  تھے۔  وزیر اعظم نےاحساس پروگرام کے لیے اب جو اضافی 150 ارب روپے کا اعلان کیا ہے دراصل وہ پہلے ہی بجٹ کا حصہ تھے۔

Pakistan Börse Aktivitäten
عالمی بینک کے مطابق اس سال پاکستان کی شرح نموایک عشاریہ تین فیصد رہے گیتصویر: DW/R. Saeed

پاکستان میں شرح سود کے حوالے سے شہباز رانا کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں گیارہ فیصد کا شرح سود بہت زیاہ ہے۔ تاجر برادری نے شرح سود کو سات فیصد کرنے کی تجویز کی ہے۔ واضح رہےکہ آِئی ایم ایف کی ہدایات کے مطابق پاکستان کا مرکزی بینک شرح سود کو اس لیے بھی کم نہیں کرتا تاکہ روپے کی قدر مزید کم نہ ہو۔

آئی ایم ایف نے دس اپریل کوپاکستان کے قرضے کی تیسری قسط دینے کا اعلان کرنا تھا لیکن اس قسط کی ادائیگی کو فل الحال ملتوی کر دیا گیا ہے۔ لیکن کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے آئی ایم ایف 16 اپریل کو پاکستان کو ایک عشاریہ چار ارب ڈالر کا ایمرجنسی قرضہ دے رہا ہے۔

ڈاکٹر اشفاق کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ وہ ورکرز ویلفیئر فنڈ اور 'اولڈ ایج بینیفٹس‘ کے ادارے ای او آیہ بی کے ذریعے کمپنیوں کی مالی معاونت کرے، شرح سود کو کم کیا جائے تاکہ تاجر قرضہ لے سکیں۔

عالمی بینک کے مطابق نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اقتصادی بحران کئی معیشتوں کو متاثر کرے گا۔ اس ادارے کی جانب سے کہا گیا ہے اس سال پاکستان کی شرح نموایک عشاریہ تین فیصد رہے گی، اگلے برس شرح نمو قریب ایک فیصد ہوگی۔ توقع ہے کہ 2022 میں پاکستان بہتر اقتصادی پوزیشن پر آسکے گا۔