1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

عرب ملک شام کے دو یا تین حصے ہوتے نظر آ رہے ہیں، امریکا

عابد حسین11 ستمبر 2015

شام میں مسلمان عسکریت پسندوں نے اپنی پیش قدمی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، اب یہ ایئر فورس کے ایک اہم مرکز پر قابض ہونے والے ہیں۔ روس نے خانہ جنگی کے شکار ملک شام کی فوجی امداد کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

https://p.dw.com/p/1GV1W
تصویر: Getty Images/AFP/A. Messinis

انتہا پسند جہادی گروپ ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے شورش زدہ ملک شام کے ایک انتہائی اسٹریٹیجک نوعیت کے فضائی فوجی اڈے پر قبضہ کرنے کے لیے شامی فوج کے گرد اپنا گھیرا مزید تنگ کر دیا ہے۔ یہ اہم فضائی اڈہ شام کے مشرقی شہر دیرالزور کے باہر واقع ہے۔ شامی معاملات پر نگاہ رکھنے والے ادارے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق حکومتی فوج اور جہادیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں چوّن افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔  اِن ہلاکتوں میں چھتیس جہادی اور اٹھارہ فوجی شامل ہیں۔ بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے اِس بڑے فوجی اڈے کے قریب قائم آرمی پوسٹ پر بھی قبضہ کر لیا۔ اِس آرمی پوسٹ پر شامی فوج کی راکٹ بٹالین متعین تھی۔

دریں اثناء امریکا کی ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل وِنسنٹ اسٹوارٹ نے کہا ہے کہ  موجودہ حالات کے تناظر میں عراق اور شام کا بحیثیت ریاست قائم رہنا بہت مشکل ہو چکا ہے۔ ایک انڈسٹری کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے جنرل اسٹوارٹ کا کہنا تھا کہ وہ مستقبل میں شام کے دو یا تین حصے ہوتے دیکھ رہے ہیں اور اِس کے ہمسایہ ملک عراق کو بھی ایسی صورت حال کا سامنا ہے۔ امریکا کے دفاعی خفیہ ادارے کے سربراہ نے واضح کیا کہ شام اور عراق کی تقسیم امریکا کا مقصد نہیں ہے لیکن اِن ملکوں کے حالات سے یہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ جان برینن کا اِسی کانفرنس میں کہنا تھا کہ عراق اور شام کی سرحدیں بظاہر یونہی رہیں گی لیکن ٹوٹ پھوٹ سرحدوں کے اندر ہونے کا امکان ہے۔

Ruinen in Damaskus nach einem Angriff
شام میں تباوی و بربادی کے مناظر بکھرے ہوئے ہیںتصویر: picture-alliance/A.A./M. Rashed

شام کو اسلحے اور دوسرے ہتھیاروں کی روسی فراہمی کے تناظر میں بتایا گیا ہے کہ ہفتے کی شام برلن میں چار ملکی وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں شام پر بھی گفتگو کی جائے گی۔ اِس میٹنگ میں روس، فرانس، جرمنی اور یوکرائن کے وزرائے خارجہ شریک ہو رہے ہیں۔ اُدھر گزشتہ روز روس وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ماسکو حکومت نے شام میں اپنی فوجی موجودگی کو بڑھانے کے لیے کوئی اضافی اقدامات نہیں اٹھائے ہیں۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوررف کے مطابق روسی عسکری ماہرین تربیتی مقاصد کے لیے گزشتہ کئی برسوں سے شام میں موجود ہیں۔

آج جمعے کے روز روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوررف نے کہا کہ نادانستہ واقعات سے بچنے کے لیے روسی اور امریکی فوج کے درمیان تعاون اور رابطے اہم ہیں۔ انہوں نے ماسکو میں کی گئی ایک پریس کانفرنس میں بحیرہٴ روم میں مکمل کی جانے والی عسکری مشقوں کو بین الاقوامی قانون کے عین مطابق قرار دیا۔ اِسی دوران مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی جانب سے بھی  شام میں روسی فوج کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار سامنے آیا ہے۔ امریکا اور بعض یورپی ملکوں بھی روسی سرگرمیوں پر اپنے احساسات بیان کر چکے ہیں۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ کے مطابق شامی تنازعےکے حل کے لیے سیاسی اور سفارتی کوششوں میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے۔