1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

عالمی معیشت: ممکنہ شرح نمو گزشتہ اندازے سے کم، آئی ایم ایف

13 اکتوبر 2021

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق اگلے برس عالمی معیشت میں نمو کی شرح اب گزشتہ اندازوں سے کم رہے گی۔ آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے بعد بھی خام مال کی ترسیل میں ابھی تک کافی تعطل پایا جاتا ہے۔

https://p.dw.com/p/41cVy
خام مال کی ترسیل میں رکاوٹیں، عالمی معیشت کی بحالی میں تاخیر کی بڑی وجہتصویر: VCG/imago images

آئی ایم ایف نے سال 2022ء کے لیے عالمی معیشت میں ممکنہ ترقی سے متعلق اپنی گزشتہ پیش گوئی میں ترمیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے برس اقتصادی کارکردگی میں بہت زیادہ کمی تو نہیں ہو گی تاہم امریکا اور جرمنی سمیت دنیا کی کئی بڑی معیشتوں میں بحالی کا عمل متزلزل رہے گا۔

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے اس کا سبب صنعتی پیداوار میں استعمال ہونے والے خام مال کی سپلائی میں وہ کمی اور تعطل بتائے ہیں، جو ابھی تک ختم نہیں ہوئے۔

کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے بھوک میں بھی اضافہ

آئی ایم ایف کی طرف سے یہ بات اس ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں کہی گئی ہے، جو منگل بارہ اکتوبر کو جاری کی گئی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی معیشت کو بری طرح متاثر کرنے والی کورونا وائرس کی وبا کے شدید بحرانی عرصے کے بعد اقتصادی بحالی کا جو عمل دیکھنے میں آنے لگا تھا، اس کی رفتار اب کم پڑ گئی ہے۔

گزشتہ اندازوں میں ترمیم

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے اس سال جولائی میں 2022ء کے لیے عالمی معیشت میں نمو کی جس شرح کی پیش گوئی کی تھی، وہ چھ فیصد بنتی تھی۔  اب لیکن اس میں 0.1 فیصد کی کمی کر کے یہ ممکنہ شرح 5.9 فیصد کر دی گئی ہے۔

پاکستان میں مہنگائی اور بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوگا، آئی ایم ایف

اس کے اہم اسباب میں سے ایک تو یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں شمار ہونے والے امریکا اور جرمنی جیسے ممالک میں پیداواری شعبے کو دوسرے ممالک سے خام مادوں کی ترسیل میں جن رکاوٹوں کا سامنا ہے، وہ ابھی تک ختم نہیں ہوئیں۔

دوسری طرف عالمی معیشت کی کارکردگی کم فی کس سالانہ آمدنی والے ان ترقی پذیر ممالک کی وجہ سے بھی متاثر ہو گی، جہاں کورونا وائرس کی عالمی وبا سے بچاؤ کے لیے عام شہریوں کی ویکسینیشن کا عمل بہت دیر سے شروع ہوا اور ان ممالک کو اب تک کووڈ انیس کی عالمگیر وبا کے کافی شدید اثرات کا مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔

چین 2028ء تک دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن جائے گا، رپورٹ

عالمی معیشت کے لیے کلیدی اہمیت کی حامل بین البراعظمی اور بین الاقوامی سپلائی چین میں رکاوٹوں کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ برآمدی ممالک میں خام مال تو اب بھی دستیاب ہے، تاہم بڑا مسئلہ اس مال کی ٹرانسپورٹ اور شپنگ کا ہے۔ اس عمل میں وہ پابندیاں بھی منفی نتائج کی وجہ بن رہی ہیں، جو مختلف ممالک نے اپنے ہاں برآمدی سامان پر وبا کی وجہ سے لگا رکھی ہیں۔

جرمنی کی مثال

ان حالات میں اگر صرف جرمنی کی مثال ہی لی جائے تو دنیا کی اس چوتھی سب سے بڑی معیشت میں اس سال اگست میں صنعتی پیداوار میں ماہانہ بنیادوں پر گزشتہ برس اپریل سے لے کر اب تک کی سب سے زیادہ کمی دیکھنے میں آئی۔

نیا ریکارڈ: چین کو ایک ماہ میں 75.4 ارب ڈالر کا تجارتی فائدہ

IWF-Wirtschaftsberaterin Gita Gopinath
آئی ایم ایف کی چیف اکانومسٹ گیتا گوپی ناتھتصویر: Rodrigo Garrido/Reuters

جرمن کار انڈسٹری ملک کے اہم ترین صنعتی شعبوں میں سے ایک ہے۔ لیکن اس شعبے کو بھی اپنی پیداوار کے لیے خام مال کی دستیابی میں اس حد تک کمی کا سامنا ہے کہ رواں برس اگست میں جرمنی میں گاڑیوں اور موٹر گاڑیوں کے پرزوں کی پیداوار میں 17.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

آئی ایم ایف کی چیف اکانومسٹ کا موقف

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی چیف اکانومسٹ گیتا گوپی ناتھ کے مطابق، ''عالمی معیشت کے لیے بنیادی اہمیت کی حامل سپلائی چین میں سے بہت سی جگہوں پر کورونا وائرس کی عالمی وبا کے بہت شدت اختیار کر جانے سے خام مال کی ترسیل میں پیدا ہونے والا تعطل توقعات سے زیادہ طویل رہا ہے اور اس وجہ سے کئی ممالک میں افراط زر کو بھی ہوا ملی ہے۔‘‘

کورونا وائرس کی وجہ سے اربوں افراد کا روزگار خطرے میں

گیتا گوپی ناتھ نے کہا، ''مجموعی طور پر اقتصادی شرح نمو کے امکانات کو لاحق خطرات بڑھے ہیں اور ان حالات میں حکومتی پالیسیوں میں ضرورت کے تحت ممکنہ تبدیلیوں کا عمل بھی زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے۔‘‘

م م /  ب ج (اشوتوش پانڈے)