1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’شریف مودی ملاقات‘ رویہ معذرت خواہانہ نہیں تھا، سرتاج عزیز

شکور رحیم اسلام آباد13 جولائی 2015

پاکستانی وزیراعظم کے قومی سلامتی اور خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز نے شنگھائی تعاون نتظیم کی مستقل رکنیت کواہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنظیم علاقائی ہم آہنگی، امن اور خوشحالی کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

https://p.dw.com/p/1Fxui
تصویر: picture-alliance/dpa

قومی سلامتی اور خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز نے پیر کو پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے نو سے دس جولائی تک روس کے شہر اوفا میں شنگھائی تعاون تنظیم ’ایس سی او‘ کے اجلاس میں شرکت اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سمیت اہم عالمی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں سے متعلق صحافیوں کو بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او نے پاکستان اور بھارت کو تنظیم کی مستقل رکنیت دینے کا متفقہ فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مطلوبہ دستاویزات پر دستخط کر کے پاکستان اس تنظیم کو مستقل رکن بن جائے گا۔

پاکستان اور بھارت کی ایس سی او میں مستقل شمولیت کے بعد دونوں ممالک کو دیگر رکن ممالک کی طرح ایک دوسرے کو سہولیا ت مہیا کرنی ہوں گی۔ کیا پاکستان بھارت کو راہداری تجارت کے لیے سہولت دے گا اور کیا دونوں ممالک دہشتگردی سے متعلق ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کریں گے؟ اس سوال کے جواب میں سرتاج عزیز نے کوئی دو ٹوک مؤقف اپنانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ "ہم دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے لیے دیرینہ مفاہمت ہے اور ہم تمام حل طلب مسائل پر بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں تو دیکھتے ہیں کہ یہ عمل(مستقل رکنیت کا) کیسے شروع ہوتا ہے۔"

انہوں نے ایس سی اومیں شامل ممالک اہم ممالک روس کے صدر ولادی میر پوٹن، چین کے وزیراعظم شی جن پنگ اور افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کی ملاقاتوں کو انتہائی اہم قرار دیا۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کے ساتھ ملاقات میں کشمیر کے تنازعے پر تبادلہ خیال کیا اور بھارتی قیادت پر واضح کیا کہ کشمیر پر بات کیے بغیر بھارت کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے جا سکتے۔

Indien Narendra Modi trifft Nawaz Sharif in Neu-Dheli 27.05.2014
تصویر: Reuters

انہوں نے کہا کہ اس ملاقات کے بعد جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا اس میں بھی تمام حل طلب مسائل پر بات کرنے کا ذکر ہے اور پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے اہم حل طلب مسئلہ کشمیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دونوں سربراہان حکومت کے درمیان ملاقات کو مذاکرات کا آغاز نہیں کہا جا سکتا۔ ان کے بقول اس ملاقات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم کرنا اور باضابطہ مذاکرات کی جانب قدم بڑھانا ہے۔

سرتاج عزیز کے مطابق اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے غیر رسمی انداز میں اپنے مرضی کے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا اور وزیراعظم نواز شریف نے بھارتی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات اور بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے معاملات اٹھائے۔

ایک سوال کے جواب میں سرتاج عزیز نے اس تاثر کو رد کیا کہ پاک بھارت وزراء اعظم کی ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیے میں پاکستان نے معذرت خواہانہ رویہ اپنایا ۔

بنگلہ دیش کی پاکستان سے علیحدگی میں بھارتی مداخلت کا معاملہ اقوام متحدہ میں لے جانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں سرتاج عزیز نے کہا "یہ اس پر منحصر ہو گا کہ دونوں سلامتی کے مشیروں میں ملاقات میں کیا پیشرفت ہوتی ہے "۔

انہوں نے کہا کہ بعض دوست ممالک کی مداخلت کی وجہ سے پاک بھارت سربراہان میں ملاقات ہوئی ہے اور اگر دوست ملکوں کی یہ دلچسپی جاری رہی تو پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی بحالی ممکن ہو سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں کو ایس سی او کے مستقل ارکان کا درجہ ملنا اس لحاظ سے اہم پیشرفت ہے کہ دونوں ممالک کی قیادت کو بات چیت کے لیے ایک مؤثر علاقائی فورم دستیاب ہو گا۔