1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سینیئر کھلاڑیوں کو ذمہ داری اٹھانا پڑے گی، سرفراز احمد

24 مئی 2018

پاکستان اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز شروع ہو گئی ہے۔ پہلے ٹیسٹ میچ سے قبل پاکستانی ٹیم کے کپتان نے کہا ہے کہ سینیئر کھلاڑیوں کو احساسِ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

https://p.dw.com/p/2yFCX
Lord's Cricket Ground Pavilion Stand London
تصویر: Getty Images

لندن کے تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ پر پاکستانی ٹیم کے کپتان سرفرار احمد نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انگلستان کی ٹیم کے ساتھ دونوں میچوں میں ضرورت اس بات کی ہو گی کہ ٹیم کے سینیئر کھلاڑی کس انداز میں اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اننگز میں مناسب کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

سرفراز احمد نے مزید کہا کہ انگلینڈ کے خلاف دونوں ٹیسٹ میچوں میں سینیئر کھلاڑیوں کو سامنے آ کر ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا ہو گا، جس کی وجہ سے ٹیم ایک بڑا اسکور کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ سرفراز احمد کے مطابق ٹیم کا مورال بہت بلند ہے اور موجودہ ٹیم کو حقیقت میں انگلینڈ کی ٹیم کا سامنا کرتے ہوئے ایک بڑے چیلج کا سامنا ہے۔

ان کے خیال میں نوجوان کھلاڑیوں کی آئرلینڈ کے میچ میں شاندار کارکردگی سے بھی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ سرفراز نے خاص طور پر نئے افتتاحی بیٹسمین امام الحق کی تعریف کی۔

پاکستانی ٹیم کے کپتان نے واضح کیا کہ آئرلینڈ کے خلاف دوسری اننگز میں امام الحق نے جس ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، وہ یقینی طور پر قابلِ تعریف ہے۔ پاکستانی ٹیم کے کپتان نے انگلینڈ کی ٹیم کے تجربہ کار تیز بالروں کی خاص طور پر تعریف کی۔

Cricket Pakistan - West Indies
پاکستانی کرکٹ ٹیم میں کئی کھلاڑی کم تجربے کے حامل ہیںتصویر: Getty Images/AFP/M. Ralston

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور موجودہ سلیکشن کمیٹی کے سربراہ انضمام الحق کے بھتیجے امام الحق کی ٹیم میں سلیکشن پر کئی حلقوں نے نکتہ چینی کی تھی لیکن آئرلینڈ کے خلاف میچ جیتنے والی پرفارمنس سے ایسے تمام ناقد خاموش ہو چکے ہیں۔ انہوں نے دوسری اننگز میں چوہتر رنز ناٹ آؤٹ بنائے تھے۔

دوسری جانب پاکستان کے سابق کرکٹر اور مبصرین بھی موجودہ ٹیم کے سینیئر کھلاڑیوں سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کر رہے ہیں۔ سینیئر کھلاڑیوں سے مراد خاص طور پر اظہر علی، اسد شفیق، سرفراز احمد اور محمد عامر ہیں۔

ایک روز قبل پاکستانی ٹیم کے سابق کوچ اور کپتان وقار یونس نے بھی لندن کے دورے پر پہنچی ہوئی ٹیم کے دو کھلاڑیوں اظہر علی اور اسد شفیق سے خاص طور انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کا کہا ہے۔ یونس کے مطابق ان کھلاڑیوں کے کریز پر کھڑے ہونے سے دوسرے نوجوان کھلاڑی بہتر اسکور کرنے کی پوزیشن میں ہوں گی۔

دو سال قبل پاکستان کی ٹیم نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ سیریز دو دو سے برابر ختم کی تھی۔ جمعرات چوبیس مئی سے شروع ہونے والے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کی ٹیم کے کپتان نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں