1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سعودی عرب اور ایران کے درمیان براہ راست بات چیت

18 اپریل 2021

سعودی عرب اور ایران کے اعلیٰ حکام کے درمیان براہ راست ملاقات ہوئی ہے جس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ کے شکار تعلقات کی بحالی کی کوشش ہے۔ تعلقات منقطع کرنے کے چار سال بعد یہ اولین براہ راست ملاقات ہوئی ہے۔

https://p.dw.com/p/3sBf2
Flagge Iran und Saudi-Arabien als Wandgemälde
تصویر: daniel0Z/Zoonar/picture alliance

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق سعودی عرب اور ایران کے سینیئر حکام کی یہ ملاقات نو اپریل کو عراقی دارالحکومت بغداد میں ہوئی اور اس میں متعدد اہم امور پر گفتگو ہوئی۔

فنانشل ٹائمز نے اس معاملے کے بارے میں معلومات رکھنے والے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا یہ پہلا راؤنڈ تھا، جس میں حوثی باغیوں کی طرف سے سعودی عرب پر کیے جانے والے میزائل اور ڈرون حملوں کے معاملے پر بھی بات ہوئی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سعودی حکام کی طرف سے اس ملاقات کے بارے میں کوئی ردعمل نہیں دیا گیا جبکہ ایرانی حکام بھی اس پر بات کرنے کے لیے دستیاب نہیں ہوئے۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق تاہم ایک سینیئر سعودی اہلکار نے ایران کے ساتھ بات چیت کی خبر کی نفی کی ہے۔

Österreich | Wien | Atomgespräche Iran
سعودی عرب اور ایران کے درمیان براہ راست ملاقات کی یہ خبر ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب واشنگٹن حکومت ایران کے ساتھ 2015ء میں طے پانے جوہری معاہدے میں واپسی کے حوالے سے پیشرفت ہو رہی۔ تصویر: EU Delegation in Vienna/Handout/AA/picture alliance

چار سال سے منقطع سفارتی تعلقات

خیال رہے کہ چار برس قبل سعودی عرب اور ایران نے ایک دوسرے کے ساتھ سفارتی روابط ختم کر دیے تھے اور اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان اس سطح کا یہ پہلا رابطہ تھا۔ اس حوالے سے یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی نے گزشتہ ماہ کے آخر میں سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔ برطانوی اخبار کے مطابق اس ملاقات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی اور تعلقات میں بہتری کی کوشش ہے۔

ایرانی جوہری معاہدہ اور سعودی نقطہ نظر

سعودی عرب اور ایران کے درمیان براہ راست ملاقات کی یہ خبر ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب واشنگٹن حکومت ایران کے ساتھ 2015ء میں طے پانے جوہری معاہدے میں واپسی کے حوالے سے پیشرفت ہو رہی۔ سعودی حکومت اس جوہری معاہدے کی مخالف رہی ہے۔ دوسری طرف واشنگٹن نے ریاض حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ یمنی تنازعے کے خاتمے کی راہ ہموار کرے کیونکہ امریکا اسے ایران اور سعودی عرب کی پراکسی جنگ سمجھتا ہے۔

ریاض حکومت ایران کے جوہری معاہدے کے حوالے سے سخت ضوابط کی حامی ہے ساتھ ہی اس کا مؤقف ہے کہ اس حوالے سے بات چیت میں خلیجی عرب ممالک کو بھی شامل کیا جائے اور ایران کے جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ اس کے میزائل پروگرام کو بھی اس معاہدے کا حصہ بنایا جائے۔

ا ب ا / ع ت (روئٹرز، فنانشل ٹائمز)