1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سزائے موت کے خلاف آسیہ بی بی کی آخری اپیل کی سماعت آج

8 اکتوبر 2018

پاکستانی سپریم کورٹ توہین مذہب کے جرم میں سزائے موت کا حکم پانے والی آسیہ بی بی کی آخری اپیل کی سماعت آج آٹھ اکتوبر کو کر رہی ہے۔ آسیہ بی بی کو پیغمبر اسلام کی توہین کے جرم میں سزائے موت کا حکم 2010ء میں سنایا گیا تھا۔

https://p.dw.com/p/3691S
آسیہ بی بیتصویر: picture-alliance/dpa

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق آسیہ بی بی کے وکیل صفائی سیف الملوک نے آج کی سماعت سے قبل کہا کہ انہیں امید ہے کہ آسیہ بی بی سزائے موت کے فیصلے کے خلاف اپنی اس آخری قانونی اپیل میں کامیاب رہیں گی۔ سیف الملوک کے مطابق اگر ایسا نہ ہوا اور پاکستان کی مسیحی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے اس خاتون کی یہ آخری اپیل بھی مسترد کر دی گئی، تو وہ نظر ثانی کی درخواست دائر کریں گے، جس کے مکمل ہونے میں ممکنہ طور پر مزید کئی سال لگ سکتے ہیں۔ سیف الملوک نے اتوار سات اکتوبر کی رات نیوز ایجنسی اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے 100 فیصد یقین ہے کہ آسیہ بی بی کو بری کر دیا جائے گا۔ ان کا کیس بہت مضبوط ہے۔‘‘

Saif ul Malook
آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوکتصویر: DW/S.M. Baloch

اے پی نے اس مقدمے کے پس منظر کے بارے میں لکھا ہے کہ 2009ء کے ایک گرم دن، جب آسیہ بی بی اور اس کی چند ساتھی زرعی کارکن خواتین کھیتوں میں کام کر رہی تھیں، وہ سب کے لیے پینے کا پانی لینے گئی اور اس نے مبینہ طور پر ایک ایسے برتن سے پانی نکال کر پی لیا، جو مسلم خواتین کے پینے کے لیے وہاں رکھا ہوا تھا۔ اس پر وہاں موجود افراد نے مبینہ طور پر آسیہ بی بی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنا مذہب بدل کر مسلمان ہو جائے۔ جب آسیہ نے انکار کیا، تو مقامی افراد کے ایک مشتعل ہجوم نے پانچ روز بعد اس پر توہین مذہب کا الزام عائد کر دیا تھا۔

ان واقعات کے بعد آسیہ بی بی کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور پھر اس کے خلاف مقدمے کی سماعت ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں اسے پیغمبر اسلام کی توہین کے جرم میں سزائے موت سنا دی گئی تھی۔ اس بارے میں آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک نے اے پی کو بتایا کہ پیر آٹھ اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے دوران وہ پاکستانی سپریم کورٹ کی توجہ ان تضادات کی طرف دلوائیں گے، جو اس مقدمے میں آسیہ بی بی کے خلاف گواہوں کے بیانات میں پائے جاتے ہیں۔

سیف الملوک نے یہ بھی کہا کہ اس آخری اپیل کی سماعت کے دوران وہ عدالت کو اس بات کا قائل کرنے کی کوشش بھی کریں گے کہ اس مقدمے میں آسیہ بی بی کے خلاف بیانات دینے والے گواہ اسلامی قوانین کے تقاضوں کے برعکس ’پاکباز‘ نہیں تھے۔

آسیہ بی بی کو اس کے خلاف مقدمے میں سنائے جانے والے سزائے موت کے عدالتی حکم پر پاکستان میں اور بیرون ملک بھی سخت تنقید کی گئی تھی۔ بہت سے حلقوں کا الزام ہے کہ توہین مذہب کے موجودہ پاکستانی قانون کو کئی انتہا پسند مذہبی حلقوں کی طرف سے اکثر مذہبی بنیادوں پر نفرت اور ذاتی دشمنیاں نمٹانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

م م / ا ب ا / اے پی

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید