1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سابق مصری آمر حسنی مبارک کی رحلت

25 فروری 2020

مصر کے سابق فوجی آمر صدر محمد حسنی مبارک طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔ وہ مصر پر تیس برس سے زائد عرصے تک حکومت کرتے رہے تھے۔

https://p.dw.com/p/3YOBP
Ägypten Anwar Sadat und Husni Mubarak
حسنی مبارک ایئر فورس کے سربراہ کی وردی میں، سابق صدر انور السادات کے ہمراہتصویر: picture-alliance/AP Photo/B. Foley

مصر کے منصب صدارت پر تیس برس سے زائد عرصے تک براجمان رہنے والے محمد حسنی مبارک نے یہ عہدہ صدر انورالسادات کے قتل ہونے کے بعد سنبھالا تھا۔ وہ مصر کے چوتھے صدر تھے۔ رحلت کے وقت اُن کی عمر تقریباً اکانوے برس تھی۔ مقتول صدر انورالسادات کے دور میں وہ نائب صدر اور وزیر اعظم بھی رہے۔

مصر میں سن 2011 میں ہونے والے شدید مظاہروں کے بعد حُسنی مبارک کو اپنے اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔ عرب اسپرنگ نامی عوامی تحریکوں کے سلسلے میں اقتدار کی محرومی کے بعد وہ پہلے ایسے حکمران تھے، جنہیں عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ عرب اسپرنگ کی وجہ سے مصر کے علاوہ تیونس میں بھی کئی دہائیوں تک برسراقتدار آمر زین العابدین بن علی کو حکومت چھوڑ کر ملک سے بھاگنا پڑا تھا۔

حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران 850 کے قریب افراد ہلاک اور چھ ہزار سے زائد زخمی ہو ئے تھے۔ اُن پر سب سے پہلا مقدمہ عوامی تحریک کے دوران بے گنا افراد پر گولیاں چلانے کا بنایا گیا تھا۔ انہیں کرپشن الزامات کے مقدمات کا بھی سامنا رہا۔

Ägypten Ex-räsident Mubarak Maadi Militärkrankenhaus
مرحوم حسنی مبارک کی سن 2016 میں لی گئی ایک تصویرتصویر: picture-alliance/AP Photo/A. nabil

 سن 2015 میں اعلیٰ عدالت نے مبارک، ان کے بیٹوں اور ان کے بزنس پارٹنز پر عائد بدعنوانی کے الزامات کو بھی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مبارک کو بدعنوانی کے ایک اور مقدمے میں جرائم ثابت ہونے پر تین سال کی سزائے قید بھی سنائی گئی تھی، جسے بعد میں موقوف کر دیا گیا تھا۔ حسنی مبارک علالت کی وجہ سے ملٹری ہسپتال میں زیر علاج رہے۔

صدارت سے علیحدگی کے بعد حسنی مبارک میڈیا سے دور رہے۔ انہیں عدالت میں ملزمان کے چیمبر میں بیٹھے دکھایا گیا۔ سن 2014 میں انہوں نے کویتی صحافی فجر السعید کو انٹرویو دیتے ہوئے اُس وقت کی فوج کے کمانڈر عبدالفتاح السیسی (موجودہ صدر) پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ملک کی صدارت سنبھالنے کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ عوام السیسی کو صدر دیکھنا چاہتے ہیں اور عوامی خواہش پوری ہو کر رہے گی۔

حسنی مبارک کو صحت کے مختلف عوارض کا بھی سامنا رہا۔ سن 2011 میں مصری انٹیلیجنس ذرائع نے بتایا تھا کہ وہ معدے یا لبلبہ کے کینسر میں مبتلا ہیں لیکن خبر عام ہونے پر مصری حکومت نے تردید کی تھی۔ اقتدار سے علیحدگی کے بعد انہیں شدید ڈیپریش لاحق رہا۔ عارضہ قلب میں بھی مبتلا تھے۔ فوجی ہسپتال کے طہارت خانے میں گرنے سے ٹانگ کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی۔ وہ پچیس فروری سن 2020 کو ان تمام علالتوں سے نجات پاتے ہوئے انتقال کر گئے۔

ع ح ⁄ ع ا (اے پی، روئٹرز)