1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

دہلی: شہریت ترمیمی قانون کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپیں

24 فروری 2020

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں شہریت ترمیمی قانون کے مخالفین اور اس کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

https://p.dw.com/p/3YI02
Indien Proteste gegen Änderung Gesetz zur Staatsbürgerschaft
تصویر: Manisha Mondal/The Print

بھارتی دارالحکومت دہلی کے متعدد علاقوں میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان دوسرے روز بھی پر جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں ایک کانسٹیبل کے ہلاک ہونے اور ایک ڈی ایس پی سمیت متعدد افراد کے زخمی ہوئے ہیں۔

پیر 24 فروری کو شمال مغربی دہلی کے بھجن پورہ میں بھی شہریت ترمیمی قانون کے حامیوں اور اس کے خلاف مظاہرین کے درمیان پر تشدد جھڑپیں ہوئیں جبکہ  شمال مشرقی دہلی کے جعفرآباد علاقے میں تشدد کا جو سلسہ کل شروع ہوا تھا وہ پیر کو بھی جاری رہا۔

جعفرآباد اور موج پور میں پرتشدد مظاہروں کے دوران کئی گاڑیوں، دکانوں اور ایک پیٹرول پمپ کو نذر آتش کر دیا گيا۔ پولیس نے مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ متعدد زخیموں کو ہسپتال میں داخل کیا گيا ہے۔ دونوں گروہوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ بھی کیا۔ حکام ان علاقوں میں میٹرو ریل سروس معطل کر دی ہے۔

Indien Neu Delhi | Protest gegen Staatsbürgerschaftsgesetz | CAB, CAA
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف بھارت کی تمام اقلیتیں یکجا ہیںتصویر: DW/A. Ansari

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اور گورنر انیل بیجل نے لوگوں سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ اس تشدد کا سلسلہ گزشتہ روز جعفرآباد علاقے سے شروع ہوا تھا جہاں خواتین کا ایک بڑا گروپ کئی ہفتوں سے شہریت ترمیمی ایکٹ کی مخالفت میں دھرنے پر بیٹھا ہے۔ بی جے پی کے ایک رہنما نے اس علاقے میں اتوار کو متنازعہ قانون کی حمایت میں مظاہرہ کیا اور یہی جھڑپوں کا باعث بنا۔

دہلی میں بی جے پی کے رہنما کپل مشرا نے مظاہرے کی قیادت کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر پولیس نے شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کرنے والوں کے دھرنے کو تین روز کے اندر ختم نہیں کیا تو اسے برداشت نہیں کیا جائےگا اورپھر پولیس کی بھی نہیں سنی جائے گی۔

رکن پارلیمان اسد الدین اویسی کا کہنا ہے کہ دہلی میں ہونے والے فسادات کی وجہ بی جے پی رہنما کے اشتعال انگیز بیانات ہیں۔ انھوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا، "اب چونکہ پولیس کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت ہیں، سابق ایم ایل اے کو فوری طور پرگرفتار کرنا چاہیے اور اس سے پہلے کہ تشدد بے قابو ہوجائے اس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔"

یہ واقعات ایک ایسے وقت پیش آرہے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کے دورے پر ہیں۔ پچیس فروری منگل کو نئی دہلی میں صدارتی محل پر اُن کا روایتی خیر مقدم کیا جائے گا اور اس کے بعد دونوں ملکوں کے وفود کی سطح پر باہمی بات چیت ہوگی۔

’مودی کی حکومت ملک کو ایک ہندو ریاست بنانے کی کوشش میں‘